ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2011 |
¾اكستان Ù |
|
دوا کے لیے اِصرار کرتے بمشکل تمام دوا ستعمال فرماتے اَور یہ فرمایا کرتے تھے کہ کیا آپ لوگ علاج کے ذریعہ موت کو روک سکتے ہیں، کیاضرورت ہے دوا کی۔ لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ علاج ہی نہیں کرتے تھے اِتباعِ سنت کی غرض سے علاج بھی کرتے تھے مگر بہت اِصرار پر۔ اِس جگہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ نام نہاد متوکلین کی غلط فہمی کو دُور کردُوں۔ اِمام غزالی اِحیاء العلوم میں فرماتے ہیں : وَقَدْ یُظَنُّ اَنَّ مَعْنَی التَّوَکُّلِ تَرْکُ الْکَسَبِ بِالْبَدَنِ وَتَرْکُ التَّدْبِیْرِ بِالْقَلْبِ وَالسُّقُوْطُ عَلَی الْاَرْضِ وَالْخِرْقَةُ الْمُلْقَاةُ وَھٰذَا ظَنُّ الْجَاھِلِیْنَ فَاِنَّ ذَالِکَ حَرَام فِی الشَّرَعِ ۔ (اِحیاء العلوم ج ٤ ص ٢٥٨) ''گمان کیا جاتا ہے کہ توکل ترک ِکسب اَور ترکِ تدابیر کا نام ہے اَور بوسیدہ کپڑے کی طرح جو زمین پر گرجانے کا نام ہے غلط ہے، یہ جاہلوں کا گمان ہے جو شریعت میں حرام ہے'' یہی وجہ ہے کہ تمام اَنبیاء علیہم السلام اَور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کسب کر کے روزی حاصل کی اَور جو کچھ کمایا اُس کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں بھی صرف کیا اَور اہل و عیال پر بھی صرف کیا ۔یہی طریقہ حضرت شیخ الاسلام کا تھا، اَنبیاء علیہم السلام کی اِتباع کی غرض سے ملازمت اَور سب جانتے ہیں کہ آپ کو ملتا ہی کیا تھا، جوملتا تھا اُس کا کئی گنا قرض لینا پڑتا تھا، اپنے لیے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے۔ بہر حال حضرت حضرت شیخ الاسلام اعلیٰ مقام کے متوکلین میں سے تھے۔ (جاری ہے) ماہنامہ اَنوار مدینہ لاہور میں اِشتہار دے کر آپ اَپنے کاروبار کی تشہیر اَور دینی اِدارہ کا تعاون ایک ساتھ کر سکتے ہیں ! نرخ نامہ بیرون ٹائٹل مکمل صفحہ2000اَندرون رسالہ مکمل صفحہ1000اَندرون ٹائٹل مکمل صفحہ1500اَندرون رسالہ نصف صفحہ500