ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2010 |
اكستان |
|
عقل سے صرف یہ معلوم ہو سکتاہے کہ اِس دُنیاکابنانے والا ہے کوئی ہے ضرور۔ یہ خودبخودتونہیں بن گئی ہے، بس یہاں عقل کاکام ختم ہوجاتاہے۔ لہٰذااِنسان کا خدا سے رابطہ توقائم ہوجاتا ہے مگر وہ رابطہ زندہ یامؤثرنہیں ہوتا یعنی اِس کی بدولت زندگی میں اِنقلاب پیدا نہیں ہو سکتا لیکن عشق خدا کی ہستی کایقین ١ پیدا کردیتا ہے اَور یقینِ کامل کے بعدجو رابطہ پیدا ہوتاہے وہ زندہ یا مؤثرہوتاہے یعنی سالک کی زندگی میں اِنقلاب پیدا ہوجاتاہے۔ ١ اکبر الٰہ آبادی نے اِس نکتہ کو یوں بیان کیا اِک لطافت قلب میں تھی ، عقل و حکمت کے سوا رہ گئے سب وہ مگر پرتو ترا پا ہی گئی یعنی عقل، حکمت، منطق، فلسفہ اَور کلام یہ سارے علوم و آلات ناکام ہوگئے تیرا پرتو اگر پاسکی تو وہ لطافت جووَراء العقل تھی اَور جس کا محل ''قلب'' ہے۔ دُنیا کی تاریخ اُٹھاکر دیکھ لوکسی فلسفی یامنطقی نے اپنے شاگردوں کی زندگی میں اِنقلاب پیدا نہیں کیا۔ یہ نعمت صرف عاشقوں کی جوتیاں سر پر رکھنے سے حاصل ہوتی ہے اِسی لیے اَمیر خسرونے سلطان جی کی جوتیاں سر پر رکھ لی تھیں۔ عام قارئین کے لیے یہ وضاحت ضروری تھی ورنہ وہ محترمی قاضی صاحب کے اِس تہدیدی جملے کی اہمیت کا اَندازہ نہیں کرسکتے تھے کہ شیخ کی شان میں بے اَدبی سے نہ صرف اکثرمقامات رُک جاتے ہیں بلکہ لطائف ہی بُجھ جاتے ہیں۔ اِن تفصیلات کے بعد اَب میںسب سے پہلے اللہ تعالیٰ کاشکر اَدا کرتا ہوں کہ اُس نے وفات سے پہلے مجھے توبہ کی اَور اِنابت کی توفیق عطا فرمائی، اِس کے بعد حضرت مولانا احمدعلی صاحب لاہوری کے لیے دُعائے خیر کرتا ہوں کہ اُنہوں نے مجھے حضرت اَقدس کے مقام سے آگاہ فرمایا اَور اِس کے بعد محترم قاضی زاہد الحسینی صاحب کا شکر یہ اَدا کرتا ہوں کہ اُنہوں نے مجھے اِس کارِ خیر پر آمادہ کیا۔ آخر میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کرتا ہوں کہ : اے اللہ! اے غافرالذنب وقابل التوب! اے غفور الرحیم ! لَآ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ وَلَا