٧ ولھما انہ متی وجب من وجہ فالاحتیاط فی الایجاب (٣٤) و التقاء الختانین من غیر انزال)
١ لقولہںاذا التقی الختانان و غابت الحشفة وجب الغسل انزل او لم ینزل،
کے بعد منی کو باہر نکلنے دیا تو چونکہ باہر نکلتے وقت شہوت نہیں ہے اسلئے غسل واجب نہیں ہو گا ۔لیکن تھیلی سے کھسکتے وقت شہوت ہے اسلئے طرفین کے نزدیک غسل واجب ہوگا ۔
ترجمہ: ٧ طرفین کی دلیل یہ ہے کہ جب کسی ایک وجہ سے واجب ہوا تو واجب کرنے میں ہی احتیاط ہے ۔یعنی غسل کا وجوب کھسکنے پر بھی ہے اور باہر نکلنے پر بھی ہے تو ایک وجہ سے بھی واجب ہوجائے تو غسل واجب کردینا چاہئے احتیاط کا تقاضا یہی ہے ۔
لغت : الدفق : کود کر نکلنا ۔یقظة : بیداری میں ۔انفصال : جدا ہونا ۔مزایلة : زائل ہونا ،کھسکنا ۔
ترجمہ: (٣٤) مرد اور عورت کی شرمگاہوں کے ملنے سے منی کے انزال کے بغیر ۔
تشریح: عورت کے فرج داخل میں ایک پردہ ہوتا ہے جس کو اہل عرب ختنہ کرتے تھے یہ عورت کے ختنہ کی جگہ ہے ۔اس مقام تک مرد کے ختنہ کی جگہ یعنی حشفہ داخل ہو جائے تو غسل واجب ہو جائے گا۔چاہے منی کاا نزال نہ ہو تب بھی۔
وجہ : (١)جگہ کے پوشیدہ ہونے کی وجہ سے پتہ نہیں چلے گا کہ منی نکلی یا نہیں نکلی۔اس لئے سبب انزال کو انزال کی جگہ پر رکھ کر غسل واجب ہو جائے گا (٢) حدیث میں ہے کہ شروع اسلام میں یہ تھا کہ جب تک منی نہ نکلے تب تک غسل واجب نہیں ہوتا تھا۔اور یہ حدیث مشہور تھی انما الماء من الماء (مسلم شریف ، باب بیان ان الجماع کان فی اول الاسلام لا یوجب الغسل الا ان ینزل المنی وبیان نسخہ وان الغسل یجب بالجماع ص ١٥٥ نمبر ٧٧٥٣٤٣)لیکن بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا۔اور اس بات پر اجماع ہو گیا کہ صرف جماع کرنے سے غسل واجب ہو جائے گا۔چاہے منی کاخروج نہ ہوا ہو۔اوپر ہی کے باب میں یہ حدیث ہے عن عائشة قال رسول اللہ ۖ اذا جلس بین شعبھا الاربع ومس الختان الختان فقد وجب الغسل ۔ (مسلم شریف باب بیان ان الجماع الخ ص ١٥٦ نمبر ٧٨٥٣٤٩ ابو داؤد ،باب فی الاکسال ص ٣٢ نمبر ٢١٦ )میں منسوخ کے مسئلے کو بڑی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ تفصیل اس طرح ہے ان ابی بن کعب اخبرہ ان رسول اللہ ۖ انما جعل ذلک رخصة فی اول الاسلام لقلة الثیاب ثم امر بالغسل ونہی عن ذلک (ابوداؤد، باب فی الاکسال نمبر ٢١٤)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صرف حشفہ غائب ہونے سے غسل واجب ہوگا چاہے انزال نہ ہوا ہو۔
ترجمہ: ١ حضور ۖ کے قول کی وجہ سے کہ جب ختنے کا مقام ختنے کے مقام سے مل جائے اور حشفہ غائب ہو جائے تو غسل واجب ہو جائے گا انزال ہوا ہو یا نہ ہوا ہو ۔ یہ حدیث دوحدیثوں کا مجموعہ ہے جسکا ایک ٹکڑا تو اوپر حضرت عائشہ کی حدیث گزری اور دوسرا ٹکڑا یہ ہے عن ابی ھریرة ان النبی ۖ قال : اذا جلس بین شعبھا الاربع ثم جھدھا فقد وجب علیہ