٣ اماالماء الذی یقطرمن الکرم فیجوز التوضی بہ لانہ ماء خرج من غیر علاج، ذکرہ فی جوامع ابی یو سف، وفی الکتاب اشارة الیہ حیث شرط الاعتصار(٤١) ولایجوز بماء غلب علیہ غیرہ، فاخرجہ عن طبع الماء کالاشربة، والخل، و ماء الورد، و ماء الباقلیٰ، و المرق، و ما ء الزردج ) ١ لانہ لا یسمے ماء مطلقا
تشریح: تعبدی کا مطلب پہلے گزر چکا ہے کہ صرف اللہ کے حکم کی وجہ سے وضو اور غسل میں ان اعضاء کو دھو رہے ہیں ورنہ سمجھ میں بات نہیں آتی ہے کہ پیشاب اور پیخانہ نکلا ہے کہیں اور سے اور دھوتے ہیں ہاتھ اور پاوئں کو۔اسلئے نص یعنی قرآن اور حدیث میں جن جن پانیوں سے طھارت حاصل کرنے کے لئے کہا ہے انہیں پانیوں سے طھارت حاصل کر سکتے ہیں اور رس سے پاکی حاصل کرنے کا تذکرہ حدیث اور قرآن میں نہیں ہے اسلئے رس سے پاکی حاصل کرنا جائز نہیں ہے ۔
ترجمہ: ٣ اور وہ پانی جو انگور کی بیل سے ٹپکتا ہے اس سے وضو جائز ہے اسلئے کہ بغیر نچوڑے ہوئے نکل آیا ہے ۔جوامع ابویوسف میں ایسا ہی ذکر کیا گیا ہے ۔اور کتاب قدوری میں بھی اسی بات کی طرف اشارہ ہے ۔اسلئے کہ اس میں نچوڑنے کی شرط لگائی ہے ۔
تشریح: اوپر یہ فرمایا کہ رس سے وضو جائز نہیں ہے ۔اب یہ فرمارہے ہیں کہ اگر انگور کی بیل کا رس خود ٹپک ٹپک کر گرا ہو اور پانی کی طرح پتلا ہو تو اس سے وضو کرنا جائز ہے جامع ابویوسف میں ایسا ہی لکھا ہوا ہے ۔اسکی وجہ یہ فرما رہے ہیں کہ جس رس کو نچوڑا ہو اس سے وضو جائز نہیں اور اس رس کو نچوڑ ا نہیں ہے بلکہ خود ٹپکا ہے اسلئے اس سے وضو جائز ہے ۔(٢) قدوری کے متن میں بھی اسکا اشارہ ہے ۔اس میں ہے اعتصر من الشجرو الثمر : یعنی درخت اور پھل سے نچوڑا ہو اس سے وضو جائز نہیں ،جسکا مطلب یہ نکلا کہ خود ٹپکا ہو تو اس سے وضو جائز ہے ۔
لغت : اعتصر : نچوڑا گیا ہو، عصرسے مشتق ہے ۔فقد : گم ہونا ،نہ پانا ۔وظیفة : ترتیب دئے ہوئے کام کو وظیفہ کہتے ہیں ۔ تتعدی : متعدی ہونا ،ایک حکم سے دوسرے حکم کی طرف جانا ۔یقطر : قطرہ قطرہ ٹپکنا ۔الکرم : انگور کی بیل ۔علاج : علاج کرنا،یہاں مراد ہے نچوڑنا ۔
ترجمہ: (٤١) اور نہیں جائز ہے طہارت ایسے پانی سے جس پر دوسری چیز غالب آگئی ہواور اس کو پانی کی طبیعت سے نکال دیا ہو جیسے (١) شربت (٢) سرکہ (٣) گلاب کا پانی (٤) لوبیا کا پانی (٥)شوربا (٦) گاجر کا پانی ۔
ترجمہ: ١ اسلئے کہ یہ مطلق پانی نہیں رہے۔
تشریح: پانی میں کوئی پاک چیز ڈال کر اتنا پکایا کہ وہ شوربہ سا بن گیا اور گاڑھا ہو گیا ،اور اس میں پانی کی طبیعت باقی نہیں رہی تو