ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2010 |
اكستان |
|
اَور اہلیت ہے تو ٹھیک ہے ورنہ نہیں ۔اَور آج ہمیں خوشی ہے اَور ہمیں فخر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت رحمہ اللہ کو اَولاد دی الحمد للہ باصلاحیت دی اَور ہم یہ دُعاء کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اِس خانقاہ کے فیض کو اِسی خاندان میں جاری و ساری رکھے، ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں گے اَور ہمیں خوشی ہوگی۔ ہمارے صاحبزادہ عزیز احمد صاحب، صاحبزادہ خلیل احمد صاحب، صاحبزادہ رشید احمد صاحب، صاحبزادہ سعید احمد صاحب، صاحبزادہ نجیب احمد صاحب اَور جہاں تک میرا ذاتی تعلق ہے وہ یہ ہے کہ ایک باپ کو اپنی اَولاد کے لیے جو فکر دامن گیر ہوتی ہے میں نے وہی فکرمندی اپنے اَندر پائی ہے اَور میں خود کو اِس خاندان کا ایک فرد تصور کرتا ہوں۔ میرے پاس کسی نے موبائل پر میسج بھیجا کہ آپ دُوسری مرتبہ یتیم ہوگئے ہیں اُس نے یہ ٹھیک سمجھا اَور مجھے یہ تعلق میرے والد ِ محترم رحمہ اللہ کی طرف سے منتقل ہوا۔ ہم جس محاذ پر کام کررہے ہیں یہ طوفانوں کا میدان ہے میں ہرجگہ یہ گواہی دُوں گا کہ جب بھی ہماری طرف کوئی طوفان آنے لگا تو حضرت رحمہ اللہ اُس طوفان کے سامنے پہاڑ تھے تو پھر ہم کیوں نہ کہیں کہ ہم نے اِتنی بڑی متاع کھودی ہے وہ میرے لیے اِتنی بڑی متاع تھے میں اِتنی بڑی متاع سے محروم ہوا ہوں لیکن بہرحال ہمارے صاحبزادگان کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے اللہ تعالیٰ نے ہمارے حضرت کو ایسی طاقت دی تھی کہ حضرت نے اِس صحراء میں جو دُنیا کی محبت اَورفریفتگی جمع کررکھی ہے اُس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ بہرحال اَب یہ آپ کا امتحان ہے اَور آپ کے رویوں پر دارمدار ہے کہ یہ حضرت خوب سے خوب حالت پر برقرار رہیں پہلے اپنے گھر میں بھائیوں میں اَور خاندان کے لوگ ایک دُوسرے کا سہارا بنیں ایک دُوسرے سے محبت کا تعلق قائم رکھیں پورے ماحول کو سنبھالیں۔ کل میں ایک کتاب کا مطالعہ کررہا تھا جس میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا اَثر منقول تھا حدیث تو لمبی ہے اُس کا ایک ٹکڑا ہے اُس نے مجھے بہت متاثر کیا، فرمایا مَا تَکْرَھُوْنَ فِی الْجَمَاعَةِ خَیْرلَّکُمْ مِّمَّا تُحِبُّوْنَ فِی الْفُرْقَةِ جماعت کے اَندر کوئی ناپسندیدہ چیز اکیلے ہونے کی حالت میں پسندیدہ چیز سے بہتر ہوتی ہے یعنی ساری خیر جماعت کے ساتھ وابستہ رہنے کی صورت میں ہی ہے۔ میں آج جب جمعہ کی نماز میں حاضر ہوا تو مجھے بتایا گیا کہ حضرت کے خلفاء کے مشورہ سے خصوصًا حضرت کے بڑے خلیفہ حاجی عبد الرشید صاحب جو حضرت کے ہم عصر بھی ہیں اَور حضرت کے شانہ بشانہ بھی