(٤٢) و یجوز الطھارة بماء خالطہ شیء طاھرفغیرّ احد اوصافہ کماء المد، و الماء الذی اختلط بہ الزعفران، او الصابون، او الاشنان، ) ١ قال (القدوری)اجری فی المختصرماء الزردج مجری المرق، والمروی عن ابی یوسف انہ بمنزلة ماہ الزعفران، ھوالصحیح،کذااختارہ الناطقی،والامام السرخسی،
ترجمہ:(٤٢)اور جائزہے وضو ایسے پانی سے جس میں پاک چیز مل گئی ہو اور اس کے اوصاف میں سے ایک وصف کو بدل دیا ہو۔ جیسے سیلاب کا پانی اور وہ پانی جس میں اشنان گھاس اور صابون اور زعفران ملائے گئے ہوں۔
وجہ: (١)پانی میں مٹی مل جانے کی وجہ سے اگر رقت اور سیلان باقی ہے تو طہارت جائز ہے۔جیسے سیلاب کے پانی میں کافی مٹی مل جاتی ہے۔پھر بھی لوگ اس کو پانی کہتے ہیں اس لئے اس سے وضو کرنا جائز ہے (٢) اس پانی سے وضو کرنے میں مجبوری بھی ہے ورنہ دیہاتی لوگ صاف پانی کہاں سے لائیںگے۔
صابون اور اشنان گھاس کا حکم : (١)پانی میں ایسی چیز ملائی جائے جس سے پانی کو مزید ستھرا کرنا مقصود ہو جیسے بیری کی پتی ڈال کر پانی کو مزید ستھرا کرنا مقصود ہوتا ہے یا اشنان گھاس یا صابون یا زعفران ڈال کر پانی کو مزید صاف ستھرا کرنا مقصود ہوتا ہے تو اس کے ڈالنے کے بعد رقت اور سیلان باقی ہوتو طہارت جائز ہوگی۔ کیونکہ پانی کا نام اور پانی کی طبیعت باقی رہتی ہے(٢)حدیث میں ہے کہ بیری کی پتی ڈال کر پانی کو جوش دیا گیا اور مردہ کو نہلایا گیا ۔اگر ان چیزوں کے ڈالنے سے طہارت جائز نہیں ہوتی تو بیری کی پتی ڈال کر جوش دینے کے بعد کیسے نہلاتے اور کیسے طہارت ہوتی؟حدیث یہ ہے ۔ عن ابن عباس عن النبی ۖ خر رجل من بعیرہ فوقص فمات فقال اغسلوہ بماء وسدر وکفنوہ فی ثوبیہ ۔(مسلم شریف، باب ما یفعل بالمحرم اذا مات ص ٣٨٤ نمبر ٢٨٩١١٢٠٦ ابن ماجہ شریف،باب المحرم یموت،ص٤٤٩، نمبر ٣٠٨٤)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بیری کی پتی یا کوئی چیز پانی کی صفائی کے لئے ملائی جائے تو اس پانی سے پاکی حاصل کرنا جائز ہے بشرطیکہ رقت اور سیلان ختم نہ ہو گیا ہو۔
اصول :۔ پانی کی مزید صفائی کے لئے کوئی چیز ملائی گئی ہو تو اس پانی سے طہارت جائز ہے۔
ترجمہ: ١ صاحب ھدایة فرماتے ہیں کہ المختصرالقدوری والے نے گاجر کے پانی کو شوربے کے درجے میں رکھاحالانکہ امام ابویوسف نے اسکو زعفران کے پانی کے درجے میں رکھا ،اور یہی صحیح ہے امام ناطفی اور امام سرخسی نے اسی کو اختیار کیا ہے ۔
تشریح: مسئلہ نمبر ٤١ کے متن میں یہ تھا کہ زردج ،یعنی گاجر کاپانی شوربے کی طرح ہے یعنی جس طرح شوربہ پاک ہے اسکو کھا پی سکتا ہے لیکن اس سے وضو نہیں کر سکتا اسی طرح گاجر کا پانی پاک ہے اسکو کھا پی سکتا ہے لیکن اس سے وضو نہیں کر سکتا ۔لیکن امام ابویوسف سے مروی یہ ہے کہ وہ زعفران کے پانی کی طرح پاک ہے اور اس سے وضو بھی کر سکتا ہے ۔اسی کوامام ناطفی اور امام سرخسی