ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2005 |
اكستان |
|
''میرا علم نہایت ہی محدوداورناقص ہے۔ سو میں یہ دعوٰی کرنے کی پوزیشن میں نہیںکہ 8اکتوبر کو ہمارا مقدر بن جانے والی قیامت کا سبب کیا تھا؟ کیا اسے صرف ارضیاتی تبدیلیوں اور سطح ارضی کے میلوں نیچے بپا کیمیائی مادوں کی کشمکش یا پلیٹوں کی حرکیات کا نتیجہ سمجھ لیا جائے ؟ اگر اِس کائنات کا کوئی خالق ہے تو کیا اُس کی قدرت ، تخلیق کے ساتھ ہی ساقط ہو گئی ہے؟ بحیثیت ِمسلمان میرا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق بھی ہے، خبیر ونظیر بھی اورقہار وجبار بھی مجھے اِس میں ذرہ برابر شبہہ نہیں کہ قوموں کے ا عمال اوراُن کے حکمرانوں کی روش عذاب و ثواب کا سبب بھی بن جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے کتاب حکیم میں اپنی اس سنت کا تواتر سے ذکر کیا ہے ،سائنس اورٹیکنالوجی کے پجاریوں کی اِس دنیا میں مجھے پلیٹوں والی تھیوری ردکرتے ہوئے ڈرلگتا ہے لیکن مجھے کامل یقین ہے کہ اگر 8اکتوبر کا تباہ کن زلزلہ کسی اَرضیاتی محرک کا نتیجہ تھاتو بھی اِسے کہیں نہ کہیں سے اِذن ضرور عطا کیا گیا ہوگا، حکم ضرور ملا ہوگا۔ کچھ عجیب وغریب سی مماثلتیں ، کچھ ناقابل فہم سی مشابہتیں ،کچھ پیچ در پیچ اسرار ، کچھ حیرت انگیز بھید اور کچھ نیندیں اُڑادینے والے خیالات ، گزشتہ کئی دنوں کئی راتوں سے میرے ذہن میں سائیں سائیں کررہے ہیں، میرے دل میں صحرائی بگولوں کی طرح رقص کر رہے ہیں اور میں نہیں سمجھ پارہا کہ افغانستان کے کوہساروں اور گھاٹیوں میں رقم ہونے والی تاریخ ٹھیک چار سال بعد کشمیر اورسرحد کے پہاڑوں اوروادیوں میں کیوں دہرائی جارہی ہے؟بالکل ایسے جیسے افغانوں پر گزرجانے والی قیامت کسی نے فیکس مشین میں ڈال کر پاکستان بھیج دی ہو۔ نائین الیون کے فوراًبعد امریکہ نے کرخت لہجے میںسنگین دھمکیاں دے کر ہمیں اِس بے ننگ ونام جنگ کا ہراول دستہ بنالیا جو کسی طور ہماری جنگ نہ تھی۔ستم یہ ہوا کہ ہم نے اپنی اس مجبوری کو حکمت کی قبائے خوش رنگ پہنا دی ۔ اِسے اپنے رضاکارانہ اورخوشدلانہ فیصلے کا نام