ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2010 |
اكستان |
|
ہے یہ حضرت کا اِخلاص تھا جو آپ نے اپنے نصب العین، اپنے مشن اَور کاز کے ساتھ ثابت کرکے دِکھادیا اَور حضرت نے کس کس طرح لوگوں کو کھینچ کھینچ کر اپنے رب کے ساتھ ملایا اپنے رب کے ساتھ مخلوق کا رشتہ جوڑنے میں حضرت کا کتنا عظیم کردار ہے جو آج ہر شخص اپنی آنکھ سے دیکھ سکتا ہے۔ میرے محترم دوستو! ہمارا عقیدہ اَور ایمان ہے کہ دُنیا میں جو بھی آیا جانے کے لیے آیا ہمیشہ ہمیشہ یہاں رہنے کے لیے کوئی نہیں آیا۔ کتنے کتنے عظیم لوگ دُنیا میں آتے رہے اَور جاتے رہے اَور اَکابر کی ساری زندگی کی تعلیم و تربیت جو اُنہوں نے ہمیں دی ہے آج اُس پر ہماری نظر نہیں رہی کہ اُنہوں نے ہمیں کیا سمجھایا۔ اللہ رب العزت نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت کو جو تعلیم دی وہ ہم سب کے لیے تعلیم ہے اَور ہمارے اَکابر نے بھی ہمیں وہی تعلیم دی ہے۔ رسول اللہ ۖ اَور تمام اَنبیاء کرام علیہم السلام اپنی اپنی اُمتوں کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نہیں رہے، موت کا یہ پردہ بہرحال درمیان میں حائل ہوگیا اَور ایک جدائی درمیان میں آئی، اگر ہم اپنے اَکابر کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں اَور اُن کی عقیدت کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو پھر جس نصب العین کے ساتھ حضرت رحمہ اللہ وابستہ تھے تو ہم بھی اُسی نصب العین کے ساتھ وابستہ رہیں۔ اَب اگلی بات یہ ہے کہ ہم حضرت رحمہ اللہ کی رُوح کا تصور کریں کہ حضرت ہمارے اُوپر بہت بڑا بوجھ چھوڑگئے ہیں کہ جس چیز پر اُنہوں نے ہمیں کھڑا کیا ہے یہ ہمارا اِمتحان ہے کہ ہم اُس چیز پر قائم رہتے ہیں یا نہیں؟ اَب ہماری یہ ذمّہ داری ہے کہ ہم اِس سلسلہ کو آگے چلائیں اِس کو قائم رکھیں جب بھی اِس قسم کے اَکابر دُنیا سے جاتے ہیں تو پھر پوری جماعت میں یہ فکر دامن گیر ہوجاتی ہے کہ اُن کا جانشین کون ہوگا، اِس کام کو کون سنبھالے گا، اِس نظم کو کون سنبھالے گا؟ وَاِذِ ابْتَلٰی اِبْرَاہِیْمَ رَبُّہ بِکَلِمَاتٍ فَاَتَمَّھُنَّ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ قَالَ لَایَنَالُ عَھْدِی الظَّالِمِیْنَ ۔ قرآنِ کریم کی اِس آیت میں ایک زرّیں اُصول بیان کیا گیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کا امتحان لیا اَور وہ اُس امتحان میں پورے اُترے تو اللہ تعالیٰ نے اُن کو عظیم الشان مرتبۂ امامت عنایت فرمایا اور فرمایا اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا تو ابراہیم علیہ السلام نے بتقاضۂ بشریت فرمایا وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ تو جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا لَایَنَالُ عَھْدِی الظَّالِمِیْنَ نااہل ہمارے عہد کے قریب بھی نہیں آسکتے۔ ہمارے اَکابر نے اپنی زندگی میں اِسی اُصول پر عمل کیا محض خاندانی خلافت پر عمل نہیں کیا اگر صلاحیت