ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2010 |
¾اكستان Ù |
|
لیکن اُن کی قوت کا عظیم رازاُن کے اِس ایمان میں مضمر تھا جو اُنہیں (حضرت) محمد (ۖ) کی رسالت پر تھا۔ بہرحال اُن کے پیشِ نظر صرف ایک ہی سوال رہتا تھا اَور وہ یہ تھا کہ اُنہوں (آنحضرت ۖ) نے کیا حکم دیا تھا؟ یااگر وہ ہوتے تو اِس معاملے میں کیا کرتے؟اَور اِس ضابطہ ٔحیات سے حضرت ابو بکر نے تادم آخر سرمو اِنحراف نہیں کیا اِسی کی بدولت اُنہوں نے فتنۂ اِرتدادکا قلع قمع کردیا اَور اِسلام کی بنیادوں کو ہمیشہ کے لیے استوارکردیا۔ اُن کا عہد ِ حکومت اگرچہ مختصر تھا، مگر اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ خودمحمد(ۖ) کے بعد اِسلام ابو بکر سے بڑھ کر کسی شخص کاممنون احسان نہیں ہے۔ میں نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کی زندگی اَور سیرت پر جو اِس قدر تفصیل سے کلام کیاہے اُس کی ایک وجہ تو یہی ہے جو اُوپر بیان ہوئی اَور دُوسری وجہ یہ ہے کہ پیغمبر ِ اِسلام ۖ پر اُن کاایمان راسخ خود محمد(ۖ) کی صداقت پر ایک ناقابلِ تردید شہادت ہے اگر آنحضرت ۖ مفتری علی اللہ ہوتے، تو وہ اِس شخص کی عقیدت اَور رفاقت کو حاصل کرنے میں ہر گز کامیاب نہ ہوسکتے تھے جو زِیرک اَور صاحب ِ بصیرت ہی نہ تھا بلکہ جس کی ساری زندگی سادگی، استواری اَور اخلاص کامظہر اَتم تھی۔ ''(خلافت: اِس کاآغاز، عروج اَور اِنحطاط، مطبوعہ ایڈنبرا ١٩٢٤ء صفحہ ٨١) مارچ١٩٥٧ء میں کراچی سے نقل مکانی کر کے لاہور واپس آیا تو زندگی میں پہلا اِنقلاب یہ رُونماہواکہ حضر ت لاہوری کی مجالسِ ذکر میں شرکت شروع کی۔ حضرت اِس سیہ کار پر خصوصی توجہ فرماتے تھے یعنی مجلس ِ ذکر میں اپنے بائیں جانب پہلو میں جگہ دیتے تھے۔اِس کے علاوہ جب کبھی تنہائی میںملاقات ہوتی تھی توبالالتزام شیخ الاسلام حضرت اقدس کے کمالات ِ رُوحانی کا تذکرہ فرماتے تھے ۔ اُن تذکروں کا میرے دِل پر یہ اَثر مرتب ہواکہ چندماہ کے بعد مجھے حضرت اَقدسسے وہ رابطہ قلبی پیداہو گیاجسے عشق سے تعبیر کر سکتے ہیں،چنانچہ جب ٥ دسمبر ١٩٥٧ء کواَخباروں سے یہ معلوم ہوا کہ حضرت اَقدس کاوصال ہو گیاتومجھ پر زندگی میں پہلی مرتبہ فراق کی کیفیت طاری ہوئی،میں اُس زمانہ میں مسجدشاہ چراغ میں ہر اِتوار کومثنوی کا درس دیا کرتا تھا اَور اہلِ علم جانتے ہیں کہ مثنوی کاسارا تارو پودعشق اَور فراق اِن ہی دوچیزوں سے مرکب ہوا ہے