Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

122 - 627
٢  وقال الشافعی:لایجوزالتوضی بماء الزعفران واشباھہ ممالیس من جنس الارض لانہ ماء مقید الایری انہ یقال: ماء الزعفران، بخلاف اجزاء الارض لان الماء لایخلو عنھا عادة ٣  ولنااسمالماء باق علیالاطلاق،الایری انہ لم یتجدد لہ اسم علیٰ حدة، واضافتہ الی الزعفران کاضافتہالی البیر،والعین 

نے پسند فرمایا ہے ۔
وجہ :   اختلاف کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ گاجر کاپانی پانی کی طرح پتلا ہے اور رقت اور سیلان باقی ہے تو وہ زعفران ملے ہوئے پانی کی طرح ہے اور اس سے وضو جائز ہے ۔اور اگر وہ دوھ کی طرح گاڑھا ہے تو اس میں رقت اور سیلان باقی نہیں رہا  اسلئے وہ شوربے کی طرح ہوگیا اس سے وضو کرنا جائز نہیں ۔اوپر حدیث میں پتلی نبیذ سے اور بیری کی پتی ملی ہوئی پانی سے وضو کرنا جائز بتایا لیکن دودھ سے وضو جائز نہیں کیونکہ اس میں رقت اور سیلان باقی نہیں رہتا ۔اثر یہ ہے ۔سأل رجل ابن عباس قال : انا ننتجع الکلأ ولا نجد الماء فنتوضأ باللبن ؟ قال: لا، علیکم بالتیمم ۔( مصنف ابن ابی شیبة ،٧٦ ،فی الوضوء باللبن ،ج اول ص ٦١ نمبر ٦٤٩) اس اثر میں ہے کہ دودھ سے وضو جائز نہیں ہے اسلئے کہ اس میں رقت اور سیلان پانی کی طرح نہیں ہے ۔   
ترجمہ:  ٢   اور امام شافعی نے فرمایا کہ زعفران اور اسکے مثل کے پانی سے وضو جائز نہیں جو زمین کی جنس سے نہ ہو اسلئے کہ وہ مقید پانی ہے ، کیا دیکھتے نہیں کہ ماء الزعفران ،زعفران کا پانی بولا جاتا ہے بر خلاف زمین کی جنس کے کیونکہ پانی اس سے عادة خالی نہیں ہو تا ۔
تشریح:  امام شافعی کا اصول یہ کہ کوئی پاک چیز پانی میں اتنی مل جائے کہ پانی کا نام بدل جائے تو اس پانی سے وضو کرنا جائز نہیں ہوگا ۔کیونکہ وہ اب مطلق پانی نہیں رہا ۔مثلا پانی میں اتنا زعفران ملا دیا گیا کہ اب اسکو ماء زعفران کہنے لگے تو اب اس پانی سے وضو جائز نہیں ہو گا کیونکہ اب یہ مطلق پانی نہ رہا بلکہ یہ دودھ کی طرح ہو گیا ۔موسوعة للامام الشافعی میں اس طرح ہے : و ان أخذ ماء  فشیب بہ لبن ،أو سویق ،او عسل ،فصار الماء مستھلکا فیہ ،لم یتوضأ بہ ،لان الماء مستھلک فیہ ،انما یقال لھذا : ماء سویق ۔( موسوعة ،باب الماء الراکد ،ج اول ص ٢٣ نمبر ٥٨ ) البتہ اگر زمین کے اجزاء مثلا مٹی ،گرد ،وغیرہ پانی میں اتنے مل گئے کہ اسکا نام بدل گیا پھر بھی اس سے وضو کرنا جائز ہو گا  اسلئے کہ عموما پانی مٹی کے اجزاء سے خالی نہیں ہو تا اسلئے اس میں مجبوری  ہے اسلئے اسکے ملنے سے پانی کا نام بھی بدل جائے پھر بھی وضو جائز ہے  ۔اسی طرح پانی تالاب میں ٹھرے ٹھرے گدلا ہوجائے اور رنگ ،بو اور مزہ بدل جائے پھر بھی وضو جائز ہے کیونکہ اس میں مجبوری ہے ۔
ترجمہ :  ٣  اور ہماری دلیل یہ ہے کہ پانی کا نام علی الاطلاق ابھی بھی باقی ہے ،کیا آپ نہیں دیکھتے ہیں کہ اسکا کوئی نیا نام ابھی بھی نہیں ہے ۔باقی رہا اسکی اضافت زعفران کی طرف تو وہ ایسے ہی ہے جیسے پانی کی اضافت کوئیں اور چشمے کی طرف ہو ۔
 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter