ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2010 |
اكستان |
|
قائد ِ جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب دامت برکاتہم کا بیان اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الرُّسُلِ وَخَاتَمِ الْاَنْبِیَائِ اَمَّابَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔ وَمَا مُحَمَّد اِلَّا رَسُوْل قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ أَفَاِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰی اَعْقَابِکُمْ وَمَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیْئًا وَّسَیَجْزِی اللّٰہُ الشَّاکِرِیْنَ ۔ صَدَقَ اللّٰہُ الْعَظِیْمُ ۔ حضرات علماء کرام، قبلہ حضرت صاحب رحمہ اللہ کے تمام خلفاء اَور متوسلین و معتقدین! حضرت صاحب رحمہ اللہ کا وجودِ مسعود ہمارے لیے ایک بہت بڑا گھنا سایہ تھا آج وہ سایہ ہمارے سروں سے اُٹھ چکا ہے۔ تاریخ میں اَنبیاء علیہم السلام، اُن کی سرپرستی اَور قیادت سے اُمت محروم ہوئی ہے اَور یہ محرومی ہر زمانے میں اُمت کا بھی بہت بڑا خسارہ تصورکیاجاتا تھا ،آج حضرت رحمہ اللہ کی رحلت ایک بار پھر پوری اُمت کے لیے ایک بہت بڑا خسارہ ہے پوری اُمت کے لیے ایک بہت بڑادَھچکا ہے اَور اِس کے سوا ہم کربھی کیا سکتے ہیں کہ اپنے رب سے صبر کی دُعاء کریں اللہ سے تسلی مانگیں اللہ رب العزت کے علاوہ اِن غمزدہ دِلوں کو اَور کوئی تسلی نہیں دے سکتا۔ حضرت کی جدائی سے ان کے متعلقین و متوسلین کو جو صدمہ پہنچا ہے اس صدمہ کا اِزالہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت و مہربانی سے ہی کر سکتا ہے۔حضرت کا یہ سانحۂ اِرتحال صرف اِس خانقاہ کا نقصان نہیں ہے صرف حضرت کی اَولاد کا نقصان نہیں ہے بلکہ یہ پوری اُمت کا نقصان ہے اَور کل کے جنازے کے اجتماع میں لوگوں کا یہ ہجوم اَور تاحدِّ نظر اِنسانوں کے سر ہی سر، یہ خالصتًا حضرت سے عقیدت اَور رُوحانی تعلق ہی تھا کہ دُنیا میں اِس تعلق سے بڑھ کر اَور کوئی تعلق نہیں ہے۔ حضرت نے دُنیا کی یہ محبت کیسے حاصل کی یہ قبولیت کیسے حاصل کی یہ جہاں جہاں کی محبتیں اَور رُوحانیت اَور یہ تمام عالَم کا غمگین ہونا آخر یہ کیا چیز تھی؟ یہ خاموش مبلغ جنہوں نے کبھی کسی جلسے میں خطاب نہیں کیا ،کبھی پند و نصیحت کی محفلیں نہیں جمائیں اِس کے باوجود اُن کا یہ خاموش پیغام کس طرح لوگوں کے دِلوں کے اَندر جاہ گزیں ہوا ،حضرت نے اپنے احساسات کو کس طرح لوگوں کے دِلوں کی گہرائی تک پہنچایا ۔یقینًا یہ اللہ کی دَین تھی اللہ نے آپ کے اَندر جو صلاحیت پیدا کی یہ اُسی کا اَثر تھا اَور آج دُنیا جو غم میں ڈوبی ہوئی نظر آرہی