ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2010 |
اكستان |
|
اِسلام کی اِنسانیت نوازی ( حضرت مولانا مفتی محمد سلمان صاحب منصورپوری،اِنڈیا ) پڑوسیوں کا خیال : اِسلام ایک فطری اَور اِجتماعی مذہب ہے اِس کی اِنسانیت نواز تعلیمات میںسے ایک اہم تعلیم یہ ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں کو ایک دُوسرے کے دُکھ درد میںشریک رہ کرزندگی گزارنے کی تاکید کرتا ہے۔ آج کل کے نام نہاد مہذب معاشرے کی طرح نہیں کہ جس میںہر جگہ اِنفرادیت ہی اِنفرادیت ہے اورہر اِنسان صرف اپنی غرض کا غلام ہے دُوسرے کی زندگی سے کوئی واسطہ اَور مطلب نہیں، یہ اِنفرادیت پسندی اِنسانیت نہیں بلکہ جانوروں کی سی زندگی ہے جہاں ہر فرد دُوسرے سے مستغنی ہوکر صرف اپنے ہی مفاد کو فوقیت دیتا ہے آج مغربیت زدہ ''پوش کالونیوں'' میںجاکر دیکھنے سے یہ اَلمناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ ایک محلہ میں دو پڑوسی سالوں سے رہتے ہیں مگر ایک کو دُوسرے کی حالت کا کو ئی علم نہیں۔ آج حال یہ ہے کہ دُور دراز رہنے والوں سے تو اپنے مفادات کی وجہ سے تعلقات بڑھانے کی فکر کی جاتی ہے لیکن اپنے قریبی پڑوسیوںپر کیا گزررہی ہے اِس کی کوئی پرواہ نہیںکی جاتی۔اِسلام اِس طرزِ فکر کا قطعاً مخالف ہے اَور اِس بہیمانہ زندگی کو اِنسانیت کے خلاف تصور کرتا ہے، پڑوسی خواہ کوئی بھی ہو اُس کے ساتھ حسن سلوک کرنا اِسلام کی بنیادی تعلیمات میں داخل ہے۔ پڑوسی تین طرح کے ہوسکتے ہیں : (١) وہ پڑوسی جو رشتہ دار ہو اَورمسلمان ہو : اِس کے تین حق ہیں، اَوّل اِسلام کا، دُوسرے رشتے داری کا، تیسرے پڑوس کا۔ (٢) وہ پڑوسی جو اَجنبی ہو مگرمسلمان ہو :اِس کے دو حق ہیں۔ اَوّل مسلمان ہو نے کا، دُوسرے پڑوسی ہونے کا۔ (٣) وہ پڑوسی جو اَجنبی ہو اورغیر مسلم ہو : اِس کا ایک ہی حق ہے یعنی پڑوسی ہو نے کا۔ تو معلوم ہوا کہ پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے میں یہ نہیںدیکھا جائے گا کہ وہ ہمارا رشتہ دار