Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

123 - 627
٤  ولان الخلط القلیل لایعتبربہ لعدم امکان الاحتراز عنہ کمافیاجزائالارض فیعتبرالغالب،والغلبة بالاجزاء لابتغیراللون، ھوالصحیح (٤٣) و ان تغیر بالطبخ بعد ما خلط بہ غیرہ لا یجوز التوضی بہ) 

تشریح:   زعفران یا اشنان گھاس ملنے کے باوجود اسکا نام ابھی تک پانی ہی ہے اسکا کوئی نیا نام نہیں ہوا ،اسی لئے تو اسکو ماء زعفران ،اور ماء اشنان کہتے ہیں ۔باقی رہا زعفران یا اشنان کی طرف ماء ،یعنی پانی کی نسبت تو یہ ایسے ہی ہے جیسے پانی کو چشمے اور کوئیں کی طرف منسوب کرتے ہیں اور کہتے ہیں ،ماء البیر ،یا ماء العین ،حالانکہ اس سے پانی کا نام نہیں بدلتا صرف یہ بتلانا مقصود ہوتا ہے کہ پانی کہاں کا ہے اور اس سے وضو جائز ہو تا ہے۔اسی طرح زعفران کی طرف منسوب ہونے سے پانی کا نام نہیں بدلا اور اس سے وضو جائز ہو گا ۔
ترجمہ:  ٤   اسلئے کہ تھوڑے سے ملنے کا اعتبار نہیں کیا جائے گا اسلئے کہ اس سے بچنا ناممکن ہے ،جیسے کہ زمین کے اجزاء سے بچنا نا ممکن ہے اسلئے غالب کا اعتبار کیا جائے گا ۔اور غلبہ بھی اجزاء کے اعتبار سے غلبہ ہو ،رنگ کے اعتبار سے نہیں ۔ اور یہی قول صحیح ہے  ۔
تشریح:  پانی میں تھوڑی بہت پاک چیز ملنے پر وضو ناجائز قرار دیں تو مشکل ہو جائے گاکیونکہ تھوڑی بہت چیز تو ملتی ہی ہے اس سے بچنا نا ممکن ہے جیسے زمین کے اجزاء سے بچنا نا ممکن ہے اسلئے غالب کا اعتبار کیا جائے کہ پاک چیز اتنی مل جائے کہ پانی پر غالب آجائے تو وضو جائز نہ ہو اور اگر پاک چیز مغلوب ہوتو وضو جائز ہو۔اور غلبہ بھی رنگ ،بو ،یا مزہ کے اعتبار سے نہ ہو بلکہ اجزاء کے اعتبار سے ہو کہ اجزاء کے  اعتبار سے پانی پر غالب آگیا تو  وضو جائز نہیں اور اگر اجزاء کے اعتبار سے مغلوب ہو تو وضو جائز ہوجائے ۔
وجہ :  اسکی وجہ یہ ہے کہ نبیذ پتلی ہو تو اس سے وضو جائز ہے ۔اوپر حدیث گزر چکی ،قال : تمرة طیبة و ماء طھور ،فتوضأ بہ۔ (ابن ماجة ،نمبر ٣٨٤) اور اجزاء کے اعتبار سے گاڑھا ہو تو جائز نہیں ،جیسے دودھ سے وضو جائز نہیں ہے ۔اوپر اثر گزر گیا (ابن ابی شیبة نمبر ٦٤٩) 
اصول :  اجزاء کے اعتبار سے غالب آجائے تو اس پانی سے وضو جائز نہیں ۔اور مغلوب ہو تو وضو جائز ہے ۔
(نوٹ ) یہ حکم پاک چیزکے بارے میں ہے  اور ناپاک چیز کے بارے میں یہ ہے کہ اسکے ملنے سے اوصاف ثلاثہ میں سے ایک یعنی رنگ ،بو ،یا مزہ میں سے ایک بھی بدل جائے تو ماء کثیر یعنی کثیر پانی بھی ناپاک ہو جائے گا ۔
لغت :   المد : سیلاب۔ الاشنان : ایک قسم کی گھاس جس کو پانی میں مزید صفائی کے لئے ڈالتے ہیں۔ اختلط : ملاہوا ۔خلط ملط کیا ۔زردج : گاجر ۔مرق : شوربا ۔ لم یتجددلہ اسم : اسکا کوئی نیا نام نہیں ہوا ۔  بیر : کنواں ۔عین : چشمہ ۔احتراز : بچنا،احتراز کرنا ۔ 
ترجمہ:  (٤٣) اگر پاک چیز کو پانی میں ملانے کے بعدپکا دیا گیا  اور پانی بدل گیاہو تو اس سے وضو جائز نہیں ہے ۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter