لا یفسد کالسمک، و الضفدع، و السرطان) ١ وقال الشافعی یفسدہ الاالسمک لمامر
٢ ولناانہ مات فی معدنہ فلایعطی لہ حکم النجاسةکبیضةحال محھا دماً ٣ ولانہ لادم فیھا اذالدموی لایسکن فی المائ،والدم ھوالنجس ٤ وفی غیرالماء قیل غیرالسمک یفسدہ لانعدام المعدن، وقیل
انہ طھور ص ٢١ نمبر ٦٩ابو داود ،باب الوضوء بماء البحر ،ص ١٣نمبر ٨٣) سمندر کا میتہ حلال ہے سے استدلال کیا جا سکتا ہے کہ کھانا تو حلال نہیں ہے لیکن اس کے مردے میں خون نہیں ہوتا اس لئے اس کے مرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوگا ۔
ترجمہ : ١ امام شافعی نے فرمایا کہ پانی کوناپاک کر دے گا سواے مچھلی کے اس دلیل کی وجہ سے جو اوپر گزر چکی ۔
تشریح: امام شافعی کی اصل روایت تو یہی ہے کہ سمندر میں رہنے والے جانور کے مرنے سے پانی ناپاک نہیں ہو گا ۔موسوعة میں عبارت یہ ہے۔ و لو وقع حوت میت فی ماء قلیل او جرادة میتة لم ینجس لانھما حلال میتین ،و کذا لک کل ماکان من ذوات الارواح مما یعیش فی الماء ۔(موسوعة ،باب الماء الراکد ،ج اول ،ص ١٤ نمبر ٣٣ ) اس عبارت میں ہے کہ سمندر میں رہنے والے جانور کے مرنے سے پانی ناپاک نہیں ہو گا ۔دوسری روایت ہے کہ مچھلی کے علاوہ دوسرے جانورکے مرنے سے پانی ناپاک ہو جائے گا ۔انکی اوپر والی دلیل عقلی ہے کہ اسکا کھانا حرام ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ نا پاک ہے اور وہ پانی کو بھی ناپاک کردیگا ۔اور مچھلی کے مرنے سے اسلئے ناپاک نہیں ہو گا کہ مچھلی حلال ہے ،اور پانی کی حلال چیز کے مرنے سے پانی ناپاک نہیں ہو تا ۔
ترجمہ: ٢ اور ہماری دلیل یہ کہ سمندر کا جانور اپنے رہنے کی جگہ میں مرا ہے اسلئے اسکو ناپاکی کا حکم نہیں دیا جاے گا،جیسے انڈے کی زردی خون میں بدل جاے ،(تو وہ ناپاک نہیں ہو تی )
تشریح: یہ دلیل عقلی ہے کہ دریائی جانور اپنے رہنے کی جگہ میں مرا ہے اسلئے اسکو ناپاک قرار نہ دیا جائے جیسے انڈے کی زردی بدل کر خون بن جائے تو وہ ناپاک نہیں ہے کیوںکہ وہ اپنے رہنے کی جگہ میں خون بنی ہے اسی طرح دریائی جانور اپنے معدن اور مسکن یعنی پانی میں مر جائے تو اس سے پانی ناپاک نہیں ہو گا ۔
ترجمہ: ٣ اور اسلئے بھی کہ اس میں خون نہیں ہے ،اسلئے کہ خون والا جانور پانی میں نہیں رہ سکتا ،اور خون ہی ناپاک ہے ۔
تشریح: پہلے گزر چکا ہے کہ خون والا جانور پانی میں نہیں رہ سکتا ۔اور جب خون نہیں ہے تو اسکے مرنے سے پانی ناپاک نہیںہوگا۔
ترجمہ: ٤ اور پانی کے علاوہ میں بعض نے کہا کہ مچھلی کے علاوہ ناپاک کر دے گا اسلئے کہ مسکن نہیں ہے ۔اور بعض نے فرمایا کہ ناپاک نہیں کرے گا اسلئے کہ خون نہیں ہے اور یہی صحیح ہے ۔