ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2010 |
¾اكستان Ù |
|
قارئین !فاروق اعظم کی تمام خدمات و خصوصیات کو مد نظر رکھیں پھر اِس حقیقت پرغور کریں کہ صدیق ِ اکبر کے سامنے اُن کی کوئی حیثیت نہیں تھی تو شاید '' ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْھُمَا فِی الْغَارِ '' کے مقام کا کچھ خفیف سا اَندازہ ہو سکے ۔ ع حقیقت اَبدی ہے مقامِ صدیقی ہاں تو میں یہ کہہ رہا تھاعشق وہ قوت ہے جس کے ذریعے سے عاشق معشوق کی صفات کو اپنے اَندر جذب کر سکتا ہے اَور اِس کا نتیجہ بالآخر یہ ہوتا ہے کہ مرضی اُو مرضی حق می شود ماہ اَز اَنگشتِ اُو شق می شود (اقبال) بلکہ اِس سے بھی بڑھ کر یہ کہ در رضایش مرضی حق گم شود ایں سخن کے باور مردم شود (رُومی) فی الجملہ یہ دِل یایہ قلب یہ گوشت کالوتھڑانہیں ہے جسے بدلا جا سکتا ہے بلکہ یہ ایک لطیفہ ہے ۔من جملہ لطائف ستہ۔ لطیفہ بمعنی بسیار لطیف کہ اَز مادہ ومادّیت و جسم و جسمانیت مطلق منزہ باشد۔ اِس کے علاوہ پانچ لطائف اَور بھی ہیں۔ اگر یہ لطائف بجھ جائیں تو سالک کی ترقی ہی نہیں رُک جاتی بلکہ وہ بہائم کی صف میں شامل ہوجاتاہے یعنی جیتے جی مرجاتاہے۔ اقبال نے کیا خوب کہا ہے۔ دِل مردہ دِل نہیں ہے اُسے زندہ کر دوبارہ کہ یہی ہے اُمّتوں کے مرضِ کہن کا چارہ جب لطیفہ قلب بُجھ جاتاہے تودُوسرے لفظوں میں دِل مرجاتا ہے اَور اِقبال اِ سے دِل سے تعبیر نہیں کرتابلکہ اِسے ''مشت ِ گل'' یا ''راکھ کا ڈھیر'' قرار دیتاہے اَورتلقین کرتا ہے کہ صحبت ِشیخ اِختیار کر کے اِسے دوبارہ زندہ کرو۔ در اَصل اِنسان کا زِندہ خدا کے ساتھ زندہ رابطہ اِسی لطیفے کی بدولت ممکن ہوسکتاہے اَور جب تک زندہ خدا کے ساتھ زندہ رابطہ استوار نہ ہواِنسان کسی بدی کسی برائی کسی بدکاری اَور کسی بدمعاشی سے باز نہیں آسکتا۔