Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2010

¾اكستان Ù

62 - 64
دینی مسائل
(  قَسم کھانے کا بیان  )
مختلف کاموں کے بارے میں قَسموں کے ضابطے  :
(١)  قسموں کا دَارو مدار عرف و رواج پر ہے یعنی جب ہم کوئی لفظ بولتے ہیں تو رواج میں اِس کا جو معنی معروف ہو اُس کا اعتبار ہوتا ہے اگرچہ لُغت میں یا شریعت کی اِصطلاح میں اُس کا اپنا معنی مقابلتًا عام تر ہو مثلاً جب کسی نے قسم کھائی میں سری نہ کھاوں گا تو لُغت میں سری کا لفظ عام ہے جو گائے بکری اُونٹ چڑیا اَور مرغی سب کی سری کو شامل ہے لیکن چونکہ رواج میں کھانے میں بکری یا گائے کی سری معروف ہے اِس لیے قَسم صرف گائے یا بکری کی سری مراد ہوگی ،چڑیا اَور مرغی کی سری مراد نہیں ہوگی لہٰذا اگر بکری کی سری کھائے گا تو قَسم ٹوٹے گی اَور اگر چڑیا یا مرغی کی سری کھائے گا توقَسم نہیں ٹوٹے گی۔ 
(٢)  اَلبتہ بولے گئے لفظ عام کے کسی ایک خاص فرد کی نیت کی ہو تو قَسم میں پھر وہی فرد مراد ہوگا مثلاً سری بول کر مرغی کی سری کی نیت کی ہوتو قَسم میں مرغی کی سری مراد ہوگی اَور مرغی کی سری کھانے سے قَسم ٹوٹے گی بکری کی سری کھانے سے قَسم نہیں ٹوٹے گی۔ 
(٣)  قَسم کے جملہ سے جو غرض رواج میں معروف ہو قَسم میں اُس کا اعتبار صرف اُسی وقت ہوگا جب وہ لفظ کے معروف معنی کے موافق ہو۔ اَور اگر وہ غرض معروف معنی سے مختلف ہو تو اُس کا اعتبار نہیں ہوتا مثلاً کسی نے قَسم کھائی کہ دروازے سے باہر نہ نکلوں گا تو رواج میں اِس سے جو غرض معروف ہے وہ یہ ہے کہ گھر میں رہوں گا اَور کسی بھی طریقے سے باہر نہ نکلوں گا لیکن اگر یہ شخص چھت پر سے پھلانگ جائے تو قَسم نہیں ٹوٹے گی کیونکہ دروازے کا جو اپنا معروف معنی ہے چھت کا مفہوم اِس میں شامل نہیں ہے بلکہ اِس سے مختلف ہے۔ 
(٤)  جب رواج میں کسی لفظ یا جملہ کا معنی مجازی معروف ہو اَور معنی حقیقی رائج نہ ہو تو قسم میں معنی مجازی مراد ہوتا ہے حقیقی معنی نہیں مثلاً قسم کھائی کہ تیرے گھر میں قدم نہ رکھوں گا۔رواج میں قدم نہ رکھنے کا معنی مجازی یعنی داخل نہ ہونا معروف ہے لہٰذا قَسم میں وہی مراد ہوگا اَور گھر کے باہر کھڑے ہو کر محض ایک قدم اَندر رکھنے سے قَسم نہیں ٹوٹے گی بلکہ کسی طریقے سے اَندر داخل ہونے سے قَسم ٹوٹے گی۔ (جاری ہے)

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 ......حرف اول 3 1
3 درس حدیث 5 1
4 سچے غریب پرور : 6 3
5 این جی اَوز کی طرح کافر بنانے کی ترکیبیں ،سرداروں وڈیروں کا رویہ : 6 3
6 ما ل دار بھی اَور محتاج بھی : 7 3
7 سردار اَبولہب چور نکلا : 8 3
8 نبی علیہ السلام اَزواج کو وَافر دیتے مگر وہ راہِ خدا میں خرچ کر دیتیں : 8 3
9 فقر و فاقہ کے باوجود طلب ِ علم : 9 3
10 بے روزگار کو دینا باعث ِرحمت ہے : 9 3
11 سب گھر والے بھوکے رہے اَور غریب کو کھلا دیا : 10 3
12 اللہ کے لیے غریب پروری دُنیا کے خزانے اُن کے لیے کُھل گئے : 10 3
13 فاتح قَنَّوجْ اِقتصادی مشکلات کے بغیر فتوحات : 10 3
14 دُنیا ہی میں پہلا بے نظیر اِنعام : 11 3
15 علمی مضامین 12 1
16 مدنی فارمولا 12 15
17 اَبوالکلام آزاد : 12 15
18 تکملہ 16 1
19 علامہ حسین احمد مدنی 19 1
20 ( شب ِ براء ت کی مسنون دُعا ) 25 1
21 اَنفَاسِ قدسیہ 26 1
22 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدصاحب مدنی کی خصوصیات 26 21
23 ضروری گزارشات 26 21
24 خصوصیت ِ نسبی : 29 21
25 اِسمی خصوصیت : 31 21
26 حضرت کا نسب نامہ 31 21
27 طالب ِعلمی کی خصوصیات : 32 21
28 ختم ِ بخاری شریف 33 1
29 اسماء گرامی طلباء شریک دورۂ حدیث شریف ١٤٣١ ھ/ 34 1
30 وفیات 40 1
31 تربیت ِ اَولاد 41 1
32 بچوں کی تعلیم و تربیت کے مدارج اَور اُس کے طریقے : 41 31
33 نماز روزہ اَور اچھی عادتیں سِکھلا نا عورتوں پر لازم ہے : 42 31
34 اُمت ِمسلمہ کی مائیں 43 1
35 حضرت زینب بنت ِ جحش رضی اللہ عنہا 43 34
36 نزولِ حجاب 43 34
37 فائدہ : 44 34
38 عبادت اَور تقوی : 45 34
39 مسجد خانقاہ ِ سراجیہ میں منعقدہ رُوح پرور تقریب کی رُوئیداد 46 1
40 اِسلام کی اِنسانیت نوازی 51 1
41 پڑوسیوں کا خیال : 51 40
42 ایک اَور مرزا غلام اَحمد قادیانی! 53 1
43 بقیہ : اِسلام کی اِنسانیت نوازی 58 40
44 گلد ستہ اَحادیث 59 1
45 بقیہ : تربیت ِاَولاد 60 31
46 شب براء ت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کن کاموں سے بچنا چاہیے 61 1
47 دینی مسائل 62 1
48 ( قَسم کھانے کا بیان ) 62 47
49 مختلف کاموں کے بارے میں قَسموں کے ضابطے : 62 47
50 اَخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter