Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

124 - 627
 ١  لانہ لم یبق فی معنی المنزل من السمائ٢   الا اذا طبخ فیہ ما یقصد بہ المبالغةفی النظافة کالاشنان و نحوہ لان ا  لمیت یغسل بالماء الذی ُاغلی بالسدر، بذالک وردت السنة٣  الا ان یغلب ذالک علی الماء فیصیر کالسویق المخلوط لزوال اسم الماء عنہ۔ 

تشریح: کوئی پاک چیز پانی میں ڈال کر پکانے کا دو مقصد ہو تا ہے ۔ایک تو یہ کہ پانی کو مزید صاف ستھرا کرنا ہے جیسے بیری کی پتی کو ڈال کر جوش دیتے ہیں اور مردے کو نہلاتے ہیں ۔اگرجوش دینے کے باوجود رقت اور سیلان باقی ہے تو اس سے وضو جائز ہے ۔اور گاڑھا ہو گیا ہو تو وضو جائز نہیں ۔اور دوسری صورت یہ ہے کہ پکانے سے شوربا بنانا مقصود ہو تو اس سے وضو جائز نہیں ہو گا ۔اسکی دلیل کے لئے حدیث اوپر گزر گئی ۔
ترجمہ:   ١   اسلئے کہ آسمان سے اترنے کے  درجہ میں یہ پانی باقی نہیں رہا ۔
تشریح:   پانی پکانے کی وجہ سے  ماء مطلق باقی نہیں رہا اور آسمان سے اترے ہوئے پانی کی طرح نہیں رہا ۔
ترجمہ:  ٢   ،لیکن اگر پانی میں اس چیز کے  پکانے کا مقصد صفائی میں مبالغہ پیدا کرنا ہو جیسے اشنان گھاس ،اور اسکے مانند (دیگر چیزیں پانی میں ڈال کر پکاتے ہیں اور اس سے پانی میں صاف کرنے کی قوت مزید بڑھانا مقصود ہوتا ہے تو اس سے وضو کرنا جائز ہے)اسلئے کہ میت کو اس پانی سے غسل دیا جاتا ہے جو بیری کی پتی سے جوش دیا گیا ہو ،اسلئے کہ حدیث اس بارے میں وارد ہوئی ہے۔
وجہ :  پا ک چیز کو پکانے کا مقصد مزید صفائی ہو تو اس سے وضو جائز ہے جیسے بیری کی پتی ۔اسکے لئے حدیث یہ ہے ۔عن ابن عباس عن النبی ۖ خر رجل من بعیرہ فوقص،فمات ،فقال : اغسلوہ بماء و سدر ،و کفنوہ فی ثوبیہ ۔( مسلم شریف ،باب ما یفعل بالمحرم اذا مات ،ص ٣٨٤ نمبر ١٢٠٦  ٢٨٩١ ابن ماجة ،باب المحرم یموت ، ص ٤٤٩ نمبر ٣٠٨٤)اس حدیث میں ہے کہ بیری کی پتی کو جوش دیکر میت کو نہلایا ۔اور اس سے صفائی میں مبالغہ مقصود ہے اسکی دلیل یہ اثر ہے قال سمعت ابن مسعود یقول : ایما جنب غسل رأسہ بالخطمی فقد أبلغ ۔(مصنف عبد الرزاق ،باب الرجل یغسل رأسہ بالسدر ،ج اول ،ص ٢٦٣ نمبر ١٠٠٧ ) 
ترجمہ:  ٣   مگر یہ کہ پانی پر غالب آجائے تو وہ ملے ہوئے ستو کی طرح ہوجائے گا  (اسلئے وضو جائز نہیں ہو گا ) پانی کا نام اس سے زائل ہونے کی وجہ سے ۔یعنی بیری کی پتی وغیرہ کو اتنا پکایا کہ وہ پانی پر غالب آگئی تو اب اس سے وضو جائز نہیں ہو گا ۔(١) اسلئے کہ وہ گھلے ہوئے ستو کی طرح ہو گیا ۔(٢) اور اسلئے بھی کہ اس سے پانی کا نام ختم ہو کر کچھ اور نام ہو گیا ۔جب ماء مطلق نہیں رہا تو اس سے وضو کرنا بھی جائز نہیں ہو گا ۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter