(٣١) سننہ ان یبدأ المغتسل فیغسل یدیہ، و فرجہ، و یزیل النجاسة ان کانت علی بدنہ ثم یتوضأ و ضوئہ للصلوٰة الا رجلیہ ثم یفیض الماء علی رأسہ، و سائر جسدہ ثلاثا، ثم یتنحی ٰ عن ذالک المکان، فیغسل رجلیہ ) ١ ھٰکذا حکت میمونة اغتسال رسول اللہ ۖ
للجنب ثلاثا فریضة ۔ (دار قطنی باب ماروی فی المضمضة و الاستنشاق فی غسل الجنابة ،ج اول ،ص ١٢١ نمبر ٤٠٣ ) اس حدیث میں ہے کہ مضمضة اور ستشاق جنابت میں فرض ہیں ۔
(نوٹ) صاحب ھدایہ کی پیش کردہ حدیث کہ یہ دونوں جنابت میں فرض ہیں اور وضو میں سنت ہیں ۔دو حدیثوں کا مجموعہ ہے۔جنابت میں مضمضة اور استنشاق فرض ہیں اسکی دلیل اوپر والی دارقطنی ،نمبر ٤٠٣ ،کی حدیث ہے، اور یہ دونوں وضو میں سنت ہیں اسکے لئے مسلم شریف کی فطرت والی حدیث ہے ۔
لغت : مضمضة : کلی کرنے کو مضمضة کہتے ہیں ۔استنشاق : نشقسے مشتق ہے ،ناک میں پانی ڈالنا ۔اطّھر : باب افّعّلسے ہے خوب خوب پاک کرنا ۔مواجھة : وجہ سے مشتق ہے آمنے سامنے ہونا ۔منعدمة : عدم سے مشتق ہے معدوم ہو نا ،کچھ نہ ہونا ۔
ترجمہ: (٣١) غسل کی سنتیں یہ ہیں (١) غسل کرنے والا پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھوئے(٢)اور اپنی شرم گاہ کو دھوئے (٣) اور نجاست کو زائل کرے اگر اس کے بدن پر ہو(٤) پھر نماز کے وضوکی طرح وضو کرے مگر پاؤں ابھی نہ دھوئے (٥) پھر اپنے سر پر پانی بہائے (٦) اور پورے بدن پر تین مرتبہ پانی بہائے (٧) پھر اس جگہ سے الگ ہو جائے (٨) پھر دونوں پاؤں کو دھوئے۔
وجہ : یہ آٹھ کام اسی ترتیب سے سنت ہیں۔ پاؤں پہلے اس لئے نہ دھوئے کہ غسل کا پانی پاؤں کے پاس جمع ہو گا اور پاؤں کو ناپاک کر دے گا۔ اس لئے اس کو اخیر میں دھوئے۔البتہ پانی پاؤں کے پاس جمع نہ ہوتا ہو تو پہلے بھی پاؤں دھو سکتا ہے۔ حدیث میں اسی ترتیب سے ان سنتوں کا ذکر ہے۔ حدثتنی خالتی میمونة قالت : ادنیت لرسول اللہ ۖ غسلہ من الجنابة،فغسل کفیہ مرتین او ثلاثا ً ،ثم ادخل یدہ فی الاناء ،ثم افرغ بہ علی فرجہ ،و غسلہ بشمالہ ،ثم ضرب بشمالہ الارض ،فدلکھا دلکاً شدیدا، ثم توضأ وضوئہ للصلاة ثم افرغ علی رأسہ ثلاث حفنات ملء کفہ،ثم غسل سائر جسدہ ،ثم تنحٰی عن مقامہ ذالک فغسل رجلیہ ،ثم اتیتہ بالمندیل فردہ (مسلم شریف، باب صفة غسل الجنابة ص ١٤٧ نمبر٧٢٢٣١٧ بخاری شریف، باب الغسل مرة واحدة ،ص٣٩، نمبر ٢٥٧) اس حدیث سے ترتیب کے ساتھ سنتیں ثابت ہوئی ہیں ۔
ترجمہ: ١ اسی ترتیب سے حضرت میمونہ نے رسول اللہ ۖ کے غسل کو بیان فرمایا ۔اس مضمون کے لئے مسلم شریف کی