ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2007 |
¾اكستان Ù |
|
نے اِطاعت قبول نہیں کی۔ وہاں اِن کے احکام جاری نہیں ہوئے مگر اہل ِشام کا اِطاعت قبول نہ کرنا دُرست نہیں تھا۔ وہ جو باتیں پیش کرتے تھے وہ مرجوح (کم وزن کی) تھیں اِس لیے اِنہیں باغی کہا گیا۔ اگر وہ بھی اِطاعت قبول کرلیتے تو نقشہ اور ہوتا اور یہ مُفسد قبائل کے سرغنے جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر مدینہ شریف چڑھائی کرکے آئے تھے ناکام ہوجاتے۔ اِس صورت میںحضرت معاویہ خود حضرت علی کے معاون ہوتے اور مشیر۔ لیکن اُنہوں نے دُوسرا راستہ اختیار کیا جس کے بعد جنگ کے سوا کوئی صورت نہیں رہی، اور اِس کی ذمّہ داری دُوسرے محاربین پر ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ پر نہیں کیونکہ بلاشبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت صحیح منعقد ہوئی تھی۔ حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی، اَشاعرہ اور ماتریدیہ سب یہی کہتے ہیں کہ آپ کی خلافت دُرست تھی۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب بحوالۂ نووی تحریر فرماتے ہیں : وَاَمَّا عَلِیّ فَخِلَافَتُہ صَحِیْحَة بِالْاِجْمَاعِ وَکَانَ ھُوَ الْخَلِیْفَةُ فِیْ وَقْتِہ وَلَاخِلَافَةَ لِغَیْرِہ ۔ (قُرة العینین ص ١٤٤) اور حضرت علی، تو اِن کی خلافت بالاجماع صحیح ہے۔ اپنے وقت میں صرف وہی خلیفہ تھے اور اِن کے علاوہ کسی کی کوئی خلافت نہ تھی۔ اور ابن ِ تیمیہ متبعین ِائمہ اربعہ کا مسلک بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : وَطَائِفَة رَابِعَة تَجْعَلُ عَلِیًّا ھُوَ الْاِمَامَ وَکَانَ مُجْتَھِدًا مُّصِیْبًا فِی الْقِتَالِ وَمَنْ قَاتَلَہ کَانُوْا مُجْتَھِدِیْنَ مُخْطِئِیْنَ وَھٰذَا قَوْلُ کَثِیْرٍ مِّنْ اَھْلِ الْکَلَامِ وَالرَّأْیِ مِنْ اَصْحَابِ اَبِیْ حَنِیْفَةَ وَمَالِکٍ وَ الشَّافِعِیِّ وَاَحْمَدَ وَغَیْرِہِمْ ۔ (منہاج السنة ج ١ ص ١٤٤) وَاحْتَجَّ اَحْمَدُ وَغَیْرُہ عَلٰی خِلَافَةِ عَلِیٍّ بِحَدِیْثِ سَفِیْنَةَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَکُوْنُ خِلَافَةُ النُّبُوَّةِ ثَلاثِیْنَ سَنَةً ثُمَّ تَصِیْرُ مُلْکًا۔وَھٰذَا الْحَدِیْثُ قَدْرَوَاہُ اَھْلُ السُّنَنِ کَاَبِیْ دَاودَ وَغَیْرِہ ۔ (منہاج السنة ج١ ص ١٤٤) اور علماء کی چوتھی جماعت حضرت علی ہی کو امام قرار دیتی ہے اور وہ لڑائی میں مجتہد مصیب