٤ و المعتبر فی العمق ان یکون بحال لا ینحسر بالاغتراف، ھو الصحیح،
حاصل ضرب کو چار سے تقسیم کر دیں تو جو حاصل تقسیم ہو گا وہ درھم کی پیٹھ ، یاپیٹ کا رقبہ ہو گا ۔ مثال مذکور میں درھم کا قطر 2,75سینٹی میٹر ہے اسلئے 2.75کو 2.75سے ضرب دیں حاصل ضرب 7.5625مربع سینٹی میٹر ہو گا ، پھر اسکو پائی 3.1416سے ضرب دیں ، حاصل ضرب 23.7583مربع سینٹی میٹر ہو گا ، پھر اسکو 4 سے تقسیم دے دیں حاصل تقسیم 5.93958مربع سینٹی میٹر ہو گا ، یہ درھم کی پیٹھ ، یا پیٹ کا رقبہ ہے نوٹ : ۔ یہ حساب آپکو نجاست غلیظہ کی پیمائش میں کام آئے گا ۔
دہ در دہ حوض کو گول حوض میں تبدیل کرنے کا حساب : ۔ اوپر دہ در دہ یعنی دس ہاتھ ہاتھ لمبا اور دس ہاتھ چوڑا حوض کے بارے میں بتایا کہ اس میں وضو جائز ہے لیکن اگر بڑا کنوا ں ہو یا گول حوض ہو تو اسکا حساب اس طرح ہو گا ۔کہ حوض کی لمبائی اور چوڑائی کو ضرب دیں حاصل ضرب کو پھر 4 سے ضرب دیں پھر اس حاصل ضرب کو پائی 3.1416سے تقسیم کریں پھر حاصل تقسیم کو برابر برابر میں تقسیم کر دیں تو گول کنویں کا قطر نکل جائے گا اور گول کنویں ، یا گول حوض کے قطر کو ناپ نے سے مسئلہ حل ہو جائے گا ۔ مثلا دس ہاتھ لمبا اور دس ہاتھ چوڑا حوض پندرہ فٹ لمبا اور پندرہ فٹ چوڑا ہو گا اسلئے کہ ایک ہاتھ ڈیڑ فٹ کا ہو تا ہے ۔ اور 15 کو 15 سے ضرب دیں تو 225مربع فٹ دہ در دہ حوض ہوا، پھر اسکو 4 سے ضرب دیں تو 900مربع فٹ ہوا اسکو اب پائی 3.1416 سے تقسیم دیں 286.478مربع فٹ ہوا ، اس حاصل تقسیم کو برابر برابر میں تقسیم کریں تو 16.9256فٹ گول حوض کا قطر ہو جائے گا یعنی اگر کسی کنویں کا قطر 16.9256فٹ ہو تو وہ دہ در دہ حوض کے مطابق ہے اور اس سے وضو کرنا جائز ہے ۔
میٹر کے حساب سے گول حوض کا حساب اس طرح ہو گا : ۔ ایک ہاتھ 45.72سینٹی میٹر کا ہو تا ہے اسلئے دس ہاتھ لمبا 4.572میٹر ہو گا اور وہی 4. 572میٹر چوڑا ہو گا ان دونوں کو ضرب کریں تو 20. 9031مربع میٹر دہ در دہ حوض ہو گا ۔اب اسکو 4سے ضرب دیجئے تو حاصل ضرب 83.6127مربع میٹر ہو جائے گا ، اسکو پائی 3. 416سے تقسیم کریں تو حاصل تقسیم 26.6146ہو گا ، پھر اسکو برابر برابر میں تقسیم کریں تو 5.1589میٹر ہو گا جو گول کنویں کا قطر ہو گا یہ کنواں دہ در دہ کے برابر ہے اس سے وضو کر نا جائز ہے ۔
ترجمہ: ٤ اور گہرائی میں اعتبار اس بات کا ہے کہ گہرا اتنا ہو کہ چلو بھر نے سے زمین نہ کھلے ۔اوریہی صحیح ہے ۔
تشریح: کچھ حضرات نے فرمایا کہ دس ہاتھ لمبااور دس ہاتھ چوڑا کے ساتھ تالاب پانچ انگلی ۔یعنی 3.75انچ گہرا بھی ہو ۔در مختار میں ہے ۔حاصلہ أنہ اذا کان غدیر عشر فی عشر عمقہ خمس أصابع تقریبا ۔( رد المحتار ، باب المیاہ ،مطلب فی مقدار الذرع و تعیینہ ، ج اول ،ص ٣٨٤)اس عبارت میں ہے کہ حوض پانچ انگلی گہرا ہو لیکن صحیح بات یہ ہے کہ پانی اتنا گہرا ہو کہ وہاں سے چلو میں پانی اٹھاتے وقت زمین نظر نہ آئے ،اتنا ہی گہرا کافی ہے ۔صحیح یہی ہے ،اس میں امت کو سہولت ہے۔
فائدہ امام شافعی کے نزدیک دو مٹکے پانی ہو تو وہ ماء کثیر ہے۔ اس میں نجاست گر جائے تو جب تک رنگ،بو یا مزا نہ بدل جائے تو