Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

109 - 627
٧  ولھما انہ متی وجب من وجہ فالاحتیاط فی الایجاب  (٣٤)  و التقاء الختانین من غیر انزال)
  ١  لقولہںاذا التقی الختانان و غابت الحشفة وجب الغسل انزل او لم ینزل،

کے بعد منی کو باہر نکلنے دیا تو چونکہ باہر نکلتے وقت شہوت نہیں ہے اسلئے غسل واجب نہیں ہو گا ۔لیکن تھیلی سے کھسکتے وقت شہوت ہے اسلئے طرفین کے نزدیک غسل واجب ہوگا ۔
ترجمہ:  ٧  طرفین کی دلیل یہ ہے کہ جب کسی ایک وجہ سے واجب ہوا تو واجب کرنے میں ہی احتیاط ہے ۔یعنی غسل کا وجوب کھسکنے پر بھی ہے اور باہر نکلنے پر بھی ہے تو ایک وجہ سے بھی واجب ہوجائے تو غسل واجب کردینا چاہئے احتیاط کا تقاضا یہی ہے ۔
لغت   :  الدفق : کود کر نکلنا ۔یقظة : بیداری میں ۔انفصال : جدا ہونا ۔مزایلة : زائل ہونا ،کھسکنا ۔
ترجمہ:  (٣٤)  مرد اور عورت کی شرمگاہوں کے ملنے سے منی کے انزال کے بغیر ۔
 تشریح:   عورت کے فرج داخل میں ایک پردہ ہوتا ہے جس کو اہل عرب ختنہ کرتے تھے یہ عورت کے ختنہ کی جگہ ہے ۔اس مقام تک مرد کے ختنہ کی جگہ یعنی حشفہ داخل ہو جائے تو غسل واجب ہو جائے گا۔چاہے منی کاا نزال نہ ہو تب بھی۔
 وجہ :   (١)جگہ کے پوشیدہ ہونے کی وجہ سے پتہ نہیں چلے گا کہ منی نکلی یا نہیں نکلی۔اس لئے سبب انزال کو انزال کی جگہ پر رکھ کر غسل واجب ہو جائے گا (٢) حدیث میں ہے کہ شروع اسلام میں یہ تھا کہ جب تک منی نہ نکلے تب تک غسل واجب نہیں ہوتا تھا۔اور یہ حدیث مشہور تھی انما الماء من الماء (مسلم شریف ، باب بیان ان الجماع کان فی اول الاسلام لا یوجب الغسل الا ان ینزل المنی وبیان نسخہ وان الغسل یجب بالجماع ص ١٥٥ نمبر ٧٧٥٣٤٣)لیکن بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا۔اور اس بات پر اجماع ہو گیا کہ صرف جماع کرنے سے غسل واجب ہو جائے گا۔چاہے منی کاخروج نہ ہوا ہو۔اوپر ہی کے باب میں یہ حدیث ہے عن عائشة  قال رسول اللہ ۖ اذا جلس بین شعبھا الاربع ومس الختان الختان  فقد وجب الغسل ۔ (مسلم شریف باب بیان ان الجماع الخ ص ١٥٦ نمبر ٧٨٥٣٤٩ ابو داؤد ،باب فی الاکسال ص ٣٢ نمبر ٢١٦ )میں منسوخ کے مسئلے کو بڑی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ تفصیل اس طرح ہے ان ابی بن کعب اخبرہ ان رسول اللہ ۖ انما جعل ذلک رخصة فی اول الاسلام لقلة الثیاب ثم امر بالغسل ونہی عن ذلک (ابوداؤد، باب فی الاکسال نمبر ٢١٤)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صرف حشفہ غائب ہونے سے غسل واجب ہوگا چاہے انزال نہ ہوا ہو۔
ترجمہ:   ١ حضور  ۖ کے قول کی وجہ سے کہ جب ختنے کا مقام ختنے کے مقام سے مل جائے اور حشفہ غائب ہو جائے تو غسل واجب ہو جائے گا انزال ہوا ہو یا نہ ہوا ہو ۔ یہ حدیث دوحدیثوں کا مجموعہ ہے جسکا ایک ٹکڑا تو اوپر حضرت عائشہ کی حدیث گزری اور دوسرا ٹکڑا یہ ہے عن ابی ھریرة ان النبی  ۖ قال : اذا جلس بین شعبھا الاربع ثم جھدھا فقد وجب علیہ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter