(٤٧) قال (القدوری) و موت مالیس لہ نفس سائلة فی الماء لا ینجسہ کالبق، و الذباب، والزنابیر، والعقرب، و نحوھا)
زمانے میں ناپنے کے لئے دو قسم ہاتھ استعمال ہوتے تھے ،ایک قسم کے ہاتھ سے کپڑا ناپتے تھے ،جسکو ذراع الکرباس کہتے تھے یہ چھ قبضے کا ہو تا تھا ،اور ایک قبضہ چار انگلیوں کا ہو تا ہے اس اعتبار سے چھ قبضے چوبیس (24) انگلیوں کے ہوئے ،گویاکہ ہاتھ دو بالشت کا ہوا جو اٹھارہ (18) انچ کا ہوتا ہے یا ,45.72سینٹی میٹر کا ہو تا ہے ۔رد المحتار میں اسکی تصریح اس طرح ہے و فی البحر ۔۔أن فی کثیر من الکتب أنہ ست قبضات لیس فوق کل قبضة أصبع قائمة فھو أربع و عشرون أصبعا .....و ھو قریب من ذراع الید ،لانہ ست قبضات و شیء ،و ذالک شبران ۔( رد المحتار ، باب المیاہ ،مطلب فی مقدار الذراع و تعیینہ ، ج اول ،ص ٣٨٣ ) اس عبارت میں ہے کہ چوبیس انگلیوں کا ہاتھ ہو گا ،جو دو بالشت ہو گا ،اور آج کل کے زمانے کے اعتبار سے وہ ا ٹھارہ انچ کا ہو تا ہے ۔اور دوسرا ہاتھ تھا زمین ناپنے کے لئے ،یہ سات قبضے کا ہو تا تھا ،اسکو کسری کا ہاتھ بھی کہتے ہیں یہ اٹھائیس انگلیوں کا ہو گا اور اس زمانے کے اعتبار سے اکیس (21) انچ کا ہو گا ،یا (53.34) سینٹی میٹر کا ہو گا ۔رد المحتار میں اسکے لئے یہ عبارت ہے ۔و فی الخانیة و غیرھا : ذراع المساحة و ھو سبع قبضات فوق کل قبضة أصبع قائمة ۔( رد المحتار ،باب المیاہ ،مطلب فی مقدار الذراع و تعیینہ ،ج اول ،ص ٣٨٣ ) اس عبارت میں ہے کہ ذراع المساحة ، یعنی زمین ناپنے کاہا تھ سات قبضے کا ہو تا ہے۔العمق : گہرائی ۔ینحسر : زمین کا کھلنا ۔اغتراف : چلو بھر نا ، چلو سے پانی اٹھانا ۔
ترجمہ: (٤٧) اور پانی میں ایسا جانور کا مرنا جس میں بہتا ہوا خون نہ ہو پانی کو ناپاک نہیں کر تا جیسے (١) مچھر ،(٢) مکھی (٣) بھڑ (٤) بچھو ،وغیرہ ۔
تشریح: جس جانور میں بہتا ہوا خون نہیں ہے وہ پانی میں مر جائے تو پانی ناپاک نہیں ہو گا ۔جیسے مچھر وغیرہ
وجہ : (١) اصل میں بہتا ہوا خون ناپاک ہے اور ان جانوروں میں بہتا ہوا خون نہیں ہے۔اس لئے ان کے مرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوگا (٢) آیت میں ہے الا ان یکون میتة او دما مسفوحا (آیت ٤٥ سورة الانعام٦)اس آیت سے معلوم ہوا کہ بہتا ہوا خون ناپاک ہے اس لئے جس میںبہتا ہوا خون نہ ہو وہ ناپاک نہیں کرے گا(٣) حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ کھانے میں مکھی گر جائے تو کھانا ناپاک نہیں ہوتا ۔کیونکہ اس میں بہتا ہوا خون نہیں ہے عن ابی ھریرة ان رسول اللہ ۖ قال اذا وقع الذباب فی اناء احدکم فلیغمسہ کلہ ثم لیطرحہ فان فی احدی جناحیہ شفاء وفی الآخر دواء ۔(بخاری شریف، کتاب الطب، باب اذا وقع الذباب فی الاناء ص ٨٦٠ جلد ثانی نمبر ٥٧٨٢)حدیث میں پوری مکھی کو برتن میں ڈالنے کے لئے کہا۔ اگر مکھی سے کھانا یا پانی ناپاک ہوتا تو پوری مکھی کو کیسے ڈالنے کے لئے فرماتے (٤) دار قطنی میں ہے کہ جس جانور میں بہتا ہوا