Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

105 - 627
٢  و انما یؤ خر غسل رجلیہ لانھما فی مستنقع الماء المستعمل فلا یفید الغسل حتی لوکان علی لوح لایؤخر ٣   وانما یبدأ بازالة النجاسة الحقیقیة کیلا تزداد باصالة الماء (٣٢) ولیس علی المرأة ان تنقض ضفائرھافی الغسل اذا بلغ الماء اصول الشعر) 

حدیث اوپر گزر گئی ۔
ترجمہ:  ٢  پائوں دھونے کو موخر اسلئے کرے کہ دونوں پاو ئں مستعمل پانی کے جمع ہونے کی جگہ میں ہیں  اسلئے پاؤں دھونے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ہاں اگر کسی تختے پرہوتو دھونا موخر نہ کرے ۔ 
وجہ :  (١)غسل کا مستعمل پانی پاوئں کے پاس جمع ہے  اسلئے اگر پاوئں دھوئے گا تو مستعمل پانی پھر پاوئں میں لگ جائے گا اور پاوئں دوبارہ ناپاک ہو جائے گا اسلئے وہاں سے ہٹنے سے پہلے پائوں دھونے سے کوئی فائدہ نہیں ہے اسلئے وہاں سے ہٹنے کے بعد پاؤں دھوئے ۔(٢) مسلم شریف کی حدیث میں بھی تھا کہ حضور ۖ  غسل کی جگہ سے ہٹے پھر پاوئں دھویاحدیث یہ ہے حدثتنی  خالتی میمونة .....ثم تنحیٰ عن مقامہ ذالک فغسل رجلیہ ۔(مسلم نمبر ٧٢٢ ) کہ اپنی جگہ سے ہٹے پھر پاوئں دھویا ۔ 
ترجمہ:٣  اور نجاست حقیقیہ کو پہلے زائل کرے تاکہ پانی کے لگنے سے ناپاکی زیادہ نہ ہو جائے  
وجہ :  (١) اگر جسم پر نجاست حقیقی ہو تو سب سے پہلے اسکو دھوئے تاکہ پانی لگنے کی وجہ سے مزید پھیلے نہیں اور جسم کے دوسرے حصے کو ناپاک نہ کرے ۔(٢) مسلم شریف کی حدیث میں تھا کہ آپ ۖ نے پہلے اپنے فرج کی نجاست کو دھویا ۔عبارت یہ تھی۔ ثم  افرغ بہ علیٰ فرجہ ،و غسلہ بشمالہ ۔(مسلم نمبر ٧٢٢) 
لغت :  فرج  :  شرمگاہ،  یفیض  :  بدن پر پانی بہائے  یتنحی  :  نحی سے مشتق ہے ،ایک کنارے ہو جائے، ہٹ جائے۔مستنقع : نقع سے مشتق ہے ،پانی جمع ہونے کی جگہ ۔یبدأ : بدأ سے مشتق ہے ،شروع کرنا ۔اصابة : پہنچنا ،پانی کا لگنا ۔
ترجمہ:  (٣٢)عورت پر نہیں ہے کہ غسل میں اپنے جوڑے کو کھولے اگر پانی بال کی جڑ میں پہنچ جائے۔
وجہ :   (١)قاعدے کے اعتبار سے جنابت، حیض اور نفاس کے غسل میں بالوں کی جڑ تک پانی پہنچانا ضروری ہونا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ مرد کو جوڑا ہو تو اس کو کھولنا اور بالوں پانی میں پہنچانا ضروری ہے۔لیکن عورت کو حضورۖ نے بار بار کی پریشانی کی وجہ سے خصوصی رعایت دی ہے کہ اگر سر کے تمام بالوں کی جڑ تک پانی پہنچ جائے تو جوڑے کو کھولنا ضروری نہیں (٢) حدیث میں ہے عورتوں کو جوڑا کھولنا ضروری نہیں ہے اگر بالوں کی جڑ تک پانی پہنچ جاتا ہو۔عن ام سلمة قالت قلت یا رسول اللہ ۖ انی امرأة اشد ضَفر رأسی افأنقضہ لغسل الجنابة ؟قال لا ، انما یکفیک ان تحثی علی رأسک ثلاث حثیات ثم تفیضین علیک الماء فتطھرین  (مسلم شریف، باب حکم ضفائر المغتسلة ص ١٤٩ نمبر ٣٣٠ ٧٤٤ ابو داؤد شریف، باب المرأة ھل تنقض 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter