ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2010 |
¾اكستان Ù |
|
عشق کیا ہے؟ اِس کا صحیح جواب تو یہ ہے کہ ''درگفتن نمی آید'' مگر منکرین و مستفسرین کی تفہیم کے لیے مختصر طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ عشق ایک ناقابلِ بیان انجذابی کیفیت کا نام ہے۔ اِس کا وظیفہ یہ ہے کہ اِس کی بدولت عاشق (سالک) معشوق کی صفات کو اپنے اَندر جذب کر سکتا ہے، چنانچہ اِسلام کی تاریخ میں حضرت ابوبکر المقلّب بہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سب سے بڑے عاشق گزرے ہیں جن کے سامنے سب صحابہ ایسے ہیں جیسے آفتاب کے سامنے ستارے، جن کی صرف ایک رات کی نیکیاں امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب کی ساری زندگی کی نیکیوں پر بھاری ہیں کون عمر وہ عمر جو (١) حضور ۖ کی'' مراد'' ہیں۔ (٢) جن کے سایے سے شیطان بھاگ جاتا تھا۔ (٣) جن کی رائے بعض معاملات میں وحی الٰہی سے موافق ثابت ہوئی۔ (٤) جنہوں نے اِسلام کوآشکار کیا( مسلمانوں نے پہلی مرتبہ خانہ ٔ کعبہ میں نماز پڑھی) (٥) جن کی ذات خسروی اَور دَرویشی کا بہترین سنگم تھی۔ اُن کی خسروی کا یہ عالم تھا کہ بائیس مربع میل پر حکمران تھے اَور درویشی کا یہ عالم تھا کہ کُرتے میں بارہ پیوند لگے ہوتے تھے۔ (٦) جنہوں نے سلمان فارسی کے اِس اعتراض پر کہ دو گز میں تمہارا کُرتا کیسے بن گیا؟ فورًا اپنے بیٹے حضرت عبداللہ بن عمر سے کہاکہ ''جانِ پدر!اِس وقت ایک صحابی رسول نے مجھ پر اعتراض کیا ہے لہٰذا میری براء ت کرو۔ ''لہٰذا بیک وقت حریت، مساوات اَور عدالت کامظاہرہ کیا۔ (٧) جس نے چھ سو میل کاسفر اِس شان سے کیا کہ نہ آج تک کسی حکمران نے کیا ہے اَور نہ آئندہ کر سکے گا۔ ایک اُونٹ صرف ایک اُونٹ، ایک غلام، جو اپنی باری پر سوار بھی ہوجا تا تھا، ایک مشکیزہ، ایک رکابی، ایک پیالہ، ایک تھیلا جس میں کھجوریں تھیں اَور ایک تھیلا جس میں ستو تھے۔ (٨) جن کے بارے میں ہمارے زمانے میں نواب عماد الملک سیّد علی بلگرامی (شیعہ) اَور موہن داس کرم چند گاندھی (ہندو) نے یہ کہاکہ''دُنیا میں اَبھی تک د ُوسرا عمر پیدا نہیں ہوا ہے۔ '' جی ہاں وہی عمر جن کی سطوت اَور ہیئت کے آگے سیف من سیوف اللہ حضرت خالد جانباز فاتح ِ عراق و شام اَور ممدوح عام و خاص حضرت عمر بن عاص فاتح مصر و طرابلس دونوں لرزہ بر اَندام رہتے تھے۔