ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2010 |
¾اكستان Ù |
|
جس کی تفصیل یہ ہے کہ جنگ کے موقع پر جب بنو المصطلق کو شکست ہوگئی اَور مسلمانوں نے اُن کو قید کر لیا جن میں حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں تو اِس موقع پر اِن کے والد کسی طرح فرار ہوگئے اَور قید ہونے سے بچ گئے، بعد میں اپنی بیٹی کو چھڑا نے کے لیے مدینہ منورہ کارُخ کیا اَور مال دے کر چھڑا نے کی نیت سے بہت سے اُونٹ ساتھ لے کر چلے، چلتے چلتے اُن اُونٹوں میں سے دو اُونٹ بہت ہی زیادہ دِل کو بھاگئے جنہیں عقیق کی گھاٹیوں میں چھپا کر باقی اُونٹ لے کر بار گاہ ِ رسالت میں حاضر ہوئے اَور عرض کیا کہ ہماری بیٹی آپ ۖ کے قبضے میں آگئی ہے لہٰذا اُس کے بدلہ میں یہ اُونٹ لے کر اُسے چھوڑ دیجیے۔ آپ ۖ نے فرمایا وہ دو اونٹ کہاں ہیں جن کو تم عقیق کی گھاٹیوں میں چھپا آئے ہو۔ یہ سنتے ہی حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے والدنے کلمہ شہادت پڑھ لیا اَور کہا کہ واقعی آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اُن اُونٹوں کے چھپانے کاعلم اللہ کے سوا کسی کو نہیں تھا جب آپ ۖ نے اُن کے متعلق خبر دی توضرور اللہ تعالیٰ نے آپ کو خبر دی ہے۔ اِس کے ساتھ ہی اُن کے دوبیٹوں اَور قوم کے بہت سے لوگوں نے اِسلا م قبول کیا۔ پہلے واقعہ کو اِس واقعہ کے ساتھ ملانے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حارث بن ابی ضرار نے اِسلام قبول کرنے بعد بھی اپنی بیٹی کو ہمراہ لے جانے کو کہا ہوگالیکن وہ خود اُن کے ساتھ نہیں گئیں۔ ( الاستیعاب) تبدیلی ٔنام : حضرت سیّد عالم ۖ نامناسب ناموں کو بدل دیا کرتے تھے۔ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کا نام بَرَّہْ تھا آپ نے بدل کرجویریہ رکھا۔ (مسلم شریف) ایک اَور لڑکی کا نام بَرَّہْ تھا اُس کا نام بدل کر آپ ۖ نے زینب رکھ دیا تھا۔ ایک لڑکی کانام عاصیہ تھا(بمعنی گناہگار) اُس کا نام بدل کر آپ ۖ نے جمیلہ رکھا۔ ایک شخص کا نام حُزُنْ (بمعنی سخت)تھا آپ ۖ نے اُس کا نام بدل کر سہل تجویز فرمایا (مشکوة شریف)۔ اَور قاعدہ کلیہ کے طورپر فرمایا کہ تم قیامت کے روز اپنے ناموں اَور اپنے باپوں کے ناموں سے پکارے جاؤ گے لہٰذا نام اچھے رکھا کرو۔(ابوداود شریف) اِس بارے میں ہم نے ایک رسالہ ''اِسلامی نام'' کے عنوان سے لکھا ہے اِسے ملاحظہ فرمائیں۔ برہ کا معنی ہے نیک عورت ،جب اِس نام کی عورت سے اُس کا نام دریافت کیا جائے تومیں برہ یعنی نیک ہوں اِس سے اپنی تعریف ہوتی ہے اِس لیے یہ نام ناپسند فرمایا۔