ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2010 |
¾اكستان Ù |
|
چیز وہ ہے بنے جو یورپ میں بات وہ ہے جو پانیئر میں چھپے حضرت اَقدس فرمایا کرتے تھے کہ ہمارااَصلی دشمن ہندونہیںانگریزہے، چنانچہ جب میں نے اِس نگاہ سے تاریخ ِعالم کا مطالعہ کیاتو اِس اِرشاد کی صداقت مجھ پر روزِ روشن کی طرح آشکار ہوگئی۔ اللہ جزائے خیر عطا فرمائے اکبر الٰہ آبادی کو۔ اُنہوں نے اِن شعروں میں کتنی سچی بات کہی ہے۔ زیادہ اِن سے رہو محترز کہ ہندو سے یہ خود ہی سوچ لو ، دِل میں اگر نہ کچھ کد ہو یہ چاہتے ہیں کہ ختنہ میاں کا ہو موقوف وہ چاہتے ہیں کہ مسلمانی ہی ندارَد ہو اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ تشریح سے بلاغت کا خون ہوجائے گا تو ختنے اَورمسلمانی کے مفہوم اَور اِن دونوں میں فر ق کو بھی واضح کر دیتا۔ حضرت لاہوری کے وصال کے بعدزندگی میں ایک خلاسامحسوس ہونے لگا۔ ذکر ِ حبیب سننے کو کان ترس گئے بالآخر ١٩٦٤ء میںمحترمی قاضی زاہد الحسینی مدظلہ کو اپنی باطنی کیفیت سے آگاہ کیااَور لکھاکہ تبریز سے جدائی کے بعد دِل کسی صلاح الدین کو ڈھونڈتاہے۔ اُنہوں نے اَز راہِ لطف اِس عاجزکو مشورہ دیا کہ ''خوش قسمتی سے حضرت اَقدس کے خلیفۂ مجاز مولانا سیّد حامد میاں صاحب مدظلہ لاہور میں سکونت پذیر ہیں وہ تمہارے حق میں صلاح الدین بھی ثابت ہوں گے اَور حسام الدین بھی۔'' چنانچہ ١٩٦٥ء میں اِس عاجزنے حضرت مدنی کے خلیفۂ مجازحضرت مولانا سیّد حامد میاں مدظلہ مہتمم جامعہ مدنیہ لاہور سے رشتہ اِرادت و عقیدت استوار کیااَور استواری کے بعد یہ محسوس ہوا کہ نظامی مرحوم نے یہ مصرع میرے ہی لیے کہا تھا۔ ع شکر کہ جمازہ بمنزل رسید جب میں نے اِس بات کی اِطلاع قاضی صاحب موصوف کو دی تو اُنہوں نے مجھے لکھا کہ اَب جبکہ حضرت اَقدس کامقام آپ پر واضح ہو چکا ہے اَور آپ اُن کے دامن سے وابستہ ہوگئے ہیں تو آپ کو