ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2010 |
¾اكستان Ù |
|
کے باوجود میرا نفس اپنی گستاخیوں ، غلطیوں اَور کوتاہیوں کے اعتراف پر آمادہ نہیں ہوتا تھا۔ قارئین غور کریں کہ اپنی غلطیوں کا اعتراف نفس پر کس قدر شاق گزر تا ہے۔ قاضی صاحب مسلسل متوجہ کر رہے ہیں مگر نفس ہے کہ ٹس سے مس نہیں ہوتا بلکہ مسلسل مجھ سے یہی کہتا رہاکہ اِس اعتراف سے تیری کس قدر سُبکی ہوگی دُنیا کی نظروں میں تو کس قدر ذلیل ہوجائے گا۔ وَغَیْرُ ذَالِکَ مِنَ الْخُرَافَاتِ ۔ اِس عرصے میں ایک دفعہ بھی میں نفس کی گرفت سے آزاد نہیں ہو سکا یعنی اِس سے یہ نہ کہہ سکاکہ جب قیامت کے دن خدا مجھ سے پوچھے گا کہ تونے میرے مقرب بارگاہ بندے کی شان میں یہ گستاخی کس بناء پر کی تھی تو کیا جواب دُوں گا؟ اَور جب فرمائے گاکہ حقیقت ِ حال سے آگاہ ہوجانے کے بعد کیا چیز تجھ کو اعترافِ گناہ سے روکتی رہی تو کیا عذر پیش کروں گا؟ اَور جب بھری محفل میں یعنی اللہ کی بارگاہ میں میری رُسوائی ہوگی تو کیا وہ رُسوائی اِس دُنیاکی سُبکی یا تحقیر سے بدر جہا زیادہ نہ ہوگی! سچ ہے ریت سے تیل نکالنا آسان ہے مگرنفسِ اَمارہ کے پھندے سے اپنے آپ کو نکالنا بہت مشکل ہے،اِنسان ضعیف الایمان جتنا دُنیا والوں سے ڈرتا ہے اگر خدا سے اِتنا ڈرنے لگے توبلا شبہ فرشتہ بن جائے۔ سچ کہا شیخ سعدی نے : گر وزیر اَز خدا بتر سیدے ہم چناں کزملک ، ملک بودے جب قاضی صاحب نے دیکھا کہ میں مسلسل لیت و لعل سے کام لے رہا ہوں اَور وعدوں کے باوجود اِیفائے وعدہ نہیں کرتا تو اُنہوں نے میری عاقبت سنوارنے کے لیے اپنی دینی ترکش سے آخری تیر نکالا یعنی ٢٢ مئی ١٩٦٨ء کے خط میں لکھا : ''بہرحال آپ کی طرف سے فی الحال اگر چہ چند سطورہی''خدام الدین'' میں آجائیں تو بہتر ہیں مثلاً شیخ الاسلام حضرت مدنی قدس سرہ العزیز کی شان گرامی میں میرے قلم اَور میری زبان سے جو کلمات ناشائستہ صادر ہو چکے ہیں میں اُن پر صدقِ دِل سے نادم ہو کر رُجوع کرتا ہوں اِس پر تفصیلی مقالے کا اِنتظار فرمائیں۔یہ بھی فَاسْتَبِقُوالْخَیْرَاتِکا مصداق ہوجائے گا۔ میں آپ سے باربار اِس لیے عرض کررہا ہوں کہ سالک کے اَکثرمقامات شیخ کی شان میں بے اَدبی سے نہ صرف رُک جاتے ہیں بلکہ لطائف بُجھ