٢ والمراد بماء الباقلی ٰما تغیر بالطبخ، فان تغیر بدون الطبخ یجوز التوضی بہ،
اس سے وضو کر نا جائز نہیں ہے ۔اگر چہ وہ پاک ہے اور اسکا کھانا اور پینا جائز ہے۔
وجہ : (١)یہ سب اب پانی نہیں رہے بلکہ ان کا نام بھی بدل گیا ہے اور اوصاف بھی بدل گئے ہیں۔ مثلا شربت میں دوسری چیز اتنی مل گئی ہے کہ اب اس کا نام بھی شربت ہو گیا۔اب اس کو کوئی پانی نہیں کہتا۔سرکہ کا حال بھی یہی ہے لوبیا پکا دیا جائے جس سے پانی کی حقیقت بدل جائے تو وہ شوربا کی طرح ہو جائے گا۔ اور اگر لوبیا کا پانی نچوڑا جائے تو وہ رس ہے اور رس سے وضو کرنا جائز نہیں ۔گلاب کا پانی، گاجر کا پانی یہ سب رس ہیں اس سے وضو کرنا جائز نہیں ہے(٢)حدیث میں اس کا اشارہ ملتا ہے۔عن ابی امامة الباھلی قال قال رسول اللہ ۖ ان الماء لاینجسہ شی ء الا ماغلب علی ریحہ وطعمہ ولونہ (ابن ماجہ شریف، باب الحیاض ص ٧٤،نمبر ٥٢١ طحاوی شریف باب الماء تقع فیہ النجاسة ص ١٥) اس حدیث سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ پانی میں پاک چیز مٹی کے علاوہ مل جائے اور بو، مزہ اور رنگ بدل دے اور پانی کی طبیعت بدل جائے تو اس سے وضو اور غسل کرنا جائز نہیں ہوگا۔
نوٹ : اگر پانی میں پاک چیز ملی اور اس پر غالب نہیں آئی بلکہ مغلوب رہی تو وضو جائز ہوگا۔اس حدیث سے اس کا استدلال ہے عن عبداللہ بن مسعود ان رسول اللہ ۖ قال لہ لیلة الجن عندک طھور؟ قال لا الا شی ء من نبیذ فی اداوة قال ثمرة طیبة وماء طہور۔ فتوضأ(ابن ماجہ، باب الوضوء بالنبیذ ص٥٧نمبر٣٨٤ دار قطنی ،باب الوضوء بالنبیذ ج اول ص٧٨ نمبر ٢٤١) نبیذ میں کھجور ڈالا جاتا ہے۔جس سے معلوم ہوا کہ کوئی پاک چیز پاک پانی میں مل جائے اور طبیعت نہ بدلے تو اس سے وضو جائز ہے۔
اصول: پانی کی طبیعت نہ بدلی ہو تو وضو جائز ہوگا۔
ترجمہ: ٢ لوبیا کے پانی سے مراد جو پکانے کی وجہ سے بدل گیا ہو ،پس اگر بغیر پکائے بدلا ہو تو اس سے وضو جائز ہے ۔
تشریح: لو بیا ہو یا کوئی اور سبزی ہو یا کوئی چیز ہو اگر اسکو پورا پکا دیا گیا تو اسکا پانی شوربا بن گیا اب اس سے وضو کرنا جائز نہیں ہو گا اسلئے کہ اسکا نام بھی بدل گیا اور طبیعت بھی بدل گئی ۔اور اگر ان چیزوں کو پانی میں ڈالنے کے بعد پکایا نہیں پھر بھی اسکا رنگ یا مز ہ تھوڑا بہت بدل گیا تو اس سے وضو جائز ہے اسلئے کہ پانی کی طبیعت ابھی نہیں بدلی ہے ۔اوپر کی حدیث میں تھا کہ پانی میں کھجور ڈالا اور اس میں مٹھاس آگیا پھر بھی حضورۖ نے اس پانی سے وضو کیا ۔(ابن ماجہ نمبر ٣٨٤)
لغت : الخل : سرکہ۔ باقلا : لوبیا (ایک قسم کی سبزی ہوتی ہے) المرق : شوربا۔ ورد : گلاب۔ الزردج : گاجر
نوٹ : پانی کی طبیعت کبھی اجزاء کے اعتبار سے بدلتی ہے اور کبھی اوصاف کے اعتبار سے۔