ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2010 |
¾اكستان Ù |
|
دینی مسائل ( قَسم کھانے کا بیان ) مختلف کاموں کے بارے میں قَسموں کے ضابطے : (١) قسموں کا دَارو مدار عرف و رواج پر ہے یعنی جب ہم کوئی لفظ بولتے ہیں تو رواج میں اِس کا جو معنی معروف ہو اُس کا اعتبار ہوتا ہے اگرچہ لُغت میں یا شریعت کی اِصطلاح میں اُس کا اپنا معنی مقابلتًا عام تر ہو مثلاً جب کسی نے قسم کھائی میں سری نہ کھاوں گا تو لُغت میں سری کا لفظ عام ہے جو گائے بکری اُونٹ چڑیا اَور مرغی سب کی سری کو شامل ہے لیکن چونکہ رواج میں کھانے میں بکری یا گائے کی سری معروف ہے اِس لیے قَسم صرف گائے یا بکری کی سری مراد ہوگی ،چڑیا اَور مرغی کی سری مراد نہیں ہوگی لہٰذا اگر بکری کی سری کھائے گا تو قَسم ٹوٹے گی اَور اگر چڑیا یا مرغی کی سری کھائے گا توقَسم نہیں ٹوٹے گی۔ (٢) اَلبتہ بولے گئے لفظ عام کے کسی ایک خاص فرد کی نیت کی ہو تو قَسم میں پھر وہی فرد مراد ہوگا مثلاً سری بول کر مرغی کی سری کی نیت کی ہوتو قَسم میں مرغی کی سری مراد ہوگی اَور مرغی کی سری کھانے سے قَسم ٹوٹے گی بکری کی سری کھانے سے قَسم نہیں ٹوٹے گی۔ (٣) قَسم کے جملہ سے جو غرض رواج میں معروف ہو قَسم میں اُس کا اعتبار صرف اُسی وقت ہوگا جب وہ لفظ کے معروف معنی کے موافق ہو۔ اَور اگر وہ غرض معروف معنی سے مختلف ہو تو اُس کا اعتبار نہیں ہوتا مثلاً کسی نے قَسم کھائی کہ دروازے سے باہر نہ نکلوں گا تو رواج میں اِس سے جو غرض معروف ہے وہ یہ ہے کہ گھر میں رہوں گا اَور کسی بھی طریقے سے باہر نہ نکلوں گا لیکن اگر یہ شخص چھت پر سے پھلانگ جائے تو قَسم نہیں ٹوٹے گی کیونکہ دروازے کا جو اپنا معروف معنی ہے چھت کا مفہوم اِس میں شامل نہیں ہے بلکہ اِس سے مختلف ہے۔ (٤) جب رواج میں کسی لفظ یا جملہ کا معنی مجازی معروف ہو اَور معنی حقیقی رائج نہ ہو تو قسم میں معنی مجازی مراد ہوتا ہے حقیقی معنی نہیں مثلاً قسم کھائی کہ تیرے گھر میں قدم نہ رکھوں گا۔رواج میں قدم نہ رکھنے کا معنی مجازی یعنی داخل نہ ہونا معروف ہے لہٰذا قَسم میں وہی مراد ہوگا اَور گھر کے باہر کھڑے ہو کر محض ایک قدم اَندر رکھنے سے قَسم نہیں ٹوٹے گی بلکہ کسی طریقے سے اَندر داخل ہونے سے قَسم ٹوٹے گی۔ (جاری ہے)