ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2010 |
اكستان |
|
دینی مسائل نہ بولنے کی قسم کھانے کا بیان : مسئلہ : قسم کھائی کہ فلاں آدمی سے نہ بولوں گا پھر جب وہ سو رہا تھا اُس وقت سوتے میں اُس سے کچھ کہا اَور اُس کی آواز سے وہ جاگ پڑا تو قسم ٹوٹ گئی۔ اگرجاگتے میں اُس سے بات کی لیکن دُور ہونے کی وجہ سے اُس تک آواز نہیں پہنچی تو قسم نہیں ٹوٹی۔ اگر کچھ لوگ اکٹھے ہوں اَور فلاں بھی اُن میں ہوپھر اُن کو سلام کیا تو اگر سب کو سلام کیا تو قسم ٹوٹ گئی اَوراگر سلام میں اُس کی نیت نہیں کی تو قسم نہیں ٹوٹی۔ مسئلہ : قسم کھائی کہ باپ کی اِجازت کے بغیر فلاں سے نہ بولوں گا۔ پھر باپ نے اِجازت دے دی لیکن اِجازت کی خبر اَبھی اُس کو نہیں ملی تھی کہ اِس سے بول دیا اَور بولنے کے بعد معلوم ہواکہ باپ نے اِجازت دے دی تھی تب بھی قسم ٹوٹ گئی۔ مسئلہ : قسم کھائی کہ اُس لڑکے یا اُس جوان سے بات نہیں کروں گا پھر جب وہ بوڑھا ہو گیا تب بولا تو بھی قسم ٹوٹ گئی۔ مسئلہ : قسم کھائی کہ کبھی تیرا منہ نہ دیکھوں گا تیری صورت نہ دیکھوں گا تو مطلب یہ ہے کہ تجھ سے ملاقات نہ کروں گا میل جول نہ رکھوں گا اگر کہیں دُور سے صورت دیکھ لی تو قسم نہیں ٹوٹی۔ بیچنے اَور مول لینے کی قسم کھانے کا بیان : مسئلہ : قسم کھائی کہ میں فلانی چیز نہ خریدوں گا پھر کسی سے کہہ دیا کہ تم مجھے خرید دو اُس نے خرید کر دے دی تو قسم نہیں ٹوٹی۔ اِسی طرح اگر یہ قسم کھائی کہ اپنی فلانی چیز نہ بیچوں گا پھر خود نہیں بیچا دُوسرے سے کہا کہ تم بیچ دو اُس نے بیچ دیا تو قسم نہیں ٹوٹی۔ اِسی طرح کرایہ پر لینے کا حکم ہے اگر قسم کھالی کہ میں یہ مکان کرایہ پر نہ لوں گا پھر کسی دُوسرے کے ذریعہ سے کرایہ پر لے لیا تو قسم نہیں ٹوٹی۔ البتہ اگر قسم کھانے کا یہی مطلب تھا کہ نہ تو خود یہ کام کروں گا نہ کسی دُوسرے سے کرائوں گا تو دُوسرے آدمی کے کردینے سے بھی قسم ٹوٹ جائے گی۔ (باقی صفحہ ٢٥ )