ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2007 |
¾اكستان Ù |
|
تھے اور جنہوں نے اِن سے جنگ کی ہے وہ مجتہد مخطی تھے اور یہ بہت سے اہل ِ کلام اور اہل ِ رائے کا قول ہے۔ امامِ اعظم ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد رحمة اللہ علیہم کے شاگردوں کا اور دُوسروں کا بھی۔ (منہاج السنة ج١ ص ١٤٤) امام احمد وغیرہ نے حضرت علی کی خلافت پر حضرت سفینة کی حدیث سے استدلال فرمایا ہے کہ جناب ِرسول اللہ ۖ نے اِرشاد فرمایا کہ خلافت ِنبوت تیس سال رہے گی پھر بادشاہی حکومت ہوجائے گی اور یہ حدیث ابوداو'د وغیرہ اصحاب ِسنن نے روایت کی ہے۔ (منہاج السنة ج ١ ص ١٤٤) وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ عَلِیّ ھُوَ الْمُصِیْبُ وَحْدَہ وَمُعَاوِیَةُ مُجْتَہِد مُّخْطِیئ کَمَا یَقُوْلُ ذٰلِکَ طَوَائِفُ مِنْ اَھْلِ الْکَلَامِ وَالْفُقَہَآئِ اَھْلِ الْمَذَاہِبِ الْاَرْبَعَةِ ۔ (منہاج السنة ج٢ ص ٢١٩) اور اِن ہی میں وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ فقط حضرت علی ہی مصیب (صحیح راہ پر) تھے اور حضرت معاویہ مجتہد مخطی تھے جیسے کہ اہل ِ کلام (اہل ِ عقائد) کے بہت سے طبقے اور مذاہب ِاربعہ (حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی) کے فقہاء کہتے ہیں۔ آپ نے غور کیا ہوگا کہ ابن ِ تیمیہ خلافت ِعلی رضی اللہ عنہ کو منصوص مانتے ہیں اور یہ بتلارہے ہیں کہ ہر چہار مذہب کے فقہاء بھی یہی مانتے ہیں۔ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلَالُ ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی اِمارت خلافت علیٰ منہاج النبوة اور بادشاہت کے درمیانی طرز کی تھی۔ خلفاء اربعہ کی حیات میں رُخصت پر عمل نہیں ملتا، وہ عزیمت پر عمل پیرا رہے ہیں۔ اِس پر آئندہ آنے والے اَدوار میں عمل کرنا ہر کسی کے بس کا نہیں تھا سوائے حضرت ابن ِزبیر اور حضرت عمر بن عبد العزیز کے اور مثال نہیں ملتی کہ اِس طرز پر رہا ہو۔ حضرت معاویہ صحابی رسول اللہ ۖ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اِنہیں بعد کے اَدوار کے لیے مثال بنادیا کہ اِس پر چل سکیں اور ہدایت پر بھی رہیں۔ خیر القرون گزررہا تھا ،بعد کے دَور آنے والے تھے۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب نے طبرانی اور ابن ِعساکر کے حوالہ سے اُم المؤمنین حضرت عائشہ اور