ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2007 |
¾اكستان Ù |
|
کھانے پر بٹھایا۔ روٹی نمک اور دال آئی تو حضرت عقیل نے دریافت کیا مَاھُوَ اِلَّا مَااَرٰی بس یہی ہے جو میں دیکھ رہا ہوں (یا اور کچھ بھی آئے گا) جواب دیا گیا کہ بس یہی ہے۔ فرمانے لگے کہ پھر میرا قرض اَدا کردوگے۔ دریافت کیا آپ کا قرض کتنا ہے؟ فرمایا : چالیس ہزار۔ حضرت علی نے عرض کیا میرے پاس تو نہیں ہیں لیکن آپ ٹھہریں حتّٰی کہ میرا وظیفہ آئے وہ چار ہزار ہوگا میں وہ آپ کو دے دُوں گا۔ حضرت عقیل نے فرمایا : بُیُوْتُ الْمَالِ بِیَدِکَ وَاَنْتَ تَسُوْفُنِیْ بِعَطَائِکَ۔تمام بیت المال تو تمہارے ہاتھ میں ہیں اور کہتے یہ ہو کہ عنقریب تمہارا وظیفہ آئے گا تو دوگے۔ حضرت علی نے عرض کیا کہ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو مسلمانوں کے مال دے دُوں حالانکہ اُنہوں نے مجھے امین بنارکھا ہے۔ حضرت عقیل نے فرمایا کہ اچھا پھر میں معاویہ کے پاس جاتا ہوں۔ حضرت علی نے جانے کی اِجازت دے دی، وہ حضرت معاویہ کے پاس چلے گئے۔ اُن کے پاس جانے کی وجہ بھی صاف تحریر ہے کہ وہ حضرت معاویہ کے سگے خالو تھے۔ فاطمہ بنت عتبة بن ربیعہ اِن کی اہلیہ تھیں ۔ وَاِنَّمَا سَارَ اِلٰی مُعَاوِیَةَ لِاَنَّہ کَانَ زَوْجَ خَالَتِہ فَاطِمَةَ بِنْتِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِیْعَةَ ۔(اُسد الغابہ ج٣ ص ٤٢٣) جب حضرت معاویہ کے پاس پہنچے تو حضرت معاویہ نے اِن سے پوچھا اے ابویزید آپ حضرت علی اور اُن کے ساتھیوں کو کس حال میں چھوڑکر آئے ہیں؟ اِنہوں نے جواب دیا : کَاَنَّھُمْ اَصْحَابُ مُحَمَّدٍ اِلَّا اَنِّیْ لَمْ اَرَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْھِمْ وَکَأَنَّکَ وَاَصْحَابَکَ اَبُوْسُفْیَانَ وَاَصْحَابُہ اِلَّا اَنِّیْ لَمْ اَرَ اَبَاسُفْیَانَ فِیْکُمْ ۔ (اُسد الغابہ ج ٣ ص ٤٢٣) گویا وہ جنابِ رسول اللہ ۖ کے صحابہ ہیں سوائے اِس کے کہ اُن میں میں نے جنابِ رسول اللہ ۖ کو نہیں دیکھا اور تم اور تمہارے ساتھی گویا ابوسفیان اور اُن کے ساتھی ہو سوائے اِس کے کہ تم میں میں نے ابوسفیان کو نہیں دیکھا۔ (یعنی عمل میں عزیمت و رُخصت کا فرق نظر آرہا ہے) اور ایسی حالت کیوں نہ ہوتی جبکہ حضرت علی خود عشرہ مبشرہ میں تھے اور آپ کا ساتھ دینے والوں میں