ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2010 |
¾اكستان Ù |
|
''حضرتِ مدنی کی جوتیوں کا تَلا بھی میری داڑھی سے زیادہ محترم ہے۔ بِلاشبہ وہ اِس زمانے میں اللہ کی ہستی کی نشانیوں میں سے ایک واضح نشانی ہیں چونکہ میں تمہیں عزیز رکھتا ہوں اِس لیے تمہیں مشورہ دیتا ہوں کہ حضرتِ مدنی کی شان میں تم سے جو گستاخیاں سرزَد ہوئی ہیں اُن سے رُجوع کرلو اَور اللہ سے اِلتجا کرو کہ وہ تمہارے گناہوں کو معاف فرمادے اگر تم حضرتِ اقدس کے مقام سے آگاہ ہوتے تو ہرگز ایسی گستاخی کا اِرتکاب نہ کرتے۔ میں دُعاء کروں گا کہ اللہ تم پر حضرتِ اقدس کا مقام واضح کردے تم اِس بات پر غور کرو کہ مولانا اشرف علی تھانوی حضرتِ اقدس کے سیاسی خیالات سے متفق نہیں تھے اِس کے باوجود اُن کا نہایت احترام کرتے تھے اَور اپنی مجالس میں اُن کی رُوحانی عظمت کا اعتراف کرتے تھے۔'' اِس گفتگو کے بعد حضرت لاہوری رحمة اللہ علیہ مجھے میرے مکان پر پہنچاکر اپنے میزبان کے گھر تشریف لے گئے۔ حضرت کی اِس تلقین کا اِس سیہ کار پر ایسااَثر ہوا کہ دِل کی دُنیاہی بدل گئی اَور ایسا معلوم ہوا کہ وہ پردہ جو میرے اور حضرت مولانا مدنی کے مابین حائل تھا یک لخت ہٹ گیا اور اُن کی عظمت کا ایک نہ مٹنے والا نقش میرے دِل پر قائم ہوگیا۔ اِ س کی وجہ ظاہرہے کہ میں حضرت لاہوری سے ٢٥، ٢٦ سال سے واقف تھااَور مجھے یقین تھا کہ جھوٹ اُن کی زبان سے نہیں نکل سکتا اِس لیے اُن کی گواہی کے بعدپھر مجھے کسی دلیل کی حاجت باقی نہیں رہی۔ اِس جگہ ضمنًا یہ بات کہناچاہتاہوں کہ اِیمان باللہ کا دارو مدار بھی توسرکارِدو عالم ۖ کی گواہی پر ہی ہے ورنہ ہم میں سے خدا کو کس نے دیکھاہے اَور کون دیکھ سکتا ہے؟ نیز آنحضرت ۖ کی رسالت پر ہمارااِیمان دراصل صحابہ کرام خصوصًا حضرت صدیق اکبر اَور فاروق اعظم ہی کی گواہی پر موقوف ہے اَور اِس بات کا اعتراف ولیم مؤر جیسے مخالف نے بھی کیا ہے چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ ''(حضرت ) ابوبکر کو ذاتی اعزاز یا استعلائِ نفس کی مطلق آرزونہیں تھی اگرچہ اُن کواقتدار ِکلی حاصل تھا، مگر اُنہوں نے اِسے صرف اِسلام کے مفادکے لیے استعمال کیا،