Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2010

¾اكستان Ù

49 - 64
 ''حضرتِ مدنی کی جوتیوں کا تَلا بھی میری داڑھی سے زیادہ محترم ہے۔ بِلاشبہ وہ اِس زمانے میں اللہ کی ہستی کی نشانیوں میں سے ایک واضح نشانی ہیں چونکہ میں تمہیں عزیز رکھتا ہوں اِس لیے تمہیں مشورہ دیتا ہوں کہ حضرتِ مدنی   کی شان میں تم سے جو گستاخیاں سرزَد ہوئی ہیں اُن سے رُجوع کرلو اَور اللہ سے اِلتجا کرو کہ وہ تمہارے گناہوں کو معاف فرمادے اگر تم حضرتِ اقدس کے مقام سے آگاہ ہوتے تو ہرگز ایسی گستاخی کا اِرتکاب نہ کرتے۔ میں دُعاء کروں گا کہ اللہ تم پر حضرتِ اقدس کا مقام واضح کردے تم اِس بات پر غور کرو کہ مولانا اشرف علی تھانوی حضرتِ اقدس کے سیاسی خیالات سے متفق نہیں تھے اِس کے باوجود اُن کا نہایت احترام کرتے تھے اَور اپنی مجالس میں اُن کی رُوحانی عظمت کا اعتراف کرتے تھے۔'' 
اِس گفتگو کے بعد حضرت لاہوری رحمة اللہ علیہ مجھے میرے مکان پر پہنچاکر اپنے میزبان کے گھر تشریف لے گئے۔ 
حضرت کی اِس تلقین کا اِس سیہ کار پر ایسااَثر ہوا کہ دِل کی دُنیاہی بدل گئی اَور ایسا معلوم ہوا کہ وہ پردہ جو میرے اور حضرت مولانا مدنی   کے مابین حائل تھا یک لخت ہٹ گیا اور اُن کی عظمت کا ایک نہ مٹنے والا نقش میرے دِل پر قائم ہوگیا۔ اِ س کی وجہ ظاہرہے کہ میں حضرت لاہوری سے ٢٥، ٢٦ سال سے واقف تھااَور مجھے یقین تھا کہ جھوٹ اُن کی زبان سے نہیں نکل سکتا اِس لیے اُن کی گواہی کے بعدپھر مجھے کسی دلیل کی حاجت باقی نہیں رہی۔
اِس جگہ ضمنًا یہ بات کہناچاہتاہوں کہ اِیمان باللہ کا دارو مدار بھی توسرکارِدو عالم  ۖ کی گواہی پر ہی ہے ورنہ ہم میں سے خدا کو کس نے دیکھاہے اَور کون دیکھ سکتا ہے؟ نیز آنحضرت  ۖ کی رسالت پر ہمارااِیمان دراصل صحابہ کرام خصوصًا حضرت صدیق اکبر اَور فاروق اعظم ہی کی گواہی پر موقوف ہے اَور اِس بات کا اعتراف ولیم مؤر جیسے مخالف نے بھی کیا ہے چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ
 ''(حضرت ) ابوبکر   کو ذاتی اعزاز یا استعلائِ نفس کی مطلق آرزونہیں تھی اگرچہ اُن کواقتدار ِکلی حاصل تھا، مگر اُنہوں نے اِسے صرف اِسلام کے مفادکے لیے استعمال کیا،
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 علمی مضامین 11 1
4 شہد کے فوائد 11 3
5 اَنفَاسِ قدسیہ 14 1
6 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدصاحب مدنی کی خصوصیات 14 5
7 خصوصیاتِ درس : 14 5
8 شاگردوں کی تعداد : 16 5
9 علمی تصانیف 16 5
10 (١) حواشی قرآن شریف : 17 5
11 (٢) نقش ِحیات : 17 5
12 (٣) مکتوبات : 17 5
13 (٤) سلاسلِ طیبہ : 17 5
14 (٥) اِیمان و عمل، اَورمودودی دَستور کی حقیقت 17 5
15 تربیت ِ اَولاد 18 1
16 مکتب یعنی بسم اللہ کی رسم کا بیان 18 15
17 بچوں کی تعلیم سے متعلق ضروری ہدایات 20 15
18 ہندی اَنگریزی تعلیم سے پہلے بچہ کو قرآن اَور دینی تعلیم پڑھائیں 20 15
19 اُمت ِمسلمہ کی مائیں 21 1
20 حرم ِ نبوت میں آنا : 21 19
21 حرم ِ نبوت میں آنے سے پوری قوم کا بھلا ہوا : 22 19
22 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اِس واقعہ کے متعلق فرمایا 23 19
23 سیّد عالم ۖ کو چھوڑ کرباپ کے ساتھ جانے سے اِنکار 23 19
24 والد کا مسلمان ہونا : 23 19
25 تبدیلی ٔنام : 24 19
26 ذکر ِالٰہی : 25 19
27 وفات : 25 19
28 صدقۂ فطر کے احکام 26 1
29 صدقہ فطر کس پر واجب ہے 26 28
30 صدقہ فطر کے فائدے 26 28
31 کس کی طرف سے صدقہ فطر اَدا کیا جائے 27 28
32 صدقہ فطر میں کیا دِیا جائے 27 28
33 صدقہ فطر کی اَدائیگی کا وقت 28 28
34 نابالغ کی طرف سے صدقہ فطر 28 28
35 صدقہ فطر میں نقد قیمت یا آٹاوغیرہ : 29 28
36 صدقہ فطر کی اَدائیگی میں کچھ تفصیل 29 28
37 صاحب ِنصاب کو صدقہ فطر دینا جائز نہیں 29 28
38 رشتہ داروں کو صدقہ فطر دینے میں تفصیل 30 28
39 رشتہ داروں کو دینے سے دوہرا ثواب ہوتا ہے 30 28
40 نوکروں کو صدقہ دینا 30 28
41 بالغ عورت اگر صاحب ِنصاب ہو 30 28
42 شب ِقدر قرآن وسنت کی روشنی میں 32 1
43 عید اَور ماہ ِ شوال کی فضیلت 35 1
44 شب ِ عید کی بے قدری 36 43
45 عید کے دِن کی فضیلت 37 43
46 عید کی سنتیں : 38 43
47 عید کے دِن کی تیرہ سنتیں ہیں 38 43
48 شوال کی چھ روزوں کی فضیلت : 38 43
49 اِسلام کی اِنسانیت نوازی 42 1
50 اِسلام میں عورتوںکا مرتبہ : 42 49
51 ٍٍمغرب میں عورتوں کے حقوق کی پامالی 43 49
52 گلد ستہ اَحادیث 44 1
53 جنت کی خوشبو چالیس برس کی مسافت سے محسوس کی جا رہی ہوگی : 45 52
54 مسجد حرام اَور مسجد ِ اقصی کی تعمیر کے درمیان چالیس سال کا فرق ہے 45 52
55 بقیہ : اِسلام کی اِنسانیت نوازی 46 49
56 قسط : ٢توبہ نامہ 47 1
57 فصل ِ دوم : 47 56
58 وفیات 61 1
59 دینی مسائل 62 1
60 نہ بولنے کی قسم کھانے کا بیان : 62 59
61 بیچنے اَور مول لینے کی قسم کھانے کا بیان : 62 59
Flag Counter