Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2010

¾اكستان Ù

54 - 64
کے باوجود میرا نفس اپنی گستاخیوں ، غلطیوں اَور کوتاہیوں کے اعتراف پر آمادہ نہیں ہوتا تھا۔ قارئین غور کریں کہ اپنی غلطیوں کا اعتراف نفس پر کس قدر شاق گزر تا ہے۔ قاضی صاحب مسلسل متوجہ کر رہے ہیں مگر نفس ہے کہ  ٹس سے مس نہیں ہوتا بلکہ مسلسل مجھ سے یہی کہتا رہاکہ اِس اعتراف سے تیری کس قدر سُبکی ہوگی دُنیا کی نظروں میں تو کس قدر ذلیل ہوجائے گا۔ وَغَیْرُ ذَالِکَ مِنَ الْخُرَافَاتِ ۔ 
اِس عرصے میں ایک دفعہ بھی میں نفس کی گرفت سے آزاد نہیں ہو سکا یعنی اِس سے یہ نہ کہہ سکاکہ جب قیامت کے دن خدا مجھ سے پوچھے گا کہ تونے میرے مقرب بارگاہ بندے کی شان میں یہ گستاخی کس بناء پر کی تھی تو کیا جواب دُوں گا؟ اَور جب فرمائے گاکہ حقیقت ِ حال سے آگاہ ہوجانے کے بعد کیا چیز تجھ کو اعترافِ گناہ سے روکتی رہی تو کیا عذر پیش کروں گا؟ اَور جب بھری محفل میں یعنی اللہ کی بارگاہ میں میری رُسوائی ہوگی تو کیا وہ رُسوائی اِس دُنیاکی سُبکی یا تحقیر سے بدر جہا زیادہ نہ ہوگی! 
سچ ہے ریت سے تیل نکالنا آسان ہے مگرنفسِ اَمارہ کے پھندے سے اپنے آپ کو نکالنا بہت  مشکل ہے،اِنسان ضعیف الایمان جتنا دُنیا والوں سے ڈرتا ہے اگر خدا سے اِتنا ڈرنے لگے توبلا شبہ فرشتہ بن جائے۔ سچ کہا شیخ سعدی نے  :
گر وزیر اَز خدا بتر سیدے 	 ہم چناں کزملک ، ملک بودے 
جب قاضی صاحب نے دیکھا کہ میں مسلسل لیت و لعل سے کام لے رہا ہوں اَور وعدوں کے باوجود اِیفائے وعدہ نہیں کرتا تو اُنہوں نے میری عاقبت سنوارنے کے لیے اپنی دینی ترکش سے آخری تیر نکالا یعنی ٢٢ مئی ١٩٦٨ء کے خط میں لکھا  : 
''بہرحال آپ کی طرف سے فی الحال اگر چہ چند سطورہی''خدام الدین'' میں آجائیں تو بہتر ہیں مثلاً شیخ الاسلام حضرت مدنی قدس سرہ العزیز کی شان گرامی میں میرے قلم اَور میری زبان سے جو کلمات ناشائستہ صادر ہو چکے ہیں میں اُن پر صدقِ دِل سے نادم ہو کر رُجوع کرتا ہوں اِس پر تفصیلی مقالے کا اِنتظار فرمائیں۔یہ بھی فَاسْتَبِقُوالْخَیْرَاتِکا مصداق ہوجائے گا۔ میں آپ سے باربار اِس لیے عرض کررہا ہوں کہ سالک کے اَکثرمقامات شیخ کی شان میں بے اَدبی سے نہ صرف رُک جاتے ہیں بلکہ لطائف بُجھ
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 علمی مضامین 11 1
4 شہد کے فوائد 11 3
5 اَنفَاسِ قدسیہ 14 1
6 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدصاحب مدنی کی خصوصیات 14 5
7 خصوصیاتِ درس : 14 5
8 شاگردوں کی تعداد : 16 5
9 علمی تصانیف 16 5
10 (١) حواشی قرآن شریف : 17 5
11 (٢) نقش ِحیات : 17 5
12 (٣) مکتوبات : 17 5
13 (٤) سلاسلِ طیبہ : 17 5
14 (٥) اِیمان و عمل، اَورمودودی دَستور کی حقیقت 17 5
15 تربیت ِ اَولاد 18 1
16 مکتب یعنی بسم اللہ کی رسم کا بیان 18 15
17 بچوں کی تعلیم سے متعلق ضروری ہدایات 20 15
18 ہندی اَنگریزی تعلیم سے پہلے بچہ کو قرآن اَور دینی تعلیم پڑھائیں 20 15
19 اُمت ِمسلمہ کی مائیں 21 1
20 حرم ِ نبوت میں آنا : 21 19
21 حرم ِ نبوت میں آنے سے پوری قوم کا بھلا ہوا : 22 19
22 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اِس واقعہ کے متعلق فرمایا 23 19
23 سیّد عالم ۖ کو چھوڑ کرباپ کے ساتھ جانے سے اِنکار 23 19
24 والد کا مسلمان ہونا : 23 19
25 تبدیلی ٔنام : 24 19
26 ذکر ِالٰہی : 25 19
27 وفات : 25 19
28 صدقۂ فطر کے احکام 26 1
29 صدقہ فطر کس پر واجب ہے 26 28
30 صدقہ فطر کے فائدے 26 28
31 کس کی طرف سے صدقہ فطر اَدا کیا جائے 27 28
32 صدقہ فطر میں کیا دِیا جائے 27 28
33 صدقہ فطر کی اَدائیگی کا وقت 28 28
34 نابالغ کی طرف سے صدقہ فطر 28 28
35 صدقہ فطر میں نقد قیمت یا آٹاوغیرہ : 29 28
36 صدقہ فطر کی اَدائیگی میں کچھ تفصیل 29 28
37 صاحب ِنصاب کو صدقہ فطر دینا جائز نہیں 29 28
38 رشتہ داروں کو صدقہ فطر دینے میں تفصیل 30 28
39 رشتہ داروں کو دینے سے دوہرا ثواب ہوتا ہے 30 28
40 نوکروں کو صدقہ دینا 30 28
41 بالغ عورت اگر صاحب ِنصاب ہو 30 28
42 شب ِقدر قرآن وسنت کی روشنی میں 32 1
43 عید اَور ماہ ِ شوال کی فضیلت 35 1
44 شب ِ عید کی بے قدری 36 43
45 عید کے دِن کی فضیلت 37 43
46 عید کی سنتیں : 38 43
47 عید کے دِن کی تیرہ سنتیں ہیں 38 43
48 شوال کی چھ روزوں کی فضیلت : 38 43
49 اِسلام کی اِنسانیت نوازی 42 1
50 اِسلام میں عورتوںکا مرتبہ : 42 49
51 ٍٍمغرب میں عورتوں کے حقوق کی پامالی 43 49
52 گلد ستہ اَحادیث 44 1
53 جنت کی خوشبو چالیس برس کی مسافت سے محسوس کی جا رہی ہوگی : 45 52
54 مسجد حرام اَور مسجد ِ اقصی کی تعمیر کے درمیان چالیس سال کا فرق ہے 45 52
55 بقیہ : اِسلام کی اِنسانیت نوازی 46 49
56 قسط : ٢توبہ نامہ 47 1
57 فصل ِ دوم : 47 56
58 وفیات 61 1
59 دینی مسائل 62 1
60 نہ بولنے کی قسم کھانے کا بیان : 62 59
61 بیچنے اَور مول لینے کی قسم کھانے کا بیان : 62 59
Flag Counter