Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

119 - 627
٣ اماالماء الذی یقطرمن الکرم فیجوز التوضی بہ لانہ ماء خرج من غیر علاج، ذکرہ فی جوامع ابی یو سف، وفی الکتاب اشارة الیہ حیث شرط الاعتصار(٤١) ولایجوز بماء غلب علیہ غیرہ، فاخرجہ عن طبع الماء کالاشربة،  والخل، و ماء الورد،  و ماء الباقلیٰ،  و المرق،  و ما ء الزردج ) ١  لانہ  لا یسمے ماء مطلقا

 تشریح:  تعبدی کا مطلب پہلے گزر چکا ہے کہ صرف اللہ کے حکم کی وجہ سے وضو اور غسل میں ان اعضاء کو دھو رہے ہیں ورنہ سمجھ میں بات نہیں آتی ہے کہ پیشاب اور پیخانہ نکلا ہے کہیں اور سے اور دھوتے ہیں ہاتھ اور پاوئں کو۔اسلئے نص یعنی قرآن اور حدیث میں جن جن پانیوں سے طھارت حاصل کرنے کے لئے کہا ہے انہیں پانیوں سے طھارت حاصل کر سکتے ہیں اور رس سے پاکی حاصل کرنے کا تذکرہ حدیث اور قرآن میں نہیں ہے اسلئے رس سے پاکی حاصل کرنا جائز نہیں ہے ۔
ترجمہ:  ٣  اور وہ پانی جو انگور کی بیل سے ٹپکتا ہے اس سے وضو جائز ہے اسلئے کہ بغیر نچوڑے ہوئے نکل آیا ہے ۔جوامع ابویوسف  میں ایسا ہی ذکر کیا گیا ہے ۔اور کتاب قدوری میں بھی اسی بات کی طرف اشارہ ہے ۔اسلئے کہ اس میں نچوڑنے کی شرط لگائی ہے ۔
تشریح:  اوپر یہ فرمایا کہ رس سے وضو جائز نہیں ہے ۔اب یہ فرمارہے ہیں کہ اگر انگور  کی بیل کا رس خود ٹپک ٹپک کر گرا ہو اور پانی کی طرح پتلا ہو تو اس سے وضو کرنا جائز ہے جامع ابویوسف میں ایسا ہی لکھا ہوا ہے ۔اسکی وجہ یہ فرما رہے ہیں کہ جس رس کو نچوڑا ہو اس سے وضو جائز نہیں اور اس رس کو نچوڑ ا نہیں ہے بلکہ خود ٹپکا ہے اسلئے اس سے وضو جائز ہے ۔(٢) قدوری کے متن میں بھی اسکا اشارہ ہے ۔اس میں ہے اعتصر من الشجرو الثمر : یعنی درخت اور پھل سے نچوڑا ہو اس سے وضو جائز نہیں ،جسکا مطلب یہ نکلا کہ خود ٹپکا ہو تو اس سے وضو جائز ہے ۔
لغت :   اعتصر :  نچوڑا گیا ہو، عصرسے مشتق ہے ۔فقد : گم ہونا ،نہ پانا ۔وظیفة : ترتیب دئے ہوئے کام کو وظیفہ کہتے ہیں ۔ تتعدی : متعدی ہونا ،ایک حکم سے دوسرے حکم کی طرف جانا ۔یقطر : قطرہ قطرہ ٹپکنا ۔الکرم : انگور کی بیل ۔علاج : علاج کرنا،یہاں مراد ہے نچوڑنا ۔
ترجمہ:  (٤١) اور نہیں جائز ہے طہارت ایسے پانی سے جس پر دوسری چیز غالب آگئی ہواور اس کو پانی کی طبیعت سے نکال دیا ہو جیسے (١) شربت (٢) سرکہ (٣) گلاب کا پانی (٤)  لوبیا کا پانی (٥)شوربا (٦) گاجر کا پانی ۔  
ترجمہ:   ١   اسلئے کہ یہ مطلق پانی نہیں رہے۔
تشریح:  پانی میں کوئی پاک چیز ڈال کر اتنا پکایا کہ وہ شوربہ سا بن گیا اور گاڑھا ہو گیا ،اور اس میں پانی  کی طبیعت باقی نہیں رہی تو 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter