Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

104 - 627
 (٣١)  سننہ ان یبدأ المغتسل فیغسل  یدیہ، و فرجہ، و یزیل النجاسة ان کانت علی بدنہ ثم یتوضأ و ضوئہ للصلوٰة الا رجلیہ ثم یفیض الماء علی رأسہ، و سائر جسدہ ثلاثا، ثم یتنحی ٰ عن ذالک المکان، فیغسل رجلیہ )  ١  ھٰکذا حکت میمونة  اغتسال رسول اللہ ۖ 

للجنب ثلاثا فریضة ۔ (دار قطنی باب ماروی فی المضمضة و الاستنشاق فی غسل الجنابة ،ج اول ،ص ١٢١ نمبر ٤٠٣ )  اس حدیث میں ہے کہ مضمضة اور ستشاق جنابت میں فرض ہیں ۔
(نوٹ) صاحب ھدایہ کی پیش کردہ حدیث کہ یہ دونوں جنابت میں فرض ہیں اور وضو میں سنت ہیں ۔دو حدیثوں کا مجموعہ ہے۔جنابت میں مضمضة اور استنشاق فرض ہیں اسکی دلیل اوپر والی دارقطنی ،نمبر ٤٠٣ ،کی حدیث ہے، اور یہ دونوں وضو میں سنت ہیں اسکے لئے مسلم شریف کی فطرت والی حدیث ہے ۔
لغت :  مضمضة : کلی کرنے کو مضمضة کہتے ہیں ۔استنشاق : نشقسے مشتق ہے ،ناک میں پانی ڈالنا ۔اطّھر : باب افّعّلسے ہے خوب خوب پاک کرنا ۔مواجھة : وجہ سے مشتق ہے آمنے سامنے ہونا ۔منعدمة : عدم سے مشتق ہے معدوم ہو نا ،کچھ نہ ہونا ۔
ترجمہ:  (٣١) غسل کی سنتیں یہ ہیں (١) غسل کرنے والا پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھوئے(٢)اور اپنی شرم گاہ کو دھوئے (٣) اور نجاست کو زائل کرے اگر اس کے بدن پر ہو(٤) پھر نماز کے وضوکی طرح وضو کرے مگر پاؤں ابھی نہ دھوئے (٥) پھر اپنے سر پر پانی بہائے (٦) اور پورے بدن پر تین مرتبہ پانی بہائے (٧) پھر اس جگہ سے الگ ہو جائے (٨) پھر دونوں پاؤں کو دھوئے۔
 وجہ :   یہ آٹھ کام اسی ترتیب سے سنت ہیں۔ پاؤں پہلے اس لئے نہ دھوئے کہ غسل کا پانی پاؤں کے پاس جمع ہو گا اور پاؤں کو ناپاک کر دے گا۔ اس لئے اس کو اخیر میں دھوئے۔البتہ پانی پاؤں کے پاس جمع نہ ہوتا ہو تو پہلے بھی پاؤں دھو سکتا ہے۔ حدیث میں اسی ترتیب سے ان سنتوں کا ذکر ہے۔ حدثتنی خالتی میمونة قالت : ادنیت لرسول اللہ  ۖ غسلہ من الجنابة،فغسل کفیہ مرتین او ثلاثا ً ،ثم ادخل یدہ فی الاناء ،ثم افرغ بہ علی فرجہ ،و غسلہ بشمالہ ،ثم ضرب بشمالہ الارض ،فدلکھا دلکاً شدیدا، ثم  توضأ وضوئہ للصلاة ثم افرغ علی رأسہ ثلاث حفنات ملء کفہ،ثم غسل سائر جسدہ ،ثم تنحٰی عن مقامہ ذالک فغسل رجلیہ ،ثم اتیتہ بالمندیل فردہ  (مسلم شریف، باب صفة غسل الجنابة ص ١٤٧ نمبر٧٢٢٣١٧ بخاری شریف، باب الغسل مرة واحدة ،ص٣٩، نمبر ٢٥٧) اس حدیث سے ترتیب کے ساتھ سنتیں ثابت ہوئی ہیں ۔
ترجمہ:   ١   اسی ترتیب سے حضرت میمونہ  نے رسول اللہ ۖ کے غسل کو بیان فرمایا ۔اس مضمون کے لئے مسلم شریف کی 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter