١ لانہ لم یبق فی معنی المنزل من السمائ٢ الا اذا طبخ فیہ ما یقصد بہ المبالغةفی النظافة کالاشنان و نحوہ لان ا لمیت یغسل بالماء الذی ُاغلی بالسدر، بذالک وردت السنة٣ الا ان یغلب ذالک علی الماء فیصیر کالسویق المخلوط لزوال اسم الماء عنہ۔
تشریح: کوئی پاک چیز پانی میں ڈال کر پکانے کا دو مقصد ہو تا ہے ۔ایک تو یہ کہ پانی کو مزید صاف ستھرا کرنا ہے جیسے بیری کی پتی کو ڈال کر جوش دیتے ہیں اور مردے کو نہلاتے ہیں ۔اگرجوش دینے کے باوجود رقت اور سیلان باقی ہے تو اس سے وضو جائز ہے ۔اور گاڑھا ہو گیا ہو تو وضو جائز نہیں ۔اور دوسری صورت یہ ہے کہ پکانے سے شوربا بنانا مقصود ہو تو اس سے وضو جائز نہیں ہو گا ۔اسکی دلیل کے لئے حدیث اوپر گزر گئی ۔
ترجمہ: ١ اسلئے کہ آسمان سے اترنے کے درجہ میں یہ پانی باقی نہیں رہا ۔
تشریح: پانی پکانے کی وجہ سے ماء مطلق باقی نہیں رہا اور آسمان سے اترے ہوئے پانی کی طرح نہیں رہا ۔
ترجمہ: ٢ ،لیکن اگر پانی میں اس چیز کے پکانے کا مقصد صفائی میں مبالغہ پیدا کرنا ہو جیسے اشنان گھاس ،اور اسکے مانند (دیگر چیزیں پانی میں ڈال کر پکاتے ہیں اور اس سے پانی میں صاف کرنے کی قوت مزید بڑھانا مقصود ہوتا ہے تو اس سے وضو کرنا جائز ہے)اسلئے کہ میت کو اس پانی سے غسل دیا جاتا ہے جو بیری کی پتی سے جوش دیا گیا ہو ،اسلئے کہ حدیث اس بارے میں وارد ہوئی ہے۔
وجہ : پا ک چیز کو پکانے کا مقصد مزید صفائی ہو تو اس سے وضو جائز ہے جیسے بیری کی پتی ۔اسکے لئے حدیث یہ ہے ۔عن ابن عباس عن النبی ۖ خر رجل من بعیرہ فوقص،فمات ،فقال : اغسلوہ بماء و سدر ،و کفنوہ فی ثوبیہ ۔( مسلم شریف ،باب ما یفعل بالمحرم اذا مات ،ص ٣٨٤ نمبر ١٢٠٦ ٢٨٩١ ابن ماجة ،باب المحرم یموت ، ص ٤٤٩ نمبر ٣٠٨٤)اس حدیث میں ہے کہ بیری کی پتی کو جوش دیکر میت کو نہلایا ۔اور اس سے صفائی میں مبالغہ مقصود ہے اسکی دلیل یہ اثر ہے قال سمعت ابن مسعود یقول : ایما جنب غسل رأسہ بالخطمی فقد أبلغ ۔(مصنف عبد الرزاق ،باب الرجل یغسل رأسہ بالسدر ،ج اول ،ص ٢٦٣ نمبر ١٠٠٧ )
ترجمہ: ٣ مگر یہ کہ پانی پر غالب آجائے تو وہ ملے ہوئے ستو کی طرح ہوجائے گا (اسلئے وضو جائز نہیں ہو گا ) پانی کا نام اس سے زائل ہونے کی وجہ سے ۔یعنی بیری کی پتی وغیرہ کو اتنا پکایا کہ وہ پانی پر غالب آگئی تو اب اس سے وضو جائز نہیں ہو گا ۔(١) اسلئے کہ وہ گھلے ہوئے ستو کی طرح ہو گیا ۔(٢) اور اسلئے بھی کہ اس سے پانی کا نام ختم ہو کر کچھ اور نام ہو گیا ۔جب ماء مطلق نہیں رہا تو اس سے وضو کرنا بھی جائز نہیں ہو گا ۔