٣ و لان المنجس اختلاط الدم المسفوح باجزائہ عند الموت، حتی حل المذکی لانعدام الدم فیہ، ولا دم فیھا، ٤ والحرمة لیست من ضرورتھا النجاسة کالطین (٤٨) و موت ما یعیش فی الماء فیہ
ترجمہ: ٣ اور اسلئے کہ ناپاک کرنے والی چیز بہنے والے خون کا پانی کے اجزاء کے ساتھ ملنا ہے موت کے وقت ۔اسی وجہ سے ذبح کیا ہوا حلال ہو جاتا ہے اس میں خون نہ ہو نے کی وجہ سے،اور ان جانوروں میں خون ہی نہیں ہے (اسلئے پانی میں اسکے مرنے سے پانی ناپاک نہیں ہو گا )۔
تشریح: یہ دلیل عقلی ہے ۔کہ پانی کو ناپاک کرنے والی چیز بہتا ہوا خون ہے کہ جب وہ مرتا ہے تو بہتا ہوا خون پانی کے اجزاء میں مل کر اسکو ناپاک کر دیتا ہے ،اور ان کیڑے مکوڑوں میں خون ہی نہیں ہو تا اسلئے اسکے مرنے سے پانی ناپاک نہیں ہو گا ۔جیسے بڑے جانوروں میں خون ہو تا ہے لیکن ذبح کر کے خون نکال دیا جائے توخون نہ ہو نے کی وجہ سے جانور کا گوشت پاک ہو جاتا ہے ۔
ترجمہ: ٤ اور کھانا حرام ہو نے کے لئے ضروری نہیں ہے کہ وہ ناپاک ہو ،جیسے مٹی ۔
تشریح: یہ امام شافعی کو جواب ہے ۔انکی دلیل تھی کہ کرامت کی وجہ سے حرام نہ ہو تو یہ نجاست کی دلیل ہے ۔اسکا جوب یہ ہے کہ مٹی کا کھانا حرام ہے حالانکہ وہ ناپاک نہیں ،اس سے معلوم ہوا کہ کیڑوں کا کھانا حرام ہے لیکن وہ مٹی کیطرح ناپاک نہیں ہیں ۔
لغت : نفس سائلة : بہتا ہوا خون۔ البق : مچھر۔ الذباب : مکھی ۔ الزنابیر : بھڑ۔ العقارب : بچھو،عقرب کی جمع ہے۔دود : کیڑا ۔دود النحل : شہد کی مکھیاں ۔سوس : کیڑا ۔منجس : ناپاک کرنے والی چیز ۔مسفوح : بہنے والا خون ۔المذکی : ذکی سے مشتق ہے ذبح کیا ہوا ۔الطین : مٹی ۔
ترجمہ: (٤٨) مرنا اایسے جانور کا جو پانی میں زندگی گزارتا ہوپانی کو ناپاک نہیں کرتی ہے جیسے (١) مچھلی (٢) مینڈک (٣) کیکڑا ۔
تشریح: جو جانور پانی ہی میں رہتا ہو وہ تھوڑے پانی میں مر جائے تو اس سے پانی ناپاک نہیں ہو گا ،چاہے وہ جانور کھایا جاتا ہو یانہ کھایا جا تا ہو۔
وجہ : (ا)جو جانور پانی میں پیدا ہوتا ہے اور اسی میں زندگی گزارتا ہے اس میں بہتا ہوا خون نہیں ہوتا ۔کیونکہ بہتا ہوا خون رہے گا تو پانی کے اندر ہی نہیں رہ سکے گا۔ اور وہ جو تھوڑا بہت خون نظر آتا ہے وہ مکمل خون نہیں ہے ۔خون کی خاصیت یہ ہے کہ اس کو دھوپ میں رکھو تو وہ کالا سا ہو جائے گا۔ اور دریائی جانور کے خون کو دھوپ میں رکھو تو وہ سفید ہو جاتا ہے۔ اس لئے وہ مکمل خون ہی نہیں ہے۔اور مسئلہ نمبر ٤٠ میں تفصیل سے گزر چکا ہے کہ جس جانور میں بہتا ہوا خون نہیں ہے اس کے مرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا ہے۔(٢) عن ابی ھریرة قال رسول اللہ ۖ ھو الطھور ماء ہ و الحل میتتہ ۔(ترمذی شریف، باب ماجاء فی ماء البحر