ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2010 |
¾اكستان Ù |
|
لازم ہے کہ گزشتہ زمانے میں آپ کے قلم اَور آپ کی زبان سے جس قدر گستاخیاں حضرت اَقدس کی شان میں سرزد ہو چکی ہیں اُن کاصدقِ دل سے اعتراف کیجئے اَور توبہ نامہ شائع کیجئے تاکہ (١) قیامت کے دِن مواخذہ اَور عتاب دونوں سے محفوظ ہوجائیں (٢) حضرت اَقدس کی توجہ اَور اُن کے رُوحانی فیض سے بہرہ ور ہو سکیں (٣) اَور اُن لوگوں کا بھلا ہوسکے جو عدم ِ واقفیت کی وجہ سے آج بھی حضرت اَقدس کی طرف سے سوئِ ظن رکھتے ہیں جس طرح آپ خود عرصہ دراز تک اِس غلطی میں مبتلا رہ چکے ہیں۔ دُوسری مرتبہ ٢٠ جنوری ١٩٦٧ء کے خط میںلکھا : ''میں نے پہلے بھی عرض کیا تھاکہ اکثر اَوقات لوگ اہل اللہ کا صرف ایک ہی رُخ دیکھتے ہیں۔ اللہ نے آپ پر خصوصی فضل فرمایا ہے اگر آپ صیانتہً للناس اِس موضوع پر ایک مقالہ سپرد قلم فرمادیں جس میں حضرت شیخ نوراللہ مرقدہ سے آپ کی نسبت کا ذکر بھی آجائے تو بڑا مفید رہے گا اَور بہت سے لوگوں کا راہ نما ہوگا۔ '' تیسری مرتبہ یکم اپریل ١٩٦٧ء کے خط میں لکھا : ''آج ایک بہت پاکیزہ مجلس میں آپ کا ذکرِ خیر آگیا اِس لیے بطورِ یاد دہانی عرض ہے کہ ضرور ایک جامع مضمون اپنی انا بت پر تیار فرمائیں اِس سے اِنشاء اللہ دُوسروں کو بہت فائدہ پہنچے گا۔'' چوتھی مرتبہ ١٢ اپریل ١٩٦٧ء کے خط میں لکھا : ''آپ کے اِس مضمون سے اِنشاء اللہ کئی بھٹکے ہوئے اَور گستاخ ذہن اِنسانوں کو نورِ ہدایت مل جائے گا اَور وہ سوء ِخاتمہ سے محفوظ رہیں گے۔ '' پانچویں مرتبہ آپ نے ٢٤ اپریل ١٩٦٨ء کے خط میں لکھا : ''کلامِ اقبال کی شرح میں جہاں جہاں جناب کا قلم حدود ِ اَدب سے تجاوز کر گیا ہے اگر فی الحال بہت جلد اِن عبارتوں سے رجوع فرمالیں تو یہ بھی صرف بہتر نہیں بلکہ ضروری ہے۔'' میں نے یہ اِقتباسات قصدًا درج کیے ہیں تاکہ قارئین پر یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ اِس قدر تاکید