Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

125 - 627
(٤٤) وکل ماء وقعت النجاسة فیہ لم یجز الوضوء بہ قلیلاً کانت النجاسة او کثیراً )   ١  و قال مالک یجوز مالم یتغیراحد اوصافہ، لما روینا، 

لغت   : طبخ : پکانا ۔النظافة : صفائی ،ستھرائی ۔سدر : بیری کی پتی ۔سویق : ستو ۔ مخلوط : ملی ہوئی ۔
ترجمہ: (٤٤)   ہر وہ ٹھہرا ہوا پانی (جو بڑے تالاب سے کم ہو) اگر اس میں نجاست گر جائے تو اس سے وضو جائز نہیں ہے۔  چاہے نجاست کم ہو یا زیادہ۔
 تشریح:  پانی بڑے تالاب سے کم ہو اور ٹھہرا ہوا ہو تو اس میں تھوڑی سی نجاست بھی گر جائے تو پانی ناپاک ہو جاتا ہے۔ چاہے اس نجاست سے رنگ ، بو اور مزا بدلے یا نہ بدلے۔  
وجہ :   اس کی وجہ بہت سی احادیث ہیں جو حدیث کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ جن میںسے دو حدیثیں مصنف نے بھی ذکر کی ہیں۔ پیشاب نہ کرنے کے بارے میںحدیث یہ ہے  سمع ابو ھریرة انہ سمع رسول اللہ ۖ یقول لایبلون احدکم فی الماء الدائم الذی لایجری ثم یغتسل فیہ ۔(بخاری شریف، باب البول فی الماء الدائم ص ٣٧ نمبر ٢٣٩ مسلم شریف، باب النھی عن البول فی الماء الراکد ص ١٣٨نمبر ٦٥٦٢٨٢) غسل کے بارے میں یہ حدیث ہے  سمع أبا ھریرة یقول   قال رسول اللہ ۖلا یغتسل احدکم فی الماء الدائم وہو جنب۔ (مسلم شریف ، باب البھی عن الاغتسال فی الماء الراکد ص ١٣٨ نمبر ٦٥٨٢٨٣) نیند سے بیدار ہونے کے بعد تین مرتبہ ہاتھ دھونے کا حکم اس حدیث میں ہے عن ابی ھریرة ان النبی ۖ قال اذا استیقظ احدکم من نومہ فلا یغمس یدہ فی الاناء حتی یغسلھا ثلاثا فانہ لا یدری این باتت یدہ ۔( مسلم شریف ، باب کراھیة غمس المتوضی و غیرہ یدہ المشکوک فی نجاستہا فی الاناء قبل غسلھا ثلاثا ص ١٣٦ نمبر ٦٤٣٢٧٨ ترمذی شریف، باب ماجاء اذا استیقظ احدکم من منامہ ص ١٣ نمبر ٢٤)یہ احادیث اور اس قسم کی بہت سی احادیث ہیں جن میں پانی میں نجاست ڈالنے سے منع فرمایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تھوڑے پانی میں نجاست گرنے سے وہ ناپاک ہو جاتا ہے۔ ورنہ منع کرنے کے کوئی معنی نہیں ہے ۔
ترجمہ:  ١  امام مالک  نے فرمایا کہ پانی سے وضو کرنا جائز ہے جب تک کہ تین اوصاف میں سے ایک نہ بدل جائے ۔اس حدیث کی بناء پر جو میں نے پہلے روایت کی ۔
تشریح:   پانی تھوڑا ہو تب بھی جب تک نجاست کی وجہ سے رنگ ،یا مزہ ،یا بو نہ بدل جائے پانی ناپاک شمار نہیں کیا جائے گا ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ حدیث میں بیر بضاعة کے بارے میں ہے کہ اسکو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی اور بیر  بضاعہ دس ہاتھ لمبا اور دس ہاتھ چوڑا نہیں تھا جس سے معلوم ہوا کہ تھوڑے پانی میں نجاست گر جائے تو جب تک اوصاف ثلاثہ میں سے ایک نہ بدل جائے پانی ناپاک 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter