Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

121 - 627
(٤٢)  و یجوز الطھارة بماء خالطہ شیء طاھرفغیرّ احد اوصافہ کماء المد،  و الماء الذی اختلط بہ الزعفران،  او الصابون،  او الاشنان، )  ١  قال (القدوری)اجری فی المختصرماء الزردج مجری المرق، والمروی عن ابی یوسف انہ بمنزلة ماہ الزعفران، ھوالصحیح،کذااختارہ الناطقی،والامام السرخسی،

ترجمہ:(٤٢)اور جائزہے وضو ایسے پانی سے جس میں پاک چیز مل گئی ہو اور اس کے اوصاف میں سے ایک وصف کو بدل دیا ہو۔ جیسے سیلاب کا پانی اور وہ پانی جس میں اشنان گھاس اور صابون اور زعفران ملائے گئے ہوں۔
وجہ:  (١)پانی میں مٹی مل جانے کی وجہ سے اگر رقت اور سیلان باقی ہے تو طہارت جائز ہے۔جیسے سیلاب کے پانی میں کافی مٹی مل جاتی ہے۔پھر بھی لوگ اس کو پانی کہتے ہیں اس لئے اس سے وضو کرنا جائز ہے (٢) اس پانی سے وضو کرنے میں مجبوری بھی ہے ورنہ دیہاتی لوگ صاف پانی کہاں سے لائیںگے۔
صابون اور اشنان گھاس کا حکم  :  (١)پانی میں ایسی چیز ملائی جائے جس سے پانی کو مزید ستھرا کرنا مقصود ہو جیسے بیری کی پتی ڈال کر پانی کو مزید ستھرا کرنا مقصود ہوتا ہے یا اشنان گھاس یا صابون یا زعفران ڈال کر پانی کو مزید صاف ستھرا کرنا مقصود ہوتا ہے تو اس کے ڈالنے کے بعد رقت اور سیلان باقی ہوتو طہارت جائز ہوگی۔ کیونکہ پانی کا نام اور پانی کی طبیعت باقی رہتی ہے(٢)حدیث میں ہے کہ بیری کی پتی ڈال کر پانی کو جوش دیا گیا اور مردہ کو نہلایا گیا ۔اگر ان چیزوں کے ڈالنے سے طہارت جائز نہیں ہوتی تو بیری کی پتی ڈال کر جوش دینے کے بعد کیسے نہلاتے اور کیسے طہارت ہوتی؟حدیث یہ ہے ۔ عن ابن عباس عن النبی ۖ خر رجل من بعیرہ فوقص فمات فقال اغسلوہ بماء وسدر وکفنوہ فی ثوبیہ ۔(مسلم شریف، باب ما یفعل بالمحرم اذا مات ص ٣٨٤ نمبر ٢٨٩١١٢٠٦ ابن ماجہ شریف،باب المحرم یموت،ص٤٤٩، نمبر ٣٠٨٤)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بیری کی پتی یا کوئی چیز پانی کی صفائی کے لئے ملائی جائے تو اس پانی سے پاکی حاصل کرنا جائز ہے بشرطیکہ رقت اور سیلان ختم نہ ہو گیا ہو۔
 اصول :۔ پانی کی مزید صفائی کے لئے کوئی چیز ملائی گئی ہو تو اس پانی سے طہارت جائز ہے۔
ترجمہ:  ١   صاحب ھدایة فرماتے ہیں کہ المختصرالقدوری والے نے گاجر کے پانی کو شوربے کے درجے میں رکھاحالانکہ امام ابویوسف  نے اسکو زعفران کے پانی کے درجے میں رکھا ،اور یہی صحیح ہے امام ناطفی اور امام سرخسی نے اسی کو اختیار کیا ہے ۔
تشریح:   مسئلہ نمبر ٤١ کے متن میں یہ تھا کہ زردج ،یعنی گاجر کاپانی شوربے کی طرح ہے یعنی جس طرح شوربہ پاک ہے اسکو کھا پی سکتا ہے لیکن اس سے وضو نہیں کر سکتا اسی طرح گاجر کا پانی پاک ہے اسکو کھا پی سکتا ہے لیکن اس سے وضو نہیں کر سکتا ۔لیکن امام ابویوسف  سے مروی یہ ہے کہ وہ زعفران کے پانی کی طرح  پاک ہے اور اس سے وضو بھی کر سکتا ہے ۔اسی کوامام ناطفی اور امام سرخسی 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter