ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2010 |
اكستان |
|
قَاضِیَ الْحَاجَاتِ اِلَّا اَنْتَ وَلَا غَافِرَ الذُّنُوْبِ اِلَّا اَنْتَ وَلَا فَاعِلَ فِی الْحَقِیْقَةِ اِلَّا اَنْتَ وَلَامَوْجُوْدَ فِی الْحَقِیْقَةِ اِلَّا اَنْتَ۔ رحیم و کریم! میں اپنے گناہوں کا صدقِ دِل سے اعتراف کرتا ہوں میری ساری زندگی نافرمانیوں میں بسر ہوئی ہے۔ واپس آمد بندۂ بگریختہ آبروئے خود زعصیاں ریختہ بے گنہ نگذشت برمن ساعتے باحضور دِل نکردم طاعتے اے ستار العیوب! میں بصمیمِ قلب اِقرار کر تاہوں کہ میںنے تیرے مقبول بارگاہ اَور برگزیدہ بندے شیخ الاسلام مجاہد اعظم قدوة العارفین زبدة الکاملین سیدی شیخی و سندی و وسیلتی فی الدارین سیّد حسین احمدصاحب مدنی قدس سر ہ العزیز کی شان اَقدس میں اپنے قلم اَور اپنی زبان سے بڑی گستاخیاں کیں، میں اپنی اِس نالائقی اَور حماقت کو کسی پردے میں نہیں چھپانا چاہتا علانیہ صاف لفظوں میں اپنے گناہوں کااقرار کرتاہوں۔ اے اللہ ! میں اَندھا اَور جاہل اَور احمق اَورعقل وخرو سے بیگانہ ہوگیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جس شخص نے حرم ِنبوی میں بیٹھ کر چودہ سال تک دین کی تعلیم و تبلیغ کی اَور ساری عمر اِتباع رسول ۖ میں بسرکردی تھی اُسے مقام ِ رسول سے بے خبر قرار دیتارہابلکہ اُس کی شان میں گستاخیاں کر تارہااَور ستم بالائے ستم یہ کہ اِن گستاخیوں پرفخر کرتارہا۔ اے اللہ! یہاں کی ذلت اَور رسوائی مجھے منظورہے ،میں تو یوں بھی سراپاخطا اَور مجسم گناہ ہوں، مجھ میں اَورہی کونسی خوبی ہے جس پر ناز کرسکتا ہوں مجھے قیامت میں اپنی خفگی اَور اپنے محبوب کی ناراضگی سے محفوظ رکھیو۔ اے اللہ! میں ڈرتاہوں اَور سخت لرزہ براَندام ہوں اِس بات سے کہ قیامت میں جب حضور اَنور ۖ کی نگاہ مجھ پر پڑے گی تو کہیں آنحضور ۖ مجھ سے اِس اَندازمیں خطاب نہ فرمائیں: ''اچھاتو تم ہو وہ گستاخ اَور دریدہ دہن جس نے میرے اُس عاشق صادق کی شان میں بے اَدبی کی تھی جس نے میرے دین کی سربلندی کی خاطر اَور میری