ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2010 |
اكستان |
|
رہے ہیں اَور حضرت کے دوست بھی ہیں اَور انتہائی قریبی خلفاء میں سے ہیں اَور میں جب اُن کو دیکھتا تھا تو مجھے خیال ہوتا تھا کہ وہ حضرت کے مزاج کو خوب سمجھتے ہیں حضرت خود خاموش رہتے تھے اَور اگرکسی کو نصیحت کرنی ہوتی تو حاجی صاحب نصیحت کرتے تھے اَور اگر کسی کو ڈانٹنا ہوتا تو بھی یہی ڈانٹتے تھے اَور یہ سب ہماری خوش قسمتی ہے اِس وقت اِس ماحول میں ہمارے پاس ایک ایسے رہنما موجود ہیں جو حضرت کے مزاج کو بھی جانتے ہیں خاندان کو بھی جانتے ہیں اَور گھر کے ماحول کو بھی جانتے ہیں اَندر کی اچھی بھلی صورت ِ حال کو بھی جانتے ہیں اَور سب کاموں سے بڑھ کر اِس بات پر مجھے خوشی ہوئی ہے کہ خانقاہ کی ذمّہ داری اَور حضرت کی خلافت کے لیے اَور حضرت کے اِس سلسلے کو آگے بڑھانے کے لیے حضرات کی مشاورت کے ساتھ صاحبزادہ حضرت مولانا خلیل احمد صاحب کو منتخب کیا ہے۔ نعرۂ تکبیر …… … اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَور ختم ِ نبوت کا کام اَور خانقاہِ سراجیہ ڈھاکہ بنگلہ دیش اَور اِنگلینڈ وغیرہ بیرون ممالک سے متعلقہ معاملات صاحبزادہ عزیز احمد صاحب کے سپرد کردیے گئے ہیں کہ وہ اِن تمام معاملات کو آگے بڑھائیں گے۔ میں نے یہ پہلے عرض کیا کہ تمام معاملات کا فیصلہ اللہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے پہلے حضرت صاحب رحمہ اللہ اِن کاموں کو بخوبی اَنجام دیتے رہے اَور آج اِتفاقِ رائے اَور دُعاء کے ساتھ اِس معاملے کو طے کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے بھائی خلیل احمد صاحب کو اِس پر استقامت نصیب فرمائے اَور خلافت کے بعد اِس کام کو آسان فرمائے اَور ہمیشہ کے لیے مرجع ِ خلائق بنائے اَور یہ تب ہی ہوسکتا ہے کہ گھر کے اَندر سے گرم ہوائیں باہر نہ جائیں گھر سے ٹھنڈی ہوائیں باہر جائیں محبت کی ہوائیں چلیں اِتحاد کی ہوائیں چلیں اَور اللہ تعالیٰ اِن سب کو آباد رکھیں اَور قائم و دائم رکھیں اَور میرے خیال میں آپ سب کی رائے میرے ساتھ ہوگی۔سب کی طرف سے تائیدی جواب بلند ہوا اِنْشَائَ اللّٰہُ ۔ اِس کے بعد حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب اَور حضرت کے خلیفہ حاجی عبد الرشید صاحب نے اپنے دست ِ مبارک سے حضرات کی دستاربندی کرائی۔