ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2010 |
¾اكستان Ù |
|
جاتے ہیں۔'' جس وقت میں نے یہ آخری جملہ پڑھا تو مجھ پر جو کیفیت طاری ہوئی اُسے اِس مصرع سے واضح کیا جا سکتا ہے۔ ع تزلزل در ایوانِ شیطان فتاد دُوسرے لفظوں میں اِس فقرے نے میری خودی کو بیدار کر دیا چنانچہ میں نے اپنی ہمت اَور اپنے اختیار دونوں ہتھیاروں سے بیک وقت کام لے کر نفس سے کہا: میری ہستی عبارت ہے لطائف سے نہ کہ تجھ سے! اگر لطائف ہی بُجھ گئے یعنی دِل ہی مرگیا تو پھر وجود ِیوسف اَور عدم ِ یوسف دونوں یکساں ہوگئے! کیا تو نے اِقبال کا یہ شعر نہیں پڑھا؟ مجھے یہ ڈر ہے دلِ زندہ تو نہ مرجائے کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے اے نفس!اگر میرا دِل مرگیا تو پھر مجھ میں اَورحِمار میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔میں نے برسوں تیرا کہنا مانا اَور حقیقت ِ حال سے آگاہ ہوجانے کے باوجود اعتراف ِ گناہ نہیں کیا لیکن اَب میرے سامنے زندگی اَور موت کا سوال دَرپیش ہے اِس لیے تیرا کہنا ہرگز نہیں مانوں گا، چونکہ میں اَندھا تھایعنی حضرت اَقدس کے مقام سے آگاہ نہ تھااِس لیے میں نے واقعی حضرت موصوف کی اپنے قلم اَور اپنی زبان سے اُن کی شان میں گستاخیاں کی ہیں،میں غلط پروپیگنڈے کے سحر سے مسحور ہوگیا تھا، حق اَورباطل میں تمیز کی صلاحیت مفقود ہوگئی تھی، الحمدللہ کہ اُس نے مجھے قبل وفات توبہ اَور انابت کی توفیق عطا فرمائی۔ چونکہ عام قارئین لطائف کے مفہوم سے آشنا نہیںہیں اِس لیے اُن کے فائدے کے لیے تصوف کی اِس اصطلاح کی تشریح ذیل میں درج کرتا ہوں۔ واضح ہو کہ جس طرح دماغ مرکز ِ عقل ہے اِسی طرح دِل مرکزِ عشق ہے عقل کے بارے میں تو سب متفق ہیں کہ واقعی ہراِ نسان میں یہ قوت (Faculty)موجود ہوتی ہے (الا ماشاء اللہ) اَور یہی قوت اُسے فرس و حِمار سے متمیز کرتی ہے یعنی بمنزلہ فصل ہے، چنانچہ مناطقہ اِنسان کی تعریف ہی یہ کرتے ہیں کہ وہ حیوان ِ ناطق ہے لیکن عشق کے بارے میں اِختلاف ِآراء پایا جاتا ہے۔ صوفیا بخلاف عقلاء و حکماء صرف اِسی کو خدا رَسی کا یقینی اَور محفوظ ذریقہ سمجھتے ہیں اَور عقل کی عاجزی اَور بے چار گی کے معترف ہیں۔