Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

134 - 627
٥  وقولہ فی الکتاب جازالوضوء من الجانب الآخر اشارة الی انہ ینجس موضع الوقوع، و عن ابی یوسف  انہ لا ینجس الا بظھور النجاسة فیہ کالماء الجاری

پانی پاک رہے گا۔ ان کی دلیل حدیث قلتین ہے جو مسئلہ نمبر ٤٤ میں گزر گئی ۔
ترجمہ:  ٥  کتاب قدوری کا یہ جملہ کہ دوسری جانب سے وضو جائز ہے ۔اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نجاست گرنے کی جگہ ناپاک ہو گئی ۔لیکن امام ابویوسف  سے روایت ہے کہ نجاست گرنے کی جگہ ناپاک نہیں ہوگی مگر اس میں ناپاکی کے ظاہر ہونے سے جیسا کہ بہتے پانی میں ناپاکی ظاہر ہو تو ناپاک ہو تا ہے ۔
تشریح:  قدوری کے متن میں یہ کہا کہ جس کنارے میں ناپاکی گری ہے اسکی دوسری جانب وضو کرنا جائز ہے ۔اسکا مطلب یہ ہوا کہ جس کنارے پر ناپاکی گری ہے وہ کنارہ ناپاک ہو چکا ہے ،چاہے اس کنارے پر ناپاکی کا رنگ ظاہر نہ ہوا ہو  ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ ناپاکی وہاں گری ہے اسلئے وہ کنارہ ناپاک ہو گا چاہے ناپاکی کا رنگ نظر نہ آتا ہو ۔
اور امام ابو یوسف  فرماتے ہیں کہ نجاست والا کنارہ اس وقت تک ناپاک شمار نہیں کیا جائے گا جب تک کہ اسکا اثر ظاہر نہ ہو جائے۔انکی دلیل یہ کہ حدیث میں ہے کہ ماء کثیر میں جب تک اوصاف ثلاثہ میں سے ایک نہ ظاہر ہو جائے پانی ناپاک نہیں ہو گا ۔یہ حدیث گزر چکی ہے عن ابی امامہ الباھلی قال قال رسول اللہ ۖ ان الماء لاینجسہ شیء الا ماغلب علی ریحہ وطعمہ ولونہ۔(ابن ماجہ شریف، باب الحیاض ،ص٧٤،نمبر ٥٢١ )اس حدیث میں ہے کہ جب تک نجاست کی وجہ سے رنگ ،یا بو ،یا مزہ نہ بدل جائے وہ جگہ ناپاک نہیں ہو گی ۔اسلئے نجاست گرا ہوا کنارہ بھی ناپاک نہیں ہو گا ۔جیسے جاری پانی میں اوصاف ثلاثہ میں سے کوئی ایک وصف نہ بدلے تو پانی ناپاک نہیں ہو گا ۔ 
حاصل:  امام مالک  :کے نزدیک  تھوڑا پانی اور زیادہ پانی ایک ہی طرح ہیں ،یعنی دونوں کے  اوصاف ثلاثہ  میں سے ایک بدلے تب ناپاک ہو گا ورنہ نہیں ۔
امام شافعی  :کے نزدیک دو مٹکے پانی ہو تو وہ کثیر ہے اور اس سے کم ہو تو وہ قلیل ہے ۔یعنی ایک قطرہ بھی ناپاکی گرنے سے ناپاک ہو جائے گا ۔
امام ابو حنیفہ :کے نزدیک بڑا تالاب ہو تو کثیر ہے اور اس سے کم ہو تو قلیل ہے ۔پھر بڑے تالاب کے متعین کرنے میں اختلاف ہے۔(١) کسی نے غسل کی حرکت نہ پہنچنے کو بڑا تالاب کہا ۔(٢) کسی نے وضو کی حرکت نہ پہنچنے کو ۔(٣) اور کسی نے ہاتھ کی حرکت پہنچنے کو چھوٹا تالاب کہا ۔(٤) اور کسی نے دس ہاتھ لمبے اور دس ہاتھ چوڑے کو بڑا تالاب کہا ۔
لغت :   الغدیر : تالاب۔السرایة : سرایت کرنا ۔المساحة : پیمائش ،مسح سے مشتق ہے پونچھنا ۔ذراع الکرباس : پچھلے 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter