Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

138 - 627
لا یفسد کالسمک،  و الضفدع، و السرطان)  ١ وقال الشافعی یفسدہ الاالسمک لمامر
٢  ولناانہ مات فی معدنہ فلایعطی لہ حکم النجاسةکبیضةحال محھا دماً ٣  ولانہ لادم فیھا اذالدموی لایسکن فی المائ،والدم ھوالنجس ٤ وفی غیرالماء قیل غیرالسمک یفسدہ لانعدام المعدن، وقیل 

انہ طھور ص ٢١ نمبر ٦٩ابو داود ،باب الوضوء بماء البحر ،ص ١٣نمبر ٨٣) سمندر کا میتہ حلال ہے سے استدلال کیا جا سکتا ہے کہ کھانا تو حلال نہیں ہے لیکن اس کے مردے میں خون نہیں ہوتا اس لئے اس کے مرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوگا ۔
ترجمہ :  ١  امام شافعی نے فرمایا کہ پانی کوناپاک کر دے گا سواے مچھلی کے اس دلیل کی وجہ سے جو اوپر گزر چکی ۔
تشریح:   امام شافعی  کی اصل روایت تو یہی ہے کہ سمندر میں رہنے والے جانور کے مرنے سے پانی ناپاک نہیں ہو گا ۔موسوعة میں عبارت یہ ہے۔ و لو وقع حوت میت فی ماء قلیل او جرادة میتة لم ینجس لانھما حلال میتین ،و کذا لک کل ماکان من ذوات الارواح مما یعیش فی الماء ۔(موسوعة ،باب الماء الراکد ،ج اول ،ص ١٤ نمبر ٣٣ ) اس عبارت میں ہے کہ سمندر میں رہنے والے جانور کے مرنے سے پانی ناپاک نہیں ہو گا ۔دوسری روایت ہے کہ مچھلی کے علاوہ  دوسرے جانورکے مرنے سے پانی ناپاک ہو جائے گا ۔انکی اوپر والی دلیل عقلی ہے کہ اسکا کھانا حرام ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ نا پاک ہے اور وہ پانی کو بھی ناپاک کردیگا ۔اور مچھلی کے مرنے سے اسلئے ناپاک نہیں ہو گا کہ مچھلی حلال ہے ،اور پانی کی حلال چیز کے مرنے سے پانی ناپاک نہیں ہو تا ۔
ترجمہ:  ٢  اور ہماری دلیل یہ کہ سمندر کا جانور اپنے رہنے کی جگہ میں مرا ہے اسلئے اسکو ناپاکی کا حکم نہیں دیا جاے گا،جیسے انڈے کی زردی خون میں بدل جاے ،(تو وہ ناپاک نہیں ہو تی ) 
تشریح:  یہ دلیل عقلی ہے کہ دریائی جانور اپنے رہنے کی جگہ میں مرا ہے اسلئے اسکو ناپاک قرار نہ دیا جائے جیسے انڈے کی زردی بدل کر خون بن جائے تو وہ ناپاک نہیں ہے کیوںکہ وہ اپنے رہنے کی جگہ میں خون بنی ہے اسی طرح دریائی جانور اپنے معدن اور مسکن  یعنی پانی میں مر جائے تو اس سے  پانی ناپاک نہیں ہو گا ۔
ترجمہ:  ٣   اور اسلئے بھی کہ اس میں خون نہیں ہے ،اسلئے کہ خون والا جانور پانی میں نہیں رہ سکتا ،اور خون ہی ناپاک ہے ۔
تشریح:  پہلے گزر چکا ہے کہ خون والا جانور پانی میں نہیں رہ سکتا ۔اور جب خون نہیں ہے تو اسکے مرنے سے پانی ناپاک نہیںہوگا۔
ترجمہ:  ٤  اور پانی کے علاوہ میں بعض نے کہا کہ مچھلی کے علاوہ ناپاک کر دے گا اسلئے کہ مسکن نہیں ہے ۔اور بعض نے فرمایا کہ ناپاک نہیں کرے گا اسلئے کہ خون نہیں ہے اور یہی صحیح  ہے ۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter