Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

137 - 627
٣  و لان المنجس اختلاط الدم المسفوح باجزائہ عند الموت،  حتی حل المذکی لانعدام الدم فیہ، ولا دم فیھا،  ٤  والحرمة لیست من ضرورتھا النجاسة کالطین  (٤٨) و موت ما یعیش فی الماء فیہ 

ترجمہ:  ٣  اور اسلئے کہ ناپاک کرنے والی چیز بہنے والے خون کا پانی کے اجزاء کے ساتھ ملنا ہے موت کے وقت  ۔اسی وجہ سے ذبح کیا ہوا حلال ہو جاتا ہے اس میں خون نہ ہو نے کی وجہ سے،اور ان جانوروں میں خون ہی نہیں ہے (اسلئے پانی میں اسکے مرنے سے پانی ناپاک نہیں ہو گا )۔
تشریح:  یہ دلیل عقلی ہے ۔کہ پانی کو ناپاک کرنے والی چیز بہتا ہوا خون ہے کہ جب وہ مرتا ہے تو بہتا ہوا خون پانی کے اجزاء میں مل کر اسکو ناپاک کر دیتا ہے ،اور ان کیڑے مکوڑوں میں خون ہی نہیں ہو تا اسلئے اسکے مرنے سے پانی ناپاک نہیں ہو گا ۔جیسے بڑے جانوروں میں خون ہو تا ہے لیکن ذبح کر کے خون نکال دیا جائے توخون نہ ہو نے کی وجہ سے جانور کا گوشت پاک ہو جاتا ہے  ۔  
ترجمہ:  ٤    اور کھانا حرام ہو نے کے لئے ضروری نہیں ہے کہ وہ ناپاک ہو ،جیسے مٹی ۔
تشریح:  یہ امام شافعی  کو جواب ہے ۔انکی دلیل تھی کہ کرامت کی وجہ سے حرام نہ ہو تو یہ نجاست کی دلیل ہے ۔اسکا جوب یہ ہے کہ مٹی کا کھانا حرام ہے حالانکہ وہ ناپاک نہیں ،اس سے معلوم ہوا کہ کیڑوں کا کھانا حرام ہے لیکن وہ مٹی کیطرح ناپاک نہیں ہیں ۔ 
لغت :   نفس سائلة  :  بہتا ہوا خون۔  البق  :  مچھر۔  الذباب  : مکھی ۔  الزنابیر  :  بھڑ۔  العقارب  :  بچھو،عقرب کی جمع ہے۔دود : کیڑا ۔دود النحل : شہد کی مکھیاں ۔سوس : کیڑا ۔منجس : ناپاک کرنے والی چیز ۔مسفوح : بہنے والا خون ۔المذکی : ذکی سے مشتق ہے ذبح کیا ہوا ۔الطین : مٹی ۔ 
ترجمہ:  (٤٨)  مرنا اایسے جانور کا جو پانی میں زندگی گزارتا ہوپانی کو ناپاک نہیں کرتی ہے جیسے (١) مچھلی (٢) مینڈک (٣) کیکڑا ۔
 تشریح:  جو جانور پانی ہی میں رہتا ہو وہ تھوڑے پانی میں مر جائے تو اس سے پانی ناپاک نہیں ہو گا ،چاہے وہ جانور کھایا جاتا ہو یانہ کھایا جا تا ہو۔  
وجہ :    (ا)جو جانور پانی میں پیدا ہوتا ہے اور اسی میں زندگی گزارتا ہے اس میں بہتا ہوا خون نہیں ہوتا ۔کیونکہ بہتا ہوا خون رہے گا تو پانی کے اندر ہی نہیں رہ سکے گا۔ اور وہ جو تھوڑا بہت خون نظر آتا ہے وہ مکمل خون نہیں ہے ۔خون کی خاصیت یہ ہے کہ اس کو دھوپ میں رکھو تو وہ کالا سا ہو جائے گا۔ اور دریائی جانور کے خون کو دھوپ میں رکھو تو وہ سفید ہو جاتا ہے۔ اس لئے وہ مکمل خون ہی نہیں ہے۔اور مسئلہ نمبر ٤٠ میں تفصیل سے گزر چکا ہے کہ جس جانور میں بہتا ہوا خون نہیں ہے اس کے مرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا ہے۔(٢) عن ابی ھریرة قال رسول اللہ ۖ ھو الطھور ماء ہ و الحل میتتہ ۔(ترمذی شریف، باب ماجاء فی ماء البحر 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter