٤ ولان الخلط القلیل لایعتبربہ لعدم امکان الاحتراز عنہ کمافیاجزائالارض فیعتبرالغالب،والغلبة بالاجزاء لابتغیراللون، ھوالصحیح (٤٣) و ان تغیر بالطبخ بعد ما خلط بہ غیرہ لا یجوز التوضی بہ)
تشریح: زعفران یا اشنان گھاس ملنے کے باوجود اسکا نام ابھی تک پانی ہی ہے اسکا کوئی نیا نام نہیں ہوا ،اسی لئے تو اسکو ماء زعفران ،اور ماء اشنان کہتے ہیں ۔باقی رہا زعفران یا اشنان کی طرف ماء ،یعنی پانی کی نسبت تو یہ ایسے ہی ہے جیسے پانی کو چشمے اور کوئیں کی طرف منسوب کرتے ہیں اور کہتے ہیں ،ماء البیر ،یا ماء العین ،حالانکہ اس سے پانی کا نام نہیں بدلتا صرف یہ بتلانا مقصود ہوتا ہے کہ پانی کہاں کا ہے اور اس سے وضو جائز ہو تا ہے۔اسی طرح زعفران کی طرف منسوب ہونے سے پانی کا نام نہیں بدلا اور اس سے وضو جائز ہو گا ۔
ترجمہ: ٤ اسلئے کہ تھوڑے سے ملنے کا اعتبار نہیں کیا جائے گا اسلئے کہ اس سے بچنا ناممکن ہے ،جیسے کہ زمین کے اجزاء سے بچنا نا ممکن ہے اسلئے غالب کا اعتبار کیا جائے گا ۔اور غلبہ بھی اجزاء کے اعتبار سے غلبہ ہو ،رنگ کے اعتبار سے نہیں ۔ اور یہی قول صحیح ہے ۔
تشریح: پانی میں تھوڑی بہت پاک چیز ملنے پر وضو ناجائز قرار دیں تو مشکل ہو جائے گاکیونکہ تھوڑی بہت چیز تو ملتی ہی ہے اس سے بچنا نا ممکن ہے جیسے زمین کے اجزاء سے بچنا نا ممکن ہے اسلئے غالب کا اعتبار کیا جائے کہ پاک چیز اتنی مل جائے کہ پانی پر غالب آجائے تو وضو جائز نہ ہو اور اگر پاک چیز مغلوب ہوتو وضو جائز ہو۔اور غلبہ بھی رنگ ،بو ،یا مزہ کے اعتبار سے نہ ہو بلکہ اجزاء کے اعتبار سے ہو کہ اجزاء کے اعتبار سے پانی پر غالب آگیا تو وضو جائز نہیں اور اگر اجزاء کے اعتبار سے مغلوب ہو تو وضو جائز ہوجائے ۔
وجہ : اسکی وجہ یہ ہے کہ نبیذ پتلی ہو تو اس سے وضو جائز ہے ۔اوپر حدیث گزر چکی ،قال : تمرة طیبة و ماء طھور ،فتوضأ بہ۔ (ابن ماجة ،نمبر ٣٨٤) اور اجزاء کے اعتبار سے گاڑھا ہو تو جائز نہیں ،جیسے دودھ سے وضو جائز نہیں ہے ۔اوپر اثر گزر گیا (ابن ابی شیبة نمبر ٦٤٩)
اصول : اجزاء کے اعتبار سے غالب آجائے تو اس پانی سے وضو جائز نہیں ۔اور مغلوب ہو تو وضو جائز ہے ۔
(نوٹ ) یہ حکم پاک چیزکے بارے میں ہے اور ناپاک چیز کے بارے میں یہ ہے کہ اسکے ملنے سے اوصاف ثلاثہ میں سے ایک یعنی رنگ ،بو ،یا مزہ میں سے ایک بھی بدل جائے تو ماء کثیر یعنی کثیر پانی بھی ناپاک ہو جائے گا ۔
لغت : المد : سیلاب۔ الاشنان : ایک قسم کی گھاس جس کو پانی میں مزید صفائی کے لئے ڈالتے ہیں۔ اختلط : ملاہوا ۔خلط ملط کیا ۔زردج : گاجر ۔مرق : شوربا ۔ لم یتجددلہ اسم : اسکا کوئی نیا نام نہیں ہوا ۔ بیر : کنواں ۔عین : چشمہ ۔احتراز : بچنا،احتراز کرنا ۔
ترجمہ: (٤٣) اگر پاک چیز کو پانی میں ملانے کے بعدپکا دیا گیا اور پانی بدل گیاہو تو اس سے وضو جائز نہیں ہے ۔