١ لقولہ علیہ السلام لام سلمة یکفیک اذا بلغ الماء اصول شعرک، و لیس علیھا بل ذوائبھا ھو الصحیح لما فیہ من الحرج ٢ بخلاف اللحیة لانہ لا حرج فی ایصال الماء الی اثنائھا۔
شعرھا عند الغسل نمبر ٢٥١)اس حدیث کے چار حدیثوں کے بعد عائشہ کی حدیث ہے جس میں یہ لفظ ہے ثم تصب علی رأسھا فتدلکہ دلکا شدیدا حتی تبلغ شؤن رأسھا (مسلم شریف ، باب استعمال المغتسلة من الحیض فرصة من مسک فی موضع الدم ص ١٥٠ نمبر ٧٥٠٣٣٢) اس حدیث سے ثابت ہوا کہ پانی بالوں کی جڑوں کے اندر پہنچانا ضروری ہے تب غسل ہوگا۔ اگر جوڑا نہیں کھولا اور پانی جڑ تک نہیں پہنچا تو عورتوں کا غسل نہیں ہوگا۔
ترجمہ: ١ حضور ۖ نے ام سلمہ سے کہا تمکوغسل کرنا کافی ہے جبکہ پانی تمہارے بالوں کی جڑ تک پہنچ جائے ،اور عورت پر اسکے گیسو کو تر کرنا ضروری نہیں ہے یہی صحیح ہے اسلئے کہ اس میں حرج ہے ۔
تشریح : اوپر کی حدیث دو حدیثوں کا مجموعہ ہے اور دونوں حدیثیں اوپر گزر گئی ۔ااور گیسو تر کرنے میں حرج ہے اسلئے عورت پر غسل جنابت میں بھی گیسو کو تر کرنا واجب نہیں ہے ۔اسکے لئے حدیث اوپر گزر گئی ۔
ترجمہ: ٢ بخلاف داڑھی کے اسلئے کہ پانی اسکے بیچ میں پہنچانے میں حرج نہیں ہے ۔ غسل میں داڑھی کے اندر پانی پہنچانا ضروری ہے کیونکہ اسکے اندر پانی پہنچانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔اور حدیث کے اعتبار سے بھی پانی پہنچانا ضروری ہے ۔
فائدہ: بعض ائمہ کے نزدیک بال کی جڑ تک پانی پہنچانا ضروری نہیں ہے۔ ان کا استدلال حدیث انما تحثی علی رأسک ثلاث حثیات ،ثم تفیضین علیک الماء فتطھرین ۔(مسلم ،٣٣٠٧٤٤ )سے ہے کیونکہ اس حدیث میں بال کی جڑ میں پانی پہنچانے کی شرط نہیں ہے صرف سر پر پانی ڈانے کا حکم ہے ۔
لغت : تنقض : نقض سے کھولنا، ضفائر : ضفیرة کی جمع جوڑا۔ بل : تر کرنا ۔ ذوائبھا : ذائبة کی جمع ہے ،چوٹی ،گیسو ۔اثنا : درمیان میں ۔