Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2004

اكستان

61 - 66
جب کبھی اسلام میں تحریف کرنے کی کوشش کی گئی تو علماء حق نے اس کی سرکوبی کے لیے تن من کی بازی لگائی علماء کو بھوکا پیاسا رہنا جیل کی کال کوٹھڑیوں میں بھی جانا پڑا۔ ان سب کو برداشت کیا لیکن دین میں کوئی آنچ نہیں آنے دی۔
	تاریخ کی کتابیں علمائے حق کی قربانیوں کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔چنانچہ امام اعظم امام ابوحنیفہ کا جنازہ جیل سے اُٹھا (تذکرہ النعمان ص ٣٢٧ ) امام مالک  کی ننگی پیٹھ میں وقت کی حکمرانوں کی بات نہ ماننے کی وجہ سے بے دردی سے کوڑے برسائے گئے ۔اسی طرح امام احمد بن حنبل  کو خلق قرآن کے مسئلہ میں بے انتہاء سنایا گیا ۔ 
	دوسری طرف ہندوستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں یہاں ایسا وقت آگیا تھا کہ اسلام کاچراغ بجھتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب اکبر بادشاہ نے احکام شریعت کو ختم کرکے نئے احکام جاری کئے تھے۔مثلاً کتے اور خنزیر کی ناپاکی کا حکم دیا گیا ۔شراب کو حلال قرار دیا گیا یہاں تک کہ کلمہ بھی بدل دیا گیا ۔ کلمہ کا دوسرا جز محمد رسول اللہ کی جگہ اکبر خلیفة اللہ پڑھا جانے لگا ۔بادشاہ کو سجدہ کیا جاتا تھا ۔کہاگیا کہ آپ  ۖ کی دین کی عمرایک ہزار سال تھی اب نئے دین کی ضرورت ہے اس دین کا نام توحید الہی رکھا گیا ۔
	لیکن اس سخت وقت میں جس نے دین اسلام کی تجوید کا فریضہ سرانجام دیا وہ کوئی پروفیسر یاسائنسدان نہ تھا بلکہ وہ مسجد اور مدرسہ کی چٹائیوں پر بیٹھ کر کتاب وسنت کا علم حاصل کرنے والا ایک خدا شناس عالم تھا۔جس کو دنیا مجدد الف ثانی کے نام سے جانتی ہے جنہوں نے فتنہ اکبری کا بڑے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور احکامِ شریعت میں کی گئیں بدعات کو ختم کیا (ندائے منبر ومحراب ص ١٣٢)تاریخ کی کتابیں علمائے حق کی قربانیوں کے واقعات سے بھری پڑی ہیں جن کے تذکرہ کے لیے یہ صفحات ناکافی ہیں۔
	لیکن افسوس صد افسوس کہ لوگ آج کل یہ سمجھنے لگے ہیں کہ عالم اورمولوی ایک پیشے کا نام ہے۔مولوی ایک ہلکے طبقے کا نام ہے مگر جب ہم علماء حق کی تاریخ اُٹھاتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ مولویت خدا کے دین کی خدمت کا نام ہے مولویت امام مالک کی حق گوئی کانام ہے مولویت مجدالف ثانی   کی جہد مسلسل کا نام ہے مولویت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی   کی علم و بصیرت کا نام ہے مولویت مولانا مفتی محمود کی قربانی کا نام ہے ۔ مولویت خدا سے روٹھے ہوئے بندوں کود خدا سے ملانے کا نام ہے۔واضح طورپر جان لیجئے کہ ہمارا روحانی رشتہ ان ہی بزرگوں سے ہے ان اسلاف کی اتباع کی وجہ سے خدائے تعالیٰ نے ہمیں بھی دین کی خدمت کے لیے قبول کیا ہوا ہے۔
	ہماری دُعا ہے کہ خدائے تعالیٰ ہمارا حشر بھی اپنے مقربین کے ساتھ فرمائے۔
 احب الصالحین ولست منہم 	لعل اللّٰہ یرزقنی صلاحاً

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
58 اس شمارے میں 3 1
59 حرف آغاز 4 1
60 درس حدیث 6 1
61 حضراتِ انصار سے محبت کا عام اعلان 6 60
62 انصار کے متعلق پیشین گوئی : 6 60
63 حضراتِ انصار کو نصیحت : 7 60
64 حضرت ابو سفیان کامزاج اور حضرت عباس کی دانائی : 7 60
65 فتح کے بعد امن نہ کہ قتل و غارت : 7 60
66 انصار کے خیال کی تردید : 7 60
67 حضرت انصار کا محبت بھرا جواب : 9 60
68 محبت کی تصدیق اورعذر کی قبولیت : 9 60
69 خود شناسی 10 1
70 وفیات 13 1
71 الوداعی خطاب 14 1
72 باعمل مومن کے سواہر انسان خسارے میں ہے : 14 71
73 حق اور مصائب ساتھ ساتھ : 14 71
74 عمل ِصالح کا مطلب : 14 71
75 مثال سے وضاحت : 15 71
76 اشکال کا رفع : 15 71
77 مثال سے وضاحت : 15 71
78 صحبت کے بغیر دین پر عمل کرنا مشکل ہے : 17 71
79 آپ مقصد کی طرف بڑھنا شروع ہوئے ہیں : 18 71
80 آپ کو اپنے کام کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہے : 18 71
81 دینی مدارس اور برطانیہ کا وزیراعظم : 19 71
82 ہوش سے کام لینا ہے جوش سے نہیں : 20 71
83 آغا خانیوں کے ذریعہ فتنہ پھیلایا جارہا ہے : 22 71
84 دینی مدارس ختم ہو گئے تو معتدل طبقہ کی پیداوار بند ہو جائے گی : 22 71
85 فلاح کا مطلب : 23 71
86 دوقسم کے لوگ : 24 71
87 مسلمان ہو یا کافر ہر کسی کے ساتھ خیر کرو : 25 71
88 حج 28 1
89 فرضیت ِحج کی حکمت : 29 88
90 فرضیت ِحج : 30 88
91 حج کی غرض و غایت : 32 88
92 ہدیہ عقیدت 33 1
93 مکتب نتائج الاختبار 34 1
94 طلبۂ دینیہ سے خطاب 44 1
95 بقیہ : الوداعی خطاب 44 71
96 حُسنِ ادب اور اُس کی اہمیت 45 1
97 اُستاذ کامرتبہ : 46 96
98 اُستاذ اور ہر عالم کے حقوق : 48 96
99 اجلال علم وعلماء : 49 96
100 اُستاذ کا لحاظ پہلے لوگوں میں : 50 96
101 عازمینِ حج سے چند گزار شات 53 1
102 حرام مال کا استعمال : 54 101
103 سیر و تفریح کی نیت سے حج کرنا : 55 101
104 حج کے موقع پر اسراف وفضول خرچی : 56 101
105 حج کے دوران بے پردگی : 56 101
106 نماز کی ادائیگی میں لاپرواہی : 56 101
Flag Counter