ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2010 |
¾اكستان Ù |
|
اَور کُل مثنوی اِن دواِبتدائی شعروں کی تفسیر ہے۔ بشنو اَز نے چوں حکایت می کند اَز جدائی ہا شکایت می کند کز نیستاں تا مرا ببریدہ اند اَز نفیرم مرد و زن نالیدہ اند یعنی رُوح اِنسانی جواَزل سے محبوبِ حقیقی کے عشق میں مبتلا تھی جب دُنیا میں آئی توفراق کی کیفیت سے دوچار ہوگئی۔ قصہ مختصر عشق اَور فراق یہ مثنوی کے دو بنیادی تصورات ہیں اَور اِس کا قصر ِ رفیع اِن ہی بنیادوں پر استوار ہواہے، مجھے یہ محسوس ہوا کہ میں اپنے محبوب سے جدا ہو گیا ہوں۔ اللہ اکبر! یہ کتنا عظیم الشان انقلاب تھاجومیرے ضمیر کی گہرائیوں میں رُونماہوا وہ شخص جس سے مدتوں تک ن ف ر ت کرتارہا۔ وہی شخص اَب میرا محبوب بن چکاتھااَوراِسی لیے اُس کی وفات کی خبر پڑھ کرمجھ پرفراق کی کیفیت طاری ہو گئی تھی۔ میں نے مثنوی کا درس ملتوی کردیااَورمجلس میں یہ اعلان کیاکہ آئندہ مجالس میں حضرت اَقدس کے کمالات ِ رُوحانی کابیان کروں گا، چنانچہ یہ سلسلہ چارماہ تک جاری رہا عام قارئین کی آگاہی کے لیے یہ وضاحت ضروری سمجھتاہوں کہ حضرت لاہوری رحمة اللہ علیہ کی تلقین کی بناء پر میں نے'' نقش ِحیات '' اَور ''مکتوبات شیخ الاسلام '' کا مطالعہ کر لیا تھا۔ ١٩٥٧ء سے ١٩٦١ء تک حضرت لاہوری کی مجالس ذکر میں شرکت کاسلسلہ جاری رہا اَور اِس عرصے میں حضرت موصوف نے اپنے اِرشادات سے مجھے حضرت اَقدس کے مقام سے بڑی حدتک آگاہ کردیا تھا اِن اِرشادات کی روشنی میں اگر ایک طرف مجھ پر حضرت اَقدس کے کمالات ِ رُوحانی سے آگاہی حاصل ہوئی تو دُوسری طرف یہ حقیقت بھی منکشف ہوئی کہ حضرت اَقدس انگریز کو اِسلام اَور مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن یقین کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت اَقدس سے تعلق کی بدولت میرے دِل میں بھی انگریز ی زبان، انگریزی لباس، انگریزی وضع قطع اَور انگریزیت سے زندگی میں پہلی مرتبہ نفرت کاجذبہ پیدا ہوا حالانکہ میں اپنے زندگی کے ساٹھ سال اِسی لعنت میں گزار چکاتھااَور اکبر کایہ شعر مجھ پر ہوبہو صادق آتا تھا۔