٢ ولانہ سبب للانزال و نفسہ یتغیب عن بصرہ وقد یخفی علیہ لقلتہ فیقام مقامہ، ٣ و کذا الایلاج فی الدبر لکمال السببیة، ٤ ویجب علی المفعول بہ احتیاطا۔
الغسل۔وفی حدیث مطر : و ان لم ینزل ۔(مسلم شریف ،باب نسخ الماء من الماء و وجوب الغسل بالتقاء الختانین ،ص ١٥٦ نمبر ٣٤٨ ٧٨٣)اس حدیث میں و ان لم ینزل ِ کا لفظ موجود ہے ۔
ترجمہ: ٢ اور اسلئے بھی کہ فرج میں داخل ہو نا انزال کا سبب ہے ۔اور خود عضو تناسل نگاہ سے غائب ہو تا ہے اور منی کم ہو نے کی وجہ سے بعض مرتبہ پتہ بھی نہیں چلتا ہے اسلئے حشفہ کے داخل ہونے کو انزال کے قائم مقام قرار دے دیا ( اور غسل واجب کر دیا )
تشریح: حشفہ غائب ہونے سے غسل واجب ہونے کی یہ دلیل عقلی ہے ۔کہ جب حشفہ غائب ہو گیا تو منی نکلی یا نہیں نکلی بعض مرتبہ اسکا پتہ نہیں چلتا ہے کیونکہ منی کم ہوتی ہے اسلئے حشفہ غائب ہونے کو ہی منی نکلنے کے قائم مقام قرار دے کر غسل واجب کر دیا گیا ۔
ترجمہ: ٣ ایسے ہی غسل واجب ہوگا دبر میں داخل کرنے سے سبب کے مکمل ہونے کی وجہ سے ۔یعنی عضو تناسل دبر میں اتنا داخل کردیا کہ حشفہ غائب ہو گیا تو چاہے منی کا خروج نہ ہوا ہو پھر بھی غسل واجب ہو جائے گا ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ جتنی لذت عورت کی شرمگاہ میں ہو تی ہے تقریبا اتنی ہی لذت دبر میں بھی ہو تی ہے ۔اور یہاں بھی حشفہ غائب ہونے کے بعد بعض مرتبہ پتہ نہیں چلتا ہے کہ منی نکلی یا نہیں نکلی اسلئے حشفہ کے غائب ہونے کو منی نکلنے کے درجے میں رکھ کر غسل واجب کر دیا جائے گا ۔کیونکہ حشفہ کا غائب ہونا اور لذت کا مکمل ہو نا دونوں سبب پورے ہیں اسلئے التقاء ختانین والی حدیث پر قیاس کرتے ہوئے اس پر غسل واجب کیا جائے گا ۔
ترجمہ: ٤ اور مفعول پر بھی غسل احتیاطا واجب کیا جائے گا ۔
تشریح: جسکے دبر میں حشفہ غائب کردیا اسکی منی نہیں نکلی اور نہ دبر سے منی نکلنے کا سوال ہے اسلئے اس پر غسل واجب نہیں ہونا چاہئے ۔چنانچہ اثر میں اسکا ثبوت ہے ۔عن الحسن فی الرجل یصیب من المرأة فی غیر فرجھا قال : ان ھی انزلت اغتسلت و ان ھی لم تنزل توضأت و غسلت ما اصاب من جسدھا من ماء الرجل ۔(مصنف ابن ابی شیبة ،١٠٩ فی الرجل یجامع امرأتہ دون الفرج ،ج اول ،ص ٨٩ ،نمبر ٩٩٢ مصنف عبد الرزاق ،باب الرجل یصیب امرأتہ فی غیر الفرج ،ج اول ،ص ٢٥٣ ،نمبر ٩٧١ ) اس اثر سے معلوم ہوا کہ یا عورت کے فرج میں داخل کرے ،یا منی نکلے تب ہی غسل واجب ہو گا۔اور یہاں منی نہیں نکلی ہے اسلئے غسل واجب نہیں ہو گا ۔لیکن جسم کے اندر حشفہ داخل ہو چکا ہے اسلئے احتیاط کا تقاضا ہے کہ غسل کر لے ۔اس اثر میں اسکا ثبوت ہے ۔عن ابن عباس قال یغتسل ۔(مصنف عبدالرزاق،نمبر ٩٧٣ ) (٢) یوں بھی عورت کی شرمگاہ کی طرح اسکے دبر کے اندر داخل ہو چکا ہے تو جس طرح عورت سے منی نکلے یا نہ نکلے غسل واجب ہو تا ہے یہاں بھی منی نہ نکلے پھر بھی احتیاطا غسل واجب ہو نا چاہئے ۔البتہ دبر کے باہر رہے تو غسل واجب نہیں ہو گا ۔