ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2013 |
¾اكستان Ù |
|
شب ِبرا ء ت میں کیا ہوتا ہے؟ : حضورِ اَنور ۖ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں : تمہیں معلوم ہے شعبان کی اِس (پندرہویں )شب میں کیا ہوتا ہے ؟ اُنہوں نے دریافت کیا یا رسول اللہ ۖ کیا ہوتا ہے ؟ آپ ۖنے فرمایا اِس رات میں یہ ہوتا ہے کہ اِس سال میں جتنے پیدا ہونے والے ہیں وہ سب لکھ دیے جاتے ہیں اَور جتنے اِس سال مرنے والے ہیں وہ سب بھی اِس رات میں لکھ دیے جاتے ہیں اَور اِس رات میں سب بندوں کے اعمال (سارے سال کے)اُٹھائے جاتے ہیں اَور اِسی رات میں لوگوں کی (مقررہ) روزی اُترتی ہے۔''(بیہقی) ایک اِعتراض اَور اُس کا جواب : یہاں ایک اِعتراض پیدا ہوتا ہے کہ روزی وغیرہ تو پہلے سے لوحِ محفوظ میںلکھی جا چکی ہے پھر اِس کا کیامطلب کہ اِس شب میں اِنسان کو ملنے والی روزی لکھ دی جاتی ہے۔ اِس اِعتراض کا جواب علماء نے یہ دیا ہے کہ اِس شب مذکورہ کاموں کی فہرست لوحِ محفوظ سے علیحدہ کرکے اُن فرشتوں کے سُپرد کردی جاتی ہے جن کے ذمہ یہ کام ہیں۔اَلغرض اِس رات پورے سال کا حال قلمبند ہوتا ہے رزق ،بیماری ،تنگی ،راحت و آرام، دُکھ،تکلیف حتی کہ ہروہ شخص جو اِس سال پیدا ہونے یا مرنے والا ہو اُس کا وقت بھی اِسی شب میں لکھا جاتا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ اِس مہینے کی پندرہویں شب میں مَلکُ الموت( عزرائیل علیہ السلام ) کو ایک رجسٹر دیا جاتا ہے اَورحکم دیا جاتاہے کہ پورے سال میں مرنے والوںکے نام اِس رجسٹر سے نقل کرلو۔ کوئی آدمی کھیتی باڑی کرتاہے، کوئی نکاح کرتا ہے ،کوئی کوٹھی اَور بلڈنگ بنوانے میں مشغول ہے مگر اُس کویہ بھی معلوم نہیں کہ میرا نام مُردوں کی فہرست میں لکھا جا چکا ہے۔ حضور علیہ الصلٰوة والسّلام کا پندرہویں شب میں معمول : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ :