ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2004 |
اكستان |
|
علماء کا مقام ( مولوی محمد عثمان سلیم ) عن عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہ قال قال رسول اللّٰہ ۖ ان اللّٰہ لایقبض العلم انتزاعا ینتزعہ من العباد ولکن یقبض العلم بقبض العلماء حتٰی اذا لم یبق عالما۔اتخذ الناس رؤسا جھالا فسئلو فافتو بغیر علم فضلوا واضلوا ( بخاری ومسلم بحوالہ مشکٰوة ) ''حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ حضور علیہ الصلٰوة والسلام نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ علم کو بنددوں سے ایسے نہیں اُٹھائے گا بلکہ علم کو علماء کے اُٹھانے کے ساتھ اُٹھا لے گا حتٰی کہ جب (روئے زمین پر ) کوئی عالم نہ بچے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنالیں گے پس جب اِن (جاہلوں ) سے کوئی بات پوچھی جائے گی تو یہ بے علم اس کا جواب دیں گے خود بھی گمراہ ہوں گے اوردوسروں کو بھی گمراہ کریں گے''۔ حدیث بالا میں حضور علیہ الصلوة والسلام نے جس چیز کی خبردی ہے اس کے اثرات ظاہر ہونے شروع ہوگئے ہیںچنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ماضی قریب میں جس تیزی سے علماء اس دنیا سے گئے ہیں ماضی بعید میں شاید اس کی کوئی مثال نہ ملے گی۔یاتو علماء حق شہید ہورہے ہیں یااپنی بیماری کے ایام کاٹ کر داعی اجل کو لبیک کہہ رہے ہیں ۔علمائے حق کے دنیا سے جانے کی وجہ سے جاہل لوگ پیشوابن رہے ہیں۔ چنانچہ ہمارے قاضی ہمارے وزراء حکمران تمام کے تمام علم سے خالی ہیں ۔ اور رُوئے زمین جاہلوں سے بھررہی ہے۔ ایک طرف تو جاہلوں کی تعداد بڑھ رہی ہے دوسری طرف علماء کی تعداد گھٹ رہی ہے اس کے باوجود بعض صلحاء کو حقارت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں حالانکہ یہ بہت نقصان کی بات ہے ایک حدیث میں حضور علیہ السلام کا ارشاد مروی ہے کہ تین شخص ایسے ہیں کہ ان کو خفیف سمجھنے والا منافق ہی ہو سکتا ہے (نہ کہ مسلمان )ایک بوڑھا مسلمان نمبر٢ دوسراعالم ، تیسرا انصاف کرنے والا حاکم ۔ (فضائل تبلیغ ص ٣٤ بحوالہ ترغیب عن الطبرانی ) ایک حدیث میں آپ ۖ کا ارشاد مروی ہے کہ وہ شخص میری اُمت میں سے نہیںہے جو ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے۔ ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے ۔ہمارے علماء کی قدر نہ کرے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے کسی عالم کو اذیت دی اس نے رسول ۖ کو اذیت پہنچائی اور جس شخص نے رسول اللہ کو اذیت پہنچائی اس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچائی ( ندائے منبرومحراب ص ١٢٢ بحوالہ حاکم )تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی فتنہ رونما ہو