ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2010 |
اكستان |
|
علمی مضامین سلسلہ نمبر٣٨ ، قسط : ٢،آخری ''الحامد ٹرسٹ''نزد جامعہ مدنیہ جدید رائیونڈ روڈ لاہورکی جانب سے شیخ المشائخ محدثِ کبیر حضرت اقدس مولانا سیّد حامد میاں صاحب رحمة اللہ علیہ کے بعض اہم خطوط اور مضامین کو سلسلہ وار شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے جو تاحال طبع نہیں ہوسکے جبکہ ان کی نوع بنوع خصوصیات اس بات کی متقاضی ہیں کہ افادۂ عام کی خاطر اِن کو شائع کردیا جائے۔ اسی سلسلہ میں بعض وہ مضامین بھی شائع کیے جائیں گے جو بعض جرا ئد و اخبارات میں مختلف مواقع پر شائع ہو چکے ہیں تاکہ ایک ہی لڑی میں تمام مضامین مرتب و یکجا محفوظ ہو جائیں۔ (اِدارہ) مدنی فارمولا پھر تحریر فرماتے ہیں : ''جمعیة علماء ِہند کے فار مولے کو مولانا ابوالکلام آزاد نے کانگریس کی طرف سے پیش کیا تھا۔'' ٭ یہ بات تاریخی اعتبار سے درست نہیں ہے۔ کانگریس کا فارمولا اَور تھا جیسا کہ اَبھی عرض کروں گا اِس سے قبل مولانا آزاد کے بارے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اُن کا تعلق اَکابر ِ جمعیة سے شروع سے قوی چلا آرہاتھا جو ١٩٤٦ء میں بھی تھا اَور تا حیات قائم رہا ۔اُن کے بارے میں آپ اِنڈیا آفس کے ریکارڈ سے انگریزوں کی سی آئی ڈی کی رپورٹیں پڑھیے کہ کیا لکھتے ہیں محب ِ وطن ہونے ساتھ وہ کتنے کٹّر مذہبی ہیں۔ اَبوالکلام آزاد : محی الدین ۔ کنیت ابوالکلام آزاد۔ الہلال کا بدنام اَیڈیٹر۔ انجمن حزب اللہ اَور کلکتہ دارُلارشاد کالج کا بانی۔ دِلی کا باشندہ ہے لیکن تعلیم عرب میں پائی ہے اِنتہا درجہ میں اِتحادِ اِسلامی کا حامی ہے نہایت کٹّر اَنگریز دُشمن اَور بے حد متعصب ہے۔ دیوبند کی سازشِ جہاد کا نہایت سرگرم رکن تھا۔ (١) یقین کیا جاتا ہے کہ حالیہ شورِش میں اِس نے ہندوستانی متعصبوں کو روپے کی اَور دُوسری طرح کی مدد دی ہے۔ (٢) جنودِ ربانیہ کی فہرست میں