ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2007 |
¾اكستان Ù |
|
اُم المؤمنین اُم حبیبہ (ہمشیرہ حضرت معاویہ) کی روایت دی ہے کہ جناب ِرسول اللہ ۖ نے جب حضرت معاویہ کو اِنہیں ملنے والی اِمارت کی اطلاع دی تو حضرت اُم حبیبہ نے دریافت کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ میرے بھائی کو یہ دیں گے۔ تو قَالَ نَعَمْ وَفِیْھَا ھَنَات وَھَنَات وَھَنَات ۔ (ازالة الخفاء ج٢ ص ٢٧٨) آپ نے اِرشاد فرمایا ہاں اور اُس میں کمزوریاں ہوں گی، کمزوریاں ہوں گی، کمزوریاں ہوں گی۔ کمزوریاں یہی تھیں کہ وہ رُخصتوں پر عمل پیرا رہے۔ یہ کمزوریاں قابل ِعفو تھیں، رسول اللہ ۖ نے دُعاء فرمائی : اَللّٰھُمَّ عَلِّمْہُ الْکِتَابَ وَمَکِّنْ لَہ فِی الْبِلَادِ وَقِہِ الْعَذَابَ ۔ (ازالة الخفاء ج٢ ص ٢٧٨ ) خداوندا اِنہیں اپنی کتاب کا علم دے، اِن کی حکومت شہروں میں جمادے اور اِنہیں عذاب سے بچائے رکھ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمة اللہ علیہ نے ازالة الخفاء میں تحریر فرمایا ہے : باز اَز استقلال ِمعاویہ ببادشاہی خبرداد۔ (ازالة الخفاء ج ٢ ص ٢٧٧) پھر جنابِ رسول اللہ ۖ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی بادشاہت کی خبردی۔ لیکن یہ بادشاہت مذموم نہیں ہے کیونکہ یہ خلافت اور بادشاہت کے درمیان اِسلامی طریقہ پر اِمارت تھی۔ جناب ِرسول اللہ ۖ نے خواب میں دیکھا تھا اور پسند فرمایا تھا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے جو طرزِ حکومت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اِختیار فرمایا اُسے دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ناگواری کا اِظہار فرمایا تو حضرت معاویہ نے اِس کی بہت معقول وجہ بتلائی، اِس پر اُنہوں نے بھی اِسے مان لیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دَور میں بھی وہ اِسی طرح رہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے جنابِ رسول اللہ ۖ اپنی رضاعی رشتہ سے خالہ اُم حرام بنت ِملحان رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف فرما تھے۔ اُنہوں نے کھانا