٢ و انما یؤ خر غسل رجلیہ لانھما فی مستنقع الماء المستعمل فلا یفید الغسل حتی لوکان علی لوح لایؤخر ٣ وانما یبدأ بازالة النجاسة الحقیقیة کیلا تزداد باصالة الماء (٣٢) ولیس علی المرأة ان تنقض ضفائرھافی الغسل اذا بلغ الماء اصول الشعر)
حدیث اوپر گزر گئی ۔
ترجمہ: ٢ پائوں دھونے کو موخر اسلئے کرے کہ دونوں پاو ئں مستعمل پانی کے جمع ہونے کی جگہ میں ہیں اسلئے پاؤں دھونے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ہاں اگر کسی تختے پرہوتو دھونا موخر نہ کرے ۔
وجہ : (١)غسل کا مستعمل پانی پاوئں کے پاس جمع ہے اسلئے اگر پاوئں دھوئے گا تو مستعمل پانی پھر پاوئں میں لگ جائے گا اور پاوئں دوبارہ ناپاک ہو جائے گا اسلئے وہاں سے ہٹنے سے پہلے پائوں دھونے سے کوئی فائدہ نہیں ہے اسلئے وہاں سے ہٹنے کے بعد پاؤں دھوئے ۔(٢) مسلم شریف کی حدیث میں بھی تھا کہ حضور ۖ غسل کی جگہ سے ہٹے پھر پاوئں دھویاحدیث یہ ہے حدثتنی خالتی میمونة .....ثم تنحیٰ عن مقامہ ذالک فغسل رجلیہ ۔(مسلم نمبر ٧٢٢ ) کہ اپنی جگہ سے ہٹے پھر پاوئں دھویا ۔
ترجمہ:٣ اور نجاست حقیقیہ کو پہلے زائل کرے تاکہ پانی کے لگنے سے ناپاکی زیادہ نہ ہو جائے
وجہ : (١) اگر جسم پر نجاست حقیقی ہو تو سب سے پہلے اسکو دھوئے تاکہ پانی لگنے کی وجہ سے مزید پھیلے نہیں اور جسم کے دوسرے حصے کو ناپاک نہ کرے ۔(٢) مسلم شریف کی حدیث میں تھا کہ آپ ۖ نے پہلے اپنے فرج کی نجاست کو دھویا ۔عبارت یہ تھی۔ ثم افرغ بہ علیٰ فرجہ ،و غسلہ بشمالہ ۔(مسلم نمبر ٧٢٢)
لغت : فرج : شرمگاہ، یفیض : بدن پر پانی بہائے یتنحی : نحی سے مشتق ہے ،ایک کنارے ہو جائے، ہٹ جائے۔مستنقع : نقع سے مشتق ہے ،پانی جمع ہونے کی جگہ ۔یبدأ : بدأ سے مشتق ہے ،شروع کرنا ۔اصابة : پہنچنا ،پانی کا لگنا ۔
ترجمہ: (٣٢)عورت پر نہیں ہے کہ غسل میں اپنے جوڑے کو کھولے اگر پانی بال کی جڑ میں پہنچ جائے۔
وجہ : (١)قاعدے کے اعتبار سے جنابت، حیض اور نفاس کے غسل میں بالوں کی جڑ تک پانی پہنچانا ضروری ہونا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ مرد کو جوڑا ہو تو اس کو کھولنا اور بالوں پانی میں پہنچانا ضروری ہے۔لیکن عورت کو حضورۖ نے بار بار کی پریشانی کی وجہ سے خصوصی رعایت دی ہے کہ اگر سر کے تمام بالوں کی جڑ تک پانی پہنچ جائے تو جوڑے کو کھولنا ضروری نہیں (٢) حدیث میں ہے عورتوں کو جوڑا کھولنا ضروری نہیں ہے اگر بالوں کی جڑ تک پانی پہنچ جاتا ہو۔عن ام سلمة قالت قلت یا رسول اللہ ۖ انی امرأة اشد ضَفر رأسی افأنقضہ لغسل الجنابة ؟قال لا ، انما یکفیک ان تحثی علی رأسک ثلاث حثیات ثم تفیضین علیک الماء فتطھرین (مسلم شریف، باب حکم ضفائر المغتسلة ص ١٤٩ نمبر ٣٣٠ ٧٤٤ ابو داؤد شریف، باب المرأة ھل تنقض