Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2010

اكستان

36 - 64
شب ِعید کی فضیلت  : 
٭  حضرت ابو مامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم  ۖ نے فرمایا جس شخص نے دونوں عیدوں (یعنی عید الفطر اَور عید الاضحی) کی راتوں میں ثواب کی نیت سے عبادت کی تو اُس کا دِل اُس دِن نہیں مرے گا جس دِل لوگوں کے دِل مرجائیں گے۔(الترغیب  ج ٢  ص ١٥٢) 
مطلب یہ ہے کہ آدمی اِن راتوں کو عبادت ِ الٰہی میں مصروف رکھے۔ نماز تلاوت اَور ذکر ودُعا کرتا رہے۔ اِن راتوں میں عبادت کرنے والے کا دِل نہ مرے گا۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے خوف ناک، ہولناک اَور دہشت ناک دِن میں جبکہ ہرطرف خوف و ہراس گھبراہٹ اَور دہشت پھیلی ہوئی ہوگی لوگ بدحواس ہوں گے اُس دِن میں حق جل شانہ اِس کو نعمت والی اَور پُر سعادت زندگی سے سر فراز فرمائیں گے۔ 
٭  حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور  ۖ  نے فرمایا جس شخص نے پانچ راتیں زندہ رکھیں اُس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔وہ پانچ راتیں یہ ہیں: آٹھ ذی الحجہ کی رات، عرفہ کی رات، بقر عید کی رات، عید الفطر کی رات اَور پندرھویں شعبان کی رات ۔( الترغیب  ج ٢  ص ١٥٢) 
مذکورہ حدیث میں اِن پانچ راتوں کی ایک خاص فضیلت یہ بیان فرمائی ہے کہ جو شخص اِن پانچ راتوں میں جاگ کر ذکرِ الٰہی اَور عبادت میں لگا رہے گا اللہ تعالیٰ اُس پر اپنا خاص اِنعام یہ نازل فرمائیں گے کہ اُسے جنت کی دو لت سے مالا مال فرمائیں گے۔ پورے سال میں صرف اِن پانچ راتوں میں جاگ کر عبادت کرنا کوئی مشکل اَور دُشوار کام نہیں ہے۔ 
شب ِ عید کی بے قدری  :
مذکورہ اَحادیث سے معلوم ہوا کہ عید کی رات کتنی فضیلت والی رات ہے اَور کس قدراہم رات ہے مگر نہایت اَفسوس کا مقام ہے کہ ہم نے اِس مبارک رات کی فضیلتوں اَور برکتوں سے اپنے آپ کو محروم کیا ہوا ہے۔ اِس مبارک رات کو طرح طرح کی لغو اَور فضول باتوںاَور فضول خرچیوںمیں برباد کر دیتے ہیں۔ عید کا چاند نظر آتے ہی بے شمار لوگ بازار کا رُخ کرتے ہیں اَور رات کا بیشتر حصہ اِن بازاروں میں برباد کر دیا جاتاہے جہاں طرح طرح کے گناہ ہوتے ہیں۔ 
اگر اِس مبارک رات میں نیک کام کی توفیق نہ ہو تو کم اَزکم یہ کوشش کی جائے کہ گناہ میں تو مبتلاء نہ
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 علمی مضامین 11 1
4 شہد کے فوائد 11 3
5 اَنفَاسِ قدسیہ 14 1
6 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدصاحب مدنی کی خصوصیات 14 5
7 خصوصیاتِ درس : 14 5
8 شاگردوں کی تعداد : 16 5
9 علمی تصانیف 16 5
10 (١) حواشی قرآن شریف : 17 5
11 (٢) نقش ِحیات : 17 5
12 (٣) مکتوبات : 17 5
13 (٤) سلاسلِ طیبہ : 17 5
14 (٥) اِیمان و عمل، اَورمودودی دَستور کی حقیقت 17 5
15 تربیت ِ اَولاد 18 1
16 مکتب یعنی بسم اللہ کی رسم کا بیان 18 15
17 بچوں کی تعلیم سے متعلق ضروری ہدایات 20 15
18 ہندی اَنگریزی تعلیم سے پہلے بچہ کو قرآن اَور دینی تعلیم پڑھائیں 20 15
19 اُمت ِمسلمہ کی مائیں 21 1
20 حرم ِ نبوت میں آنا : 21 19
21 حرم ِ نبوت میں آنے سے پوری قوم کا بھلا ہوا : 22 19
22 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اِس واقعہ کے متعلق فرمایا 23 19
23 سیّد عالم ۖ کو چھوڑ کرباپ کے ساتھ جانے سے اِنکار 23 19
24 والد کا مسلمان ہونا : 23 19
25 تبدیلی ٔنام : 24 19
26 ذکر ِالٰہی : 25 19
27 وفات : 25 19
28 صدقۂ فطر کے احکام 26 1
29 صدقہ فطر کس پر واجب ہے 26 28
30 صدقہ فطر کے فائدے 26 28
31 کس کی طرف سے صدقہ فطر اَدا کیا جائے 27 28
32 صدقہ فطر میں کیا دِیا جائے 27 28
33 صدقہ فطر کی اَدائیگی کا وقت 28 28
34 نابالغ کی طرف سے صدقہ فطر 28 28
35 صدقہ فطر میں نقد قیمت یا آٹاوغیرہ : 29 28
36 صدقہ فطر کی اَدائیگی میں کچھ تفصیل 29 28
37 صاحب ِنصاب کو صدقہ فطر دینا جائز نہیں 29 28
38 رشتہ داروں کو صدقہ فطر دینے میں تفصیل 30 28
39 رشتہ داروں کو دینے سے دوہرا ثواب ہوتا ہے 30 28
40 نوکروں کو صدقہ دینا 30 28
41 بالغ عورت اگر صاحب ِنصاب ہو 30 28
42 شب ِقدر قرآن وسنت کی روشنی میں 32 1
43 عید اَور ماہ ِ شوال کی فضیلت 35 1
44 شب ِ عید کی بے قدری 36 43
45 عید کے دِن کی فضیلت 37 43
46 عید کی سنتیں : 38 43
47 عید کے دِن کی تیرہ سنتیں ہیں 38 43
48 شوال کی چھ روزوں کی فضیلت : 38 43
49 اِسلام کی اِنسانیت نوازی 42 1
50 اِسلام میں عورتوںکا مرتبہ : 42 49
51 ٍٍمغرب میں عورتوں کے حقوق کی پامالی 43 49
52 گلد ستہ اَحادیث 44 1
53 جنت کی خوشبو چالیس برس کی مسافت سے محسوس کی جا رہی ہوگی : 45 52
54 مسجد حرام اَور مسجد ِ اقصی کی تعمیر کے درمیان چالیس سال کا فرق ہے 45 52
55 بقیہ : اِسلام کی اِنسانیت نوازی 46 49
56 قسط : ٢توبہ نامہ 47 1
57 فصل ِ دوم : 47 56
58 وفیات 61 1
59 دینی مسائل 62 1
60 نہ بولنے کی قسم کھانے کا بیان : 62 59
61 بیچنے اَور مول لینے کی قسم کھانے کا بیان : 62 59
Flag Counter