ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2012 |
¾اكستان Ù |
|
کام کرنا چاہتا تو اُس کے حسب ِحال اَور وظائف تعلیم فرماتے۔ ذکر ِ جہری (١٢ تسبیحات) پاس اِنفاس ، اسم ِذات ، ذکرقلبی اَور مراقبہ ۔اِن اَذکار میں علاوہ ذکرِ قلبی اَور مراقبہ کی کوئی خاص ترتیب نہیں تھی، اَگر کوئی فارغ ہوا تو ذکر جہری، پاس اِنفاس، اِسم ِ ذات ایک ساتھ تعلیم فرمادیتے اَور اِسمِ ذات کی تعداد بڑھا کر ایک لاکھ سوالاکھ یومیہ تک پہنچا دیتے تھے۔ جب حالات آپ کے معیار کے مطابق ہوجاتے تو ذکر قلبی اَور پھر مراقبہ تعلیم فرمادیتے تھے اَور اِرشاد فرمایا کرتے تھے کہ مراقبہ پر تمام سلسلوں کی تعلیم ایک ہوجاتی ہے اَور یہی ذکر مقصود بالذات ہے اِس کے علاوہ شاذو نادر ہی آپ نے حبس ِدَم اَور دُوسرے اَذکار کی تعلیم فرمائی ہے۔ عمومًا ایسا ہوتا کہ اِن اَذکار پر مداومت کرنے اَور آپ کی توجہات کی برکت سے سالک منزلِ مقصود کو پہنچ جاتا تھا مراقبہ میں آپ کا ایک خاص معیار تھا جس پر آپ سالک کو اِجازت ِ بیعت عنایت فرمادیتے تھے۔ عورتوں کو آپ زیادہ اَذکار تعلیم نہیں فرماتے تھے بلکہ اُن کو نماز، روزہ، تلاوت ِ قرآن، تسبیحات ِ ستہ اَور زیادہ سے زیادہ تین ہزار یا چھ ہزار اِسم ِ ذات تعلیم فرماتے تھے۔ سلوک کی یہ وہ تعلیم ہے کہ جس پر عمل کر کے بفضلہ تعالیٰ ١٦٦ خلفاء ہوئے جو ہندوستان اَور بیرونِ ہندوستان پھیلے ہوئے ہیں۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کافی عرصہ ہوا میں نے حضرت رحمة اللہ علیہ سے عرض کیا کہ آج میرا آپ سے لڑنے کو جی چاہتا ہے۔ حضرت نے فرمایا، شوق سے لڑیے، میں نے عرض کیا کہ حضور! حضرت گنگوہی اَور حضرت حاجی صاحب نے جو خدمت آپ کے سپرد کی تھی اُس کا بھی کچھ خیال ہے یا آزادیٔ ہند میں حصہ لیتے رہیے گا۔ فرمایا کہ میں اُس خدمت سے غافل نہیں ہوں بلکہ سلہٹ رمضان المبارک کے مہینہ میں اِسی غرض سے قیام کرتا ہوں۔ حضرت شیخ الحدیث رحمة اللہ علیہ اِرشاد فرماتے ہیں اِس کے بعد حضرت جب بھی سلہٹ سے واپس تشریف لائے تو دو چار خطوط سالکین کے مجھے دِکھاتے اَور فرماتے دیکھیے اِن حضرات کی کیسی