Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

110 - 627
 ٢  ولانہ سبب للانزال و نفسہ یتغیب عن بصرہ وقد یخفی علیہ لقلتہ  فیقام مقامہ، ٣ و کذا الایلاج فی الدبر لکمال السببیة، ٤  ویجب علی المفعول بہ احتیاطا۔

الغسل۔وفی حدیث مطر : و ان لم ینزل ۔(مسلم شریف ،باب نسخ الماء من الماء و وجوب الغسل بالتقاء الختانین ،ص ١٥٦ نمبر ٣٤٨  ٧٨٣)اس حدیث میں و ان لم ینزل ِ کا لفظ موجود ہے ۔
ترجمہ:   ٢  اور اسلئے بھی کہ فرج میں داخل ہو نا انزال کا سبب ہے ۔اور خود عضو تناسل نگاہ سے غائب ہو تا ہے اور منی کم ہو نے کی وجہ سے بعض مرتبہ پتہ بھی نہیں چلتا ہے اسلئے حشفہ کے داخل ہونے کو انزال کے قائم مقام قرار دے دیا ( اور غسل واجب کر دیا ) 
تشریح:  حشفہ غائب ہونے سے غسل واجب ہونے کی یہ دلیل عقلی ہے ۔کہ جب حشفہ غائب ہو گیا تو منی نکلی یا نہیں نکلی بعض مرتبہ اسکا پتہ نہیں چلتا ہے کیونکہ منی کم ہوتی ہے اسلئے حشفہ غائب ہونے کو ہی منی نکلنے کے قائم مقام قرار دے کر غسل واجب کر دیا گیا ۔
ترجمہ:  ٣  ایسے ہی غسل واجب ہوگا دبر میں داخل کرنے سے سبب کے مکمل ہونے کی وجہ سے ۔یعنی عضو تناسل دبر میں اتنا داخل کردیا کہ حشفہ غائب ہو گیا تو چاہے منی کا خروج نہ ہوا ہو پھر بھی غسل واجب ہو جائے گا ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ جتنی لذت عورت کی شرمگاہ میں ہو تی ہے تقریبا اتنی ہی لذت دبر میں بھی ہو تی ہے ۔اور یہاں بھی حشفہ غائب ہونے کے بعد بعض مرتبہ پتہ نہیں چلتا ہے کہ منی نکلی یا نہیں نکلی  اسلئے حشفہ کے غائب ہونے کو منی نکلنے کے درجے میں رکھ کر غسل واجب کر دیا جائے گا ۔کیونکہ حشفہ کا غائب ہونا اور لذت کا مکمل ہو نا دونوں سبب پورے ہیں اسلئے التقاء ختانین والی حدیث پر قیاس کرتے ہوئے اس پر غسل واجب کیا جائے گا ۔
ترجمہ:  ٤  اور مفعول پر بھی غسل احتیاطا واجب کیا جائے گا ۔
 تشریح:  جسکے دبر میں حشفہ غائب کردیا اسکی منی نہیں نکلی اور نہ دبر سے منی نکلنے کا سوال ہے اسلئے اس پر غسل واجب نہیں ہونا چاہئے  ۔چنانچہ اثر میں اسکا ثبوت ہے ۔عن الحسن فی الرجل یصیب من المرأة فی غیر فرجھا قال : ان ھی انزلت اغتسلت و ان ھی لم تنزل توضأت و غسلت ما اصاب من جسدھا من ماء الرجل ۔(مصنف ابن ابی شیبة ،١٠٩ فی الرجل یجامع امرأتہ دون الفرج ،ج اول ،ص ٨٩ ،نمبر ٩٩٢  مصنف عبد الرزاق ،باب الرجل یصیب امرأتہ فی غیر الفرج ،ج اول ،ص ٢٥٣ ،نمبر ٩٧١ ) اس اثر سے معلوم ہوا کہ یا عورت کے فرج میں داخل کرے ،یا منی نکلے تب ہی غسل واجب ہو گا۔اور یہاں منی نہیں نکلی ہے اسلئے غسل واجب نہیں ہو گا ۔لیکن جسم کے اندر حشفہ داخل ہو چکا ہے اسلئے احتیاط  کا تقاضا ہے کہ غسل کر لے ۔اس اثر میں اسکا ثبوت ہے ۔عن ابن عباس قال یغتسل ۔(مصنف عبدالرزاق،نمبر ٩٧٣ ) (٢) یوں بھی عورت کی شرمگاہ کی طرح اسکے دبر کے اندر داخل ہو چکا ہے تو جس طرح عورت سے منی نکلے یا نہ نکلے غسل واجب ہو تا ہے یہاں بھی منی نہ نکلے پھر بھی احتیاطا غسل واجب ہو نا چاہئے ۔البتہ دبر کے باہر رہے تو غسل واجب نہیں ہو گا ۔ 
 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter