٢ وقال الشافعی:لایجوزالتوضی بماء الزعفران واشباھہ ممالیس من جنس الارض لانہ ماء مقید الایری انہ یقال: ماء الزعفران، بخلاف اجزاء الارض لان الماء لایخلو عنھا عادة ٣ ولنااسمالماء باق علیالاطلاق،الایری انہ لم یتجدد لہ اسم علیٰ حدة، واضافتہ الی الزعفران کاضافتہالی البیر،والعین
نے پسند فرمایا ہے ۔
وجہ : اختلاف کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ گاجر کاپانی پانی کی طرح پتلا ہے اور رقت اور سیلان باقی ہے تو وہ زعفران ملے ہوئے پانی کی طرح ہے اور اس سے وضو جائز ہے ۔اور اگر وہ دوھ کی طرح گاڑھا ہے تو اس میں رقت اور سیلان باقی نہیں رہا اسلئے وہ شوربے کی طرح ہوگیا اس سے وضو کرنا جائز نہیں ۔اوپر حدیث میں پتلی نبیذ سے اور بیری کی پتی ملی ہوئی پانی سے وضو کرنا جائز بتایا لیکن دودھ سے وضو جائز نہیں کیونکہ اس میں رقت اور سیلان باقی نہیں رہتا ۔اثر یہ ہے ۔سأل رجل ابن عباس قال : انا ننتجع الکلأ ولا نجد الماء فنتوضأ باللبن ؟ قال: لا، علیکم بالتیمم ۔( مصنف ابن ابی شیبة ،٧٦ ،فی الوضوء باللبن ،ج اول ص ٦١ نمبر ٦٤٩) اس اثر میں ہے کہ دودھ سے وضو جائز نہیں ہے اسلئے کہ اس میں رقت اور سیلان پانی کی طرح نہیں ہے ۔
ترجمہ: ٢ اور امام شافعی نے فرمایا کہ زعفران اور اسکے مثل کے پانی سے وضو جائز نہیں جو زمین کی جنس سے نہ ہو اسلئے کہ وہ مقید پانی ہے ، کیا دیکھتے نہیں کہ ماء الزعفران ،زعفران کا پانی بولا جاتا ہے بر خلاف زمین کی جنس کے کیونکہ پانی اس سے عادة خالی نہیں ہو تا ۔
تشریح: امام شافعی کا اصول یہ کہ کوئی پاک چیز پانی میں اتنی مل جائے کہ پانی کا نام بدل جائے تو اس پانی سے وضو کرنا جائز نہیں ہوگا ۔کیونکہ وہ اب مطلق پانی نہیں رہا ۔مثلا پانی میں اتنا زعفران ملا دیا گیا کہ اب اسکو ماء زعفران کہنے لگے تو اب اس پانی سے وضو جائز نہیں ہو گا کیونکہ اب یہ مطلق پانی نہ رہا بلکہ یہ دودھ کی طرح ہو گیا ۔موسوعة للامام الشافعی میں اس طرح ہے : و ان أخذ ماء فشیب بہ لبن ،أو سویق ،او عسل ،فصار الماء مستھلکا فیہ ،لم یتوضأ بہ ،لان الماء مستھلک فیہ ،انما یقال لھذا : ماء سویق ۔( موسوعة ،باب الماء الراکد ،ج اول ص ٢٣ نمبر ٥٨ ) البتہ اگر زمین کے اجزاء مثلا مٹی ،گرد ،وغیرہ پانی میں اتنے مل گئے کہ اسکا نام بدل گیا پھر بھی اس سے وضو کرنا جائز ہو گا اسلئے کہ عموما پانی مٹی کے اجزاء سے خالی نہیں ہو تا اسلئے اس میں مجبوری ہے اسلئے اسکے ملنے سے پانی کا نام بھی بدل جائے پھر بھی وضو جائز ہے ۔اسی طرح پانی تالاب میں ٹھرے ٹھرے گدلا ہوجائے اور رنگ ،بو اور مزہ بدل جائے پھر بھی وضو جائز ہے کیونکہ اس میں مجبوری ہے ۔
ترجمہ : ٣ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ پانی کا نام علی الاطلاق ابھی بھی باقی ہے ،کیا آپ نہیں دیکھتے ہیں کہ اسکا کوئی نیا نام ابھی بھی نہیں ہے ۔باقی رہا اسکی اضافت زعفران کی طرف تو وہ ایسے ہی ہے جیسے پانی کی اضافت کوئیں اور چشمے کی طرف ہو ۔