Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2010

¾اكستان Ù

55 - 64
جاتے ہیں۔'' 
جس وقت میں نے یہ آخری جملہ پڑھا تو مجھ پر جو کیفیت طاری ہوئی اُسے اِس مصرع سے واضح کیا جا سکتا ہے۔  ع
تزلزل در ایوانِ شیطان فتاد
دُوسرے لفظوں میں اِس فقرے نے میری خودی کو بیدار کر دیا چنانچہ میں نے اپنی ہمت اَور اپنے اختیار دونوں ہتھیاروں سے بیک وقت کام لے کر نفس سے کہا: میری ہستی عبارت ہے لطائف سے نہ کہ تجھ سے! اگر لطائف ہی بُجھ گئے یعنی دِل ہی مرگیا تو پھر وجود ِیوسف اَور عدم ِ یوسف دونوں یکساں ہوگئے! کیا تو نے اِقبال کا یہ شعر نہیں پڑھا؟   
مجھے یہ ڈر ہے دلِ زندہ تو نہ مرجائے 		کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے
اے نفس!اگر میرا دِل مرگیا تو پھر مجھ میں اَورحِمار میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔میں نے برسوں تیرا کہنا مانا اَور حقیقت ِ حال سے آگاہ ہوجانے کے باوجود اعتراف ِ گناہ نہیں کیا لیکن اَب میرے سامنے زندگی اَور موت کا سوال دَرپیش ہے اِس لیے تیرا کہنا ہرگز نہیں مانوں گا، چونکہ میں اَندھا تھایعنی حضرت اَقدس کے مقام سے آگاہ نہ تھااِس لیے میں نے واقعی حضرت موصوف کی اپنے قلم اَور اپنی زبان سے اُن کی شان میں گستاخیاں کی ہیں،میں غلط پروپیگنڈے کے سحر سے مسحور ہوگیا تھا، حق اَورباطل میں تمیز کی صلاحیت مفقود ہوگئی تھی، الحمدللہ کہ اُس نے مجھے قبل وفات توبہ اَور انابت کی توفیق عطا فرمائی۔ چونکہ عام قارئین لطائف کے مفہوم سے آشنا نہیںہیں اِس لیے اُن کے فائدے کے لیے تصوف کی اِس اصطلاح کی تشریح ذیل میں درج کرتا ہوں۔ 
واضح ہو کہ جس طرح دماغ مرکز ِ عقل ہے اِسی طرح دِل مرکزِ عشق ہے عقل کے بارے میں تو سب متفق ہیں کہ واقعی ہراِ نسان میں یہ قوت (Faculty)موجود ہوتی ہے (الا ماشاء اللہ) اَور یہی قوت اُسے فرس و حِمار سے متمیز کرتی ہے یعنی بمنزلہ فصل ہے، چنانچہ مناطقہ اِنسان کی تعریف ہی یہ کرتے ہیں کہ وہ حیوان ِ ناطق ہے لیکن عشق کے بارے میں اِختلاف ِآراء پایا جاتا ہے۔ 
صوفیا بخلاف عقلاء و حکماء صرف اِسی کو خدا رَسی کا یقینی اَور محفوظ ذریقہ سمجھتے ہیں اَور عقل کی عاجزی اَور بے چار گی کے معترف ہیں۔ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 علمی مضامین 11 1
4 شہد کے فوائد 11 3
5 اَنفَاسِ قدسیہ 14 1
6 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدصاحب مدنی کی خصوصیات 14 5
7 خصوصیاتِ درس : 14 5
8 شاگردوں کی تعداد : 16 5
9 علمی تصانیف 16 5
10 (١) حواشی قرآن شریف : 17 5
11 (٢) نقش ِحیات : 17 5
12 (٣) مکتوبات : 17 5
13 (٤) سلاسلِ طیبہ : 17 5
14 (٥) اِیمان و عمل، اَورمودودی دَستور کی حقیقت 17 5
15 تربیت ِ اَولاد 18 1
16 مکتب یعنی بسم اللہ کی رسم کا بیان 18 15
17 بچوں کی تعلیم سے متعلق ضروری ہدایات 20 15
18 ہندی اَنگریزی تعلیم سے پہلے بچہ کو قرآن اَور دینی تعلیم پڑھائیں 20 15
19 اُمت ِمسلمہ کی مائیں 21 1
20 حرم ِ نبوت میں آنا : 21 19
21 حرم ِ نبوت میں آنے سے پوری قوم کا بھلا ہوا : 22 19
22 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اِس واقعہ کے متعلق فرمایا 23 19
23 سیّد عالم ۖ کو چھوڑ کرباپ کے ساتھ جانے سے اِنکار 23 19
24 والد کا مسلمان ہونا : 23 19
25 تبدیلی ٔنام : 24 19
26 ذکر ِالٰہی : 25 19
27 وفات : 25 19
28 صدقۂ فطر کے احکام 26 1
29 صدقہ فطر کس پر واجب ہے 26 28
30 صدقہ فطر کے فائدے 26 28
31 کس کی طرف سے صدقہ فطر اَدا کیا جائے 27 28
32 صدقہ فطر میں کیا دِیا جائے 27 28
33 صدقہ فطر کی اَدائیگی کا وقت 28 28
34 نابالغ کی طرف سے صدقہ فطر 28 28
35 صدقہ فطر میں نقد قیمت یا آٹاوغیرہ : 29 28
36 صدقہ فطر کی اَدائیگی میں کچھ تفصیل 29 28
37 صاحب ِنصاب کو صدقہ فطر دینا جائز نہیں 29 28
38 رشتہ داروں کو صدقہ فطر دینے میں تفصیل 30 28
39 رشتہ داروں کو دینے سے دوہرا ثواب ہوتا ہے 30 28
40 نوکروں کو صدقہ دینا 30 28
41 بالغ عورت اگر صاحب ِنصاب ہو 30 28
42 شب ِقدر قرآن وسنت کی روشنی میں 32 1
43 عید اَور ماہ ِ شوال کی فضیلت 35 1
44 شب ِ عید کی بے قدری 36 43
45 عید کے دِن کی فضیلت 37 43
46 عید کی سنتیں : 38 43
47 عید کے دِن کی تیرہ سنتیں ہیں 38 43
48 شوال کی چھ روزوں کی فضیلت : 38 43
49 اِسلام کی اِنسانیت نوازی 42 1
50 اِسلام میں عورتوںکا مرتبہ : 42 49
51 ٍٍمغرب میں عورتوں کے حقوق کی پامالی 43 49
52 گلد ستہ اَحادیث 44 1
53 جنت کی خوشبو چالیس برس کی مسافت سے محسوس کی جا رہی ہوگی : 45 52
54 مسجد حرام اَور مسجد ِ اقصی کی تعمیر کے درمیان چالیس سال کا فرق ہے 45 52
55 بقیہ : اِسلام کی اِنسانیت نوازی 46 49
56 قسط : ٢توبہ نامہ 47 1
57 فصل ِ دوم : 47 56
58 وفیات 61 1
59 دینی مسائل 62 1
60 نہ بولنے کی قسم کھانے کا بیان : 62 59
61 بیچنے اَور مول لینے کی قسم کھانے کا بیان : 62 59
Flag Counter