(٤٤) وکل ماء وقعت النجاسة فیہ لم یجز الوضوء بہ قلیلاً کانت النجاسة او کثیراً ) ١ و قال مالک یجوز مالم یتغیراحد اوصافہ، لما روینا،
لغت : طبخ : پکانا ۔النظافة : صفائی ،ستھرائی ۔سدر : بیری کی پتی ۔سویق : ستو ۔ مخلوط : ملی ہوئی ۔
ترجمہ: (٤٤) ہر وہ ٹھہرا ہوا پانی (جو بڑے تالاب سے کم ہو) اگر اس میں نجاست گر جائے تو اس سے وضو جائز نہیں ہے۔ چاہے نجاست کم ہو یا زیادہ۔
تشریح: پانی بڑے تالاب سے کم ہو اور ٹھہرا ہوا ہو تو اس میں تھوڑی سی نجاست بھی گر جائے تو پانی ناپاک ہو جاتا ہے۔ چاہے اس نجاست سے رنگ ، بو اور مزا بدلے یا نہ بدلے۔
وجہ : اس کی وجہ بہت سی احادیث ہیں جو حدیث کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ جن میںسے دو حدیثیں مصنف نے بھی ذکر کی ہیں۔ پیشاب نہ کرنے کے بارے میںحدیث یہ ہے سمع ابو ھریرة انہ سمع رسول اللہ ۖ یقول لایبلون احدکم فی الماء الدائم الذی لایجری ثم یغتسل فیہ ۔(بخاری شریف، باب البول فی الماء الدائم ص ٣٧ نمبر ٢٣٩ مسلم شریف، باب النھی عن البول فی الماء الراکد ص ١٣٨نمبر ٦٥٦٢٨٢) غسل کے بارے میں یہ حدیث ہے سمع أبا ھریرة یقول قال رسول اللہ ۖلا یغتسل احدکم فی الماء الدائم وہو جنب۔ (مسلم شریف ، باب البھی عن الاغتسال فی الماء الراکد ص ١٣٨ نمبر ٦٥٨٢٨٣) نیند سے بیدار ہونے کے بعد تین مرتبہ ہاتھ دھونے کا حکم اس حدیث میں ہے عن ابی ھریرة ان النبی ۖ قال اذا استیقظ احدکم من نومہ فلا یغمس یدہ فی الاناء حتی یغسلھا ثلاثا فانہ لا یدری این باتت یدہ ۔( مسلم شریف ، باب کراھیة غمس المتوضی و غیرہ یدہ المشکوک فی نجاستہا فی الاناء قبل غسلھا ثلاثا ص ١٣٦ نمبر ٦٤٣٢٧٨ ترمذی شریف، باب ماجاء اذا استیقظ احدکم من منامہ ص ١٣ نمبر ٢٤)یہ احادیث اور اس قسم کی بہت سی احادیث ہیں جن میں پانی میں نجاست ڈالنے سے منع فرمایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تھوڑے پانی میں نجاست گرنے سے وہ ناپاک ہو جاتا ہے۔ ورنہ منع کرنے کے کوئی معنی نہیں ہے ۔
ترجمہ: ١ امام مالک نے فرمایا کہ پانی سے وضو کرنا جائز ہے جب تک کہ تین اوصاف میں سے ایک نہ بدل جائے ۔اس حدیث کی بناء پر جو میں نے پہلے روایت کی ۔
تشریح: پانی تھوڑا ہو تب بھی جب تک نجاست کی وجہ سے رنگ ،یا مزہ ،یا بو نہ بدل جائے پانی ناپاک شمار نہیں کیا جائے گا ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ حدیث میں بیر بضاعة کے بارے میں ہے کہ اسکو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی اور بیر بضاعہ دس ہاتھ لمبا اور دس ہاتھ چوڑا نہیں تھا جس سے معلوم ہوا کہ تھوڑے پانی میں نجاست گر جائے تو جب تک اوصاف ثلاثہ میں سے ایک نہ بدل جائے پانی ناپاک