ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2005 |
اكستان |
|
للمشتری ان یبیع المبیع الآخر قبل قبضہ ان کان عقارا (مادہ ٢٥٣مجلہ) واشار بقولہ للمشتری ان یبیع الخ الی ان بیعہ جائز لکن لایلزم من جواز البیع نفاذہ ولزومہ فانھما موقوفان علی نقد الثمن او رضی البائع والا فللبائع ابطال بیع المشتری (شرح مجلہ خالد اتاشی ص١٧٣) (٢)قیمت کی ادائیگی سے پہلے جائیداد آگے فروخت کرنا : آدمی مثلاً چھ مہینے کے اُدھار یعنی قیمت کی ادائیگی کی مہلت پر ایک زمین خریدتا ہے اوربیعانہ ادا کردیتا ہے ۔ پھر اِسی مہلت کے عرصہ میں اِسی زمین کو آگے فروخت کردیتا ہے کبھی نقد اورکبھی کم مدت کے اُدھار پر اورحاصل شدہ رقم سے قیمت ادا کرتا ہے اورنفع بھی بچاتا ہے ، یہ صورت جائز ہے ۔ بیعانہ کا حکم : کوئی زمین اُدھارخریدی اورخریدار نے بیعانہ یا ٹوکن کے طورپر کچھ قیمت کا کچھ حصہ سودے کے وقت ادا کیا تو جائز ہے ۔ لیکن یہ شرط کرنا کہ اگر خریدارنے باقی قیمت کی بروقت ادائیگی نہ کی یا وہ ادائیگی کرنے سے انکار کردے تو اِس کا بیعانہ بائع ضبط کرلے گا اوراگر بائع فروخت پر قائم رہنے سے انکار کردے تو وہ دیے ہوئے بیعانہ کا دُگنا واپس کرے گا تو یہ جائز نہیں ۔ بیعانہ کی ضبطی کے ناجائز ہونے کی دلیل یہ ہے : عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ۖ نَھٰی عَنْ بَیْعِ الْعِْربِانِ (مؤطا امام مالک) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے عربان (یا عربون ) کی فروخت سے منع فرمایا ۔ جس کی صورت یہ ہے کہ زید بکر سے کوئی سودا مثلاً ایک ہزار روپے میں خریدے اوربکر کو ایک سوروپے دے کر کہے کہ یہ رکھ لو ۔ اگر میں نے سودا نہ لیا بلکہ واپس کیا تو یہ سوروپے تمہارے ہیں تم اِن کو ضبط کرسکتے ہو۔ دُگنا بیعانہ واپس کرنے کے ناجائز ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ مالی جرمانہ ہے جو جائز نہیں ۔ علاوہ ازیں یہ ظاہری صورت میں سود ہے۔