ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2010 |
اكستان |
|
شب ِعید کی فضیلت : ٭ حضرت ابو مامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم ۖ نے فرمایا جس شخص نے دونوں عیدوں (یعنی عید الفطر اَور عید الاضحی) کی راتوں میں ثواب کی نیت سے عبادت کی تو اُس کا دِل اُس دِن نہیں مرے گا جس دِل لوگوں کے دِل مرجائیں گے۔(الترغیب ج ٢ ص ١٥٢) مطلب یہ ہے کہ آدمی اِن راتوں کو عبادت ِ الٰہی میں مصروف رکھے۔ نماز تلاوت اَور ذکر ودُعا کرتا رہے۔ اِن راتوں میں عبادت کرنے والے کا دِل نہ مرے گا۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے خوف ناک، ہولناک اَور دہشت ناک دِن میں جبکہ ہرطرف خوف و ہراس گھبراہٹ اَور دہشت پھیلی ہوئی ہوگی لوگ بدحواس ہوں گے اُس دِن میں حق جل شانہ اِس کو نعمت والی اَور پُر سعادت زندگی سے سر فراز فرمائیں گے۔ ٭ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور ۖ نے فرمایا جس شخص نے پانچ راتیں زندہ رکھیں اُس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔وہ پانچ راتیں یہ ہیں: آٹھ ذی الحجہ کی رات، عرفہ کی رات، بقر عید کی رات، عید الفطر کی رات اَور پندرھویں شعبان کی رات ۔( الترغیب ج ٢ ص ١٥٢) مذکورہ حدیث میں اِن پانچ راتوں کی ایک خاص فضیلت یہ بیان فرمائی ہے کہ جو شخص اِن پانچ راتوں میں جاگ کر ذکرِ الٰہی اَور عبادت میں لگا رہے گا اللہ تعالیٰ اُس پر اپنا خاص اِنعام یہ نازل فرمائیں گے کہ اُسے جنت کی دو لت سے مالا مال فرمائیں گے۔ پورے سال میں صرف اِن پانچ راتوں میں جاگ کر عبادت کرنا کوئی مشکل اَور دُشوار کام نہیں ہے۔ شب ِ عید کی بے قدری : مذکورہ اَحادیث سے معلوم ہوا کہ عید کی رات کتنی فضیلت والی رات ہے اَور کس قدراہم رات ہے مگر نہایت اَفسوس کا مقام ہے کہ ہم نے اِس مبارک رات کی فضیلتوں اَور برکتوں سے اپنے آپ کو محروم کیا ہوا ہے۔ اِس مبارک رات کو طرح طرح کی لغو اَور فضول باتوںاَور فضول خرچیوںمیں برباد کر دیتے ہیں۔ عید کا چاند نظر آتے ہی بے شمار لوگ بازار کا رُخ کرتے ہیں اَور رات کا بیشتر حصہ اِن بازاروں میں برباد کر دیا جاتاہے جہاں طرح طرح کے گناہ ہوتے ہیں۔ اگر اِس مبارک رات میں نیک کام کی توفیق نہ ہو تو کم اَزکم یہ کوشش کی جائے کہ گناہ میں تو مبتلاء نہ