ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2007 |
¾اكستان Ù |
|
پیش کیا پھر آپ کا سر مبارک دیکھنے لگیں (آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ بخاری ص ٤٠٣) آپ کو نیند آگئی اور ہنستے ہوئے بیدار ہوئے۔ عرض کیا کس وجہ سے ہنس رہے ہیں؟ اِرشاد فرمایا میری اُمت کے لوگ مجھے دیکھائے گئے خدا کی راہ میں جہاد کے لیے جارہے ہیں، اُس سمندر کی پوری گہرائی میں جو تخت نشین بادشاہوں کی طرح ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ میرے لیے دُعاء فرمادیجیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اُن میں شامل فرمادے۔ آپ نے اِن کے لیے دُعاء فرمادی۔ پھر آپ نے سر مبارک رکھا، پھر ہنستے ہوئے بیدار ہوئے۔ میں نے عرض کیا کس لیے ہنس رہے ہیں؟ جواب میں وہی جملے اِرشاد فرمائے جو پہلے اِرشاد فرمائے تھے۔ وہ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا اے رسولِ خدا! میرے لیے دُعاء فرمادیجیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اُن میں کردے۔ اِرشاد فرمایا تم پہلے والے لوگوں میں ہو۔ اِنہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں (اُن کی اہلیہ بنت ِقرظہ، بخاری شریف ص ٤٠٣) کے ساتھ سمندری سفر جہاد کیا۔ جب خشکی پر اُتریں تو سواری سے گرگئیں اور وفات ہوگئی۔ (بخاری شریف ج ١ ص ٣٩١) عباسی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بدگمان کرنے کے لیے رَطب و یابس ہر قسم کے قصے اِس طرح لکھے گویا وہ مستند ترین ہیں اور تاریخ دانی کے باوجود اِنہوں نے ہر واقعہ کا رُخ موڑا ہے۔ اِسے حضرت علی کے خلاف بنادیا ہے اور سیاق و سباق اپنی طرف سے لکھ کر کچھ کا کچھ بنادیا ہے۔ مثلاً وہ لکھتے ہیں : اِس حقیقت سے اِنکار کا اِمکان نہیںکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سگے بڑے بھائی حضرت عقیل رضی اللہ عنہ جو بزرگِ خاندان تھے، وہ اپنے بھائی سے علیحدہ ہوکر اِن کے مد مقابل حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس چلے گئے۔ (خلافت ِ معاویہ ص ٥٩) اِس سے پڑھنے والے پر وہی اثر مرتب ہوگا جو عباسی صاحب چاہتے ہیں اور جو مضمون اِنہوں نے آگے پیچھے (سیاق و سباق) بڑھایا ہے وہ ذہن کو ایسا جکڑے گا کہ پڑھنے والے کا خیا ل تحقیق ِحال کی طرف نہ جاسکے گا۔ واقعہ یہ تھا کہ حضرت عقیل بن ابی طالب مقروض ہوگئے۔ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس کوفہ تشریف لائے۔ حضرت علی نے اِنہیں احترام کے ساتھ ٹھہرایا۔ اپنے صاحبزادے حضرت حسن کو حکم دیا، اُنہوں نے اِنہیں جوڑا پیش کیا کہ کپڑے تبدیل کرلیں۔ شام کے وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھ